Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

مچھلی کی تجارت پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں ؟ از علامہ کمال احمد علیمی

مچھلی کی تجارت پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں ؟ از علامہ کمال احمد علیمی
Reference 1306 September 18, 2025 8,493 views
اصل سوالمچھلی کی تجارت پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں ؟ از علامہ کمال احمد علیمی

مچھلی کی تجارت پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں ؟ از علامہ کمال احمد علیمی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلۂ ذیل میں مچھلی کی تجارت پر زکوۃ واجب ہے یا نہیں؟ المستفتی : مولانا اختر حسین قادری الجواب بعون الملک الوھاب مچھلی کی پرورش اگر بطور تجارت ہو اور وہ بقدر نصاب ہو یا دیگر اموالِ تجارت یا سونا یا چاندی یا کرنسی نوٹ کے ساتھ مل کر بقدر نصاب ہو اور ادائیگی زکوٰۃ کی شرطیں بھی پائی جائیں تو اس پر زکوٰۃ ہے جیسا کہ ہر سامان تجارت پر زکوٰۃ ہے. قرآن مجید میں ہے : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُم مِّنَ الْأَرْضِ ۖ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنفِقُونَ وَلَسْتُم بِآخِذِيهِ إِلَّا أَن تُغْمِضُوا فِيهِ ۚ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ (البقرