Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

موبائل پر گفتگو (بات چیت ) کا اسلامی طریقہ

موبائل پر گفتگو (بات چیت ) کا اسلامی طریقہ
Reference 1170 September 18, 2025 13,176 views
اصل سوالموبائل پر گفتگو (بات چیت ) کا اسلامی طریقہ

موبائل پر گفتگو (بات چیت ) کا اسلامی طریقہ

کہتے ہیں” خط نصف ملاقات ہے” اور موبائل بعض حیثیت سے خط سے بڑھ کر ہے ۔ خط کے ذریعے اپنے متعلقین سے سے حقیقی گفتگو او بات چیت ممکن نہیں ۔ جبکہ موبائل کے ذریعے اپنے متعلقین اور دوست و احباب سے اچھی طرح گفتگو اور بات چیت ہو جاتی ہے ۔ تو اس لحاظ سے موبائل نصف ملاقات سے بڑھ کر ہے ۔ لیکن موبائل بالمشافہہ ملاقات (آمنے سامنے کی ملاقات) کے مانند ہے اور جب موبائل بالمشافہہ ملاقات کے مانند ہے تو ملاقات کے جو اسلامی آداب اور طریقے ہیں، موبائل پر گفتگو میں بھی ملاقات کے انہیں اسلامی طریقوں کی رعایت ضروری ہوگی اور وہی اسلام وآداب اپنانے ہوں گے ۔ آپ پہلے مسلمان ہیں ،بعد میں کچھ اور ۔ لہٰذا زندگی کے ہر موڑ پر اسلامی تہذیب کی رعایت، مذہبی تشخص کا لحاظ اور اسلامی آداب کا خیال رکھنا آپ کی دینی و اخلاقی ذمہ داری ہے ۔

موبائل پر پہلے سلام کون کرے

ملاقات کے اسلامی آداب کی ابتدا”سلام ” سے ہوتی ہے۔ شریعتِ اسلامی کا دو ٹوک فیصلہ ہے : ” السلام قبل الكلام” : یعنی بات چیت کرنے سے پہلے سلام کرو۔ سلام اور اس کے جواب کا حکم خود قرآن کریم سے ثابت ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا (سورہ النساء 86) ترجمہ: جب تم کو کوئی سلام کرے تو اس سے بہتر لفظ جواب میں کہو یا وہی کہ دو۔ دوسری جگہ ارشاد فرماتا ہے: فَإِذَا دَخَلْتُم بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِّنْ عِندِ اللَّهِ مُبَارَكَةً طَيِّبَةً ۚ (سورہ نور آیت 61 ) : ترجمہ: جب تم گھروں میں جاؤں تو اپنوں کو سلام کرو ، اللہ تبارک و تعالی کی طرف سے تحیت ہے، مبارک پاکیزہ۔ مذکورہ دونوں آیات میں سلام کرنے کی ہدایت بھی ہے اور سلام کا جواب بہتر انداز میں لوٹانے کی تلقین بھی ۔ موضوع کی مناسبت سے سلام کے متعلق کچھ احادیث ہیں : (١) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتا دوں کہ جب تم اس پر عمل کرو گے تو آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو گے اور وہ چیز یہ ہے کہ تم آپس میں سلام پھیلاؤ۔ اس حدیث پاک سے سلام کی اہمیت کے ساتھ یہ بھی معلوم ہوا کہ سلام باہمی میں الفت و محبت کا بہترین ذریعہ ہے۔ (٢) معلم کائنات علیہ افضل الصلوات والتسلیمات کا فرمان عالیشان ہے: جو شخص پہلے سلام کرے ورحمت الہی کا زیادہ مستحق ہے ۔ (٣) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: کھانا کھلاؤ او جس کو پہچانتے ہو اسے اور جس کو نہیں پہچانتے ہو اسے سب کو سلام کرو۔ (٤) ہادی عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سوار پیدل کو سلام کرے، چلنے والا بیٹھے ہوئے کو سلام کرے اور تھوڑے زیادہ کو سلام کریں۔ مندرجہ ذیل احادیث سے ثابت ہوا کہہ دینا اسلام میں سلام کی بڑی اہمیت ہے اور ملاقات سے پہلے سلام کرنا کودینی طریقہ اور اسلامی شعار ہے۔ لہذا ملاقات کی جو بھی شکل ہو خواہ بالمشافہہ یا خط و کتابت کے ذریعہ یا موبائل کے ذریعہ ، ملاقات کی ان تین صورتوں میں گفتگو سے پہلے” سلام” ضروری ہے کہ ملاقات کرنے کا یہی اسلامی طریقہ ہے۔ اور موبائل پر گفتگو کرنے والا چونکہ ” ملاقات کے لیے آنے والے شخص” کے حکم میں ہے اس نے موبائل پر کال کرنے والا پہلے سلام کرے یعنی جو پہلے کال کرے، وہ پہلے سلام کرےتاکہ حدیث پاک” السلام قال الکلام” کی پیروی اور اسلامی طریقۂ ملاقات پر عمل ہوسکے۔

