Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

مورتی پر چڑھاوا چڑھانے اور جادو کرنے کا حکم

مورتی پر چڑھاوا چڑھانے اور جادو کرنے کا حکم
Reference 1230 September 18, 2025 10,278 views
اصل سوالمورتی پر چڑھاوا چڑھانے اور جادو کرنے کا حکم

مورتی پر چڑھاوا چڑھانے اور جادو کرنے کا حکم

السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ زید جو کہ ایک مولوی ہے اس نے مندر میں جاکر مورتیوں پر چڑھاوا چڑھا کر اس کے ذریعے دوسرے لوگوں پر کالا جادو کراتا ہے زید اپنے اس عمل کے ساتھ ساتھ امامت بھی کرتا ہے ہے نیز زید ایک درگاہ کا مجاور بھی ہے۔ لہذا زید کے اس عمل کی وجہ سے زید پر شرعا کیا حکم لگے گا؟ زید نے جو اتنے سال امامت کی ہے ان نمازوں کا کیا حکم ہے؟ نیز ایک اللہ کے ولی کا صندل شریف لے کر جا سکتا ہے یا نہیں؟ زید کے اس عمل سے جو لوگ واقف تھے یا اس کے ساتھ شریک تھے ان پر بھی شرعاً کیا حکم ہوگا؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں اور عند اللہ ماجور ہوں۔ المستفتی جماعت المسلمین محبوب نگر امبرڈے پوسٹ امبرڈے تعلقہ ویبھوواڑی، ضلع سندھودرگ مہاراشٹرا الجواب بعون الملک الوہاب بسم اللہ الرحمن الرحیم وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ سوال میں مذکور دونوں باتیں (مورتی پر چڑھاوا اور جادو کا عمل) واقع ہونا ایک سچے پکے مسلمان سے بہت بعید ہے، چہ جائے کہ کوئی مولوی ایسا کرے!۔ یہ ایک تحقیق طلب امر ہے ۔ البتہ صورت سوال کے اعتبار سے جواب درج ذیل ہے: مورتی پر چڑھاوا چڑھانا کفر ہے ۔ اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “بُت پر چڑھاوا چڑھانا کفرہے۔” (فتاوی رضویہ ج٩ نصف آخر ص١١٢) اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مورتی پر چڑھاوا اس کی عبادت ہے۔ سرکار اعلی حضرت رضی اللہ عنہ فتاوی رضویہ شریف میں لکھتے ہیں: “بت کا چڑھاوا غیر خدا کی عبادت ہے”۔ (فتاوی رضویہ جدید ج 21 ص 246 رضا اکیڈمی ممبئی ) اور یہ بات ضروریاتِ دین سے ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں، کلمہ توحید “لا الہ الا اللہ” کا یہی مطلب ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں۔ بعض اعمال ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں نیت کا اعتبار نہیں ہوتا، بلکہ ظاہر پر ہی حکم لگ جاتا ہے، جیسے کہ بت کی پرستش ،ماتھے پر قشقہ لگانا اور زنار باندھنا وغیرہ ۔ سرکار اعلی حضرت رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں: سجدہ تحیت اگر بت یا چاند یا سورج کو کرتا ہے ضرور اس پر حکم کفر ہے ۔ کفر اگرچہ عقدِ قلبی ہے مگر جس طرح اقوالِ زبان اس پر دلیل ہوتے ہیں یوہیں بعض افعال بھی ،جن کو شریعت نے ٹھہرا دیا ہے کہ یہ صادر نہیں ہوتے مگر کافر سے۔ انہیں میں سے اشیائے مذکورہ کو سجدہ ہے، یا معاذ اللہ مصحف شریف کو نجاست میں پھینک دینا، یا کسی نبی کی شان میں گستاخی، كما صرح به علماؤنا المتكلمون في المسايرة و شروح المقاصد والمواقف والفقه الأكبر و غيرها۔ (فتاوی رضویہ شریف جدید ج 21 ص 163) اشباہ و نظائر میں ہے : عبادة الصنم كفر ولا اعتبار بما في قلبه، ….و كذا لو تزنر بزنار اليهود والنصارى دخل كنيستهم أو لم يدخل۔ (الفن الثاني، كتاب السير، باب الردة ) پس بت کا چڑھاوا غیر اللہ کی عبادت ہے اور غیر اللہ کی عبادت کفر ہے اور دل میں کیا ہے اس کا اعتبار و لحاظ نہیں۔ یہ تو رہی بات چڑھاوے کی ۔ اور جہاں تک مورتیوں پر اس چڑھاوے کے ذریعے جادو کرنے یا کرانے کا معاملہ ہے تو یہ بھی نہایت قبیح و شنیع اور حد درجہ بے ہودہ عمل ہے کہ اس میں شیطان مردود کی خوشامد اور اس سے استعانت ہے جو کہ بلاشبہ حرام ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے : “الم اعهد إليكم يبني آدم أن لا تعبدوا الشيطان إنه لكم عدو مبين و أن اعبدوني هذا صراط مستقيم و لقد أضل منكم جبلا كثيرا افلم تكونوا تعقلون۔ ائے اولاد آدم کیا میں نے تم سے عہد نہ لیا تھا کہ شیطان کو نہ پوجنا بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور میری بندگی کرنا یہ سیدھی راہ ہے اور بیشک اس نے تم میں سے بہت سی خلقت کو بہکا دیا تو کیا تمہیں عقل نہ تھی۔ (سورہ یس آیت نمبر 60، 61، 62) سفلی عمل (جادوغیرہ ) کے ذریعے ہمزاد کو قابو میں کرنے کے تعلق سے سرکار اعلی حضرت رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں: اس کی تسخیر جو سفلیات سے ہو وہ تو حرام قطعی بلکہ اکثر صور میں کفر ہے کہ بے ان کے خوشامد اور مدائح و مرضیات کے نہیں ہوتی۔ (فتاوی رضویہ شریف جدید ج 21 ص 217 ) اورمحض جاود کا عمل ہی بجائے خود بہت بڑا خطرناک جرم ہے، جسے شریعت اسلامیہ نے حرام قرار دیا ہے اور کبھی کبھی جادو کے منتر میں کفریہ اور شرکیہ الفاظ ہوتے ہیں جن کی بنا پر معاملہ کفر میں داخل ہو جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے : عن جندب قال :قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :حد الساحر ضربة بالسيف۔ جادو کرنے والے کی سزا تلوار سے قتل کرنا ہے۔ (ترمذی شریف ج 1 ص 176 باب ما جاء فی حد الساحر مجلس برکات ) علامہ شامی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: “في الفتح :السحر حرام بلا خلاف بين أهل العلم و اعتقاد اباحته كفر”۔ اہل علم کے درمیان بغیر کسی اختلاف کے جادو حرام ہے اور اس کے جائز ہونے کا عقیدہ کفر ہے ۔(رد المحتار ج 6 ص 381- 82 مطلب فی الساحر والزنديق) لہذا اگر زید مذکور نے مورتی پر چڑھاوا چڑھایا تو اس پر حکم کفر ہے۔ وہ تجدید ایمان کرے اور بیوی رکھتا ہے تو تجدید نکاح کرے اور توبہ و استغفار کی کثرت کرے۔ اور زید مذکور اگر جادو کا عمل کرتا ہے تو اس کی وجہ سے کم از کم مرتکب حرام ضرور ہے۔ بہر صورت ایسے شخص کی امامت باطل اور اس کے پیچھے پڑھی گئی نمازیں ذمہ میں فرض ہیں ۔ اور ایسے کو مجاور بنانا یا کوئی ایسے کام کرانا جو اس کے اعزاز کا موجب ہو ناجائز وحرام ہے۔ جس وقت سے اس کا مذکورہ جرم ثبوت شرعی سے ثابت ہو اس کے بعد اس کی پڑھائی ہوئی نمازوں کا اعادہ بہر حال فرض ہے۔ اور جو لوگ مورتی پر چڑھاوا یا جادو کرنے میں زید کے ساتھ شریک تھے ان پر وہی حکم کفر یا ارتکاب حرام کا حکم ہے۔ ہاں! وہ عام لوگ جو زید کے مذکورہ عمل سے واقف تھے اور اس کے عمل کو ناگوار سمجھتے تھے ان پر کوئی الزام نہیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: “من رأى منكم منكراً فليغيره بيده، فإن لم يستطع فبلسانه فإن لم يستطع فبقلبه وذلك أضعف الإيمان”۔ تم میں سے جو کوئی برائی دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے بدل دے پس اگر اس کی استطاعت نہ رکھے تو اپنی زبان سے روکے اور اگر اس کی بھی استطاعت نہ رکھے تو اپنے دل سے برا جانے۔ (مسلم شریف ج 1 ص 51 مطبوعة مجلس بركات) صدر الشریعہ علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: ” امراء کے ذمہ امربالمعروف ہاتھ سے ہے کہ اپنی قوت و سطوت سے اس کام کو روک دیں اور علماء کے ذمہ زبان سے ہے کہ اچھی بات کرنے کو اور بری بات سے باز رہنے کو زبان سے کہہ دیں۔ اور عوام الناس کے ذمہ دل سے برا جانناہے۔ اس کا مقصد وہی ہے جو حدیث میں فرمایاکہ ’’جو بری بات دیکھے، اسے چاہیے کہ اپنے ہاتھ سے بدل دے اور اگر ہاتھ سے بدلنے پر قادر نہ ہو تو زبان سے بدل دے یعنی زبان سے اس کا برا ہونا ظاہر کردے اور منع کردے اور اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو دل سے برا جانے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور مرتبہ ہے۔‘‘ یہاں عوام سے مراد وہ لوگ ہیں کہ ان میں نہ ہاتھ سے روکنے کی ہمت ہے اور نہ زبان سے منع کرنے کی جرأت۔ قوم کے چودھری اور زمیندار وغیرہ بہت سے عوام ایسی حیثیت رکھتے ہیں کہ ہاتھ سے روک سکتے ہیں ، ان پر لازم ہے کہ روکیں۔ ایسوں کے لیے فقط دل سے برا جاننا کافی نہیں۔ (بہار شریعت ح 16 ص 615- 616 مطبوعہ دعوت اسلامی ) واللہ تعالی اعلم بالصواب ۔ کتبہ محمد طیب دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی انڈیا ٢٣ جمادی الآخرہ ١٤٤٣ھ ٢٧ جنوری ٢٠٢٢ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری خادم درس و افتا دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.