موبائل پر پہلے کال کرنے والا سلام میں پہل کیوں کرے ؟

اس سلسلے میں مندرجہ ذیل دو حدیثیں ہمارے دعوی کی بین دلیل ہیں۔ (١) کوئی شخص اپنے بھائی سے ملے ( موبائل پر کال کرنا گویا اپنے بھائی سے ملنا ہے) تو اسے سلام کرے ، پھر ان دونوں کے درمیان درخت یا دیوار یا پتھر حائل ہوجائے اور پھر ملاقات ہو تو پھر سلام کرے۔ (٢) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اذا انتهى أحدكم الي المجلس فليسلم فإن بدأ له أن يجلس فليجلس ، ثم إذا قام فليسلم، فليست الأولي لاحق من الآخرة. ترجمه: جب کوئی شخص کسی مجلس میں پہنچے تو (اہل مجلس) کو سلام کرے ۔ پھر اگر وہاں بیٹھنا ہو تو بیٹھ جائے، پھر جب وہاں سے اٹھے تو سلام کرے۔ کیونکہ پہلا سلام آخری سلام سے زیادہ حق دار نہیں ہے ۔ (یعنی سلام لقا اور سلام ودا ع دونوں سنت ہونے میں برابر ہیں ان میں کوئی بھی ترجیح کا زیادہ حقدار نہیں ہے) ان دونوں حدیثوں سے چند مسئلے معلوم ہوئے۔ (الف)۔ جب کسی مسلمان بھائی سے ملاقات کی جائے ، تو اسے سلام کیا جائے۔ موبائل سے اپنے دینی بھائی کو کال کرنا گویا کہ اس سے ملاقات کرنا ہے ۔ لہذا کال کرنے والا شخص پہلے سلام کرے ۔ جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔ (ب) جس طرح شروع میں سلام کیا ہے، اسی طرح آخر میں بھی سلام کرے۔ جیسا کہ حدیث کے الفاظ : ” فلیست الاولی باحق من الاخرة” سے ظاہر ہوتا ہے ۔ موبائل پر گفتگو کو پوری ہوجائے تو آخر میں سلام کرنے کے بعد ہی موبائل رکھا جائے۔ آج کل بالعموم گفتگو پوری ہونے کے بعد ” ٹھیک ہے رکھتے ہیں” یا پھر “خدا حافظ” کہ کر موبائل رکھ دیا جاتا ہے۔ آخر میں خدا حافظ کہنا بھی اچھی بات ہے کہ یہ ” دعائیہ کلمہ” ہے مگر اس کے ساتھ آخر میں سلام کرنا بھی نہ بھولیں کہ یہ اسلامی شعار ہے اور آداب ملاقات کا ایک عمدہ اور احسن طریقہ ہے ۔ سلام کرنا باعثِ اجر و ثواب ہے، اس لیے آخر میں سلام ضرور کریں۔ آج کل یہ ہوتا ہے کہ موبائل پر پہلی گفتگو سے قبل سلام کیا جاتا ہے اور اس کے بعد دو چار منٹ یا پانچ دس منٹ کے وقفہ سے پھر کال کرنے کی ضرورت پڑ جاتی ہے تو دوبارہ سلام کرنے کے بجائے ڈائریکٹ گفتگو کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے، اگر چند مرتبہ گفتگو کرنے کی ضرورت پیش آئے اور ہر بار سلام کرلیا جائے تو اس میں حرج ہی کیا ہے؟ ہم جب سلام کریں گے رحمت الہی کے مستحق ٹھہریں گے۔ سلام زیادہ ثواب زیادہ، سلام زیادہ رحمت زیادہ، سلام زیادہ برکت زیادہ۔۔

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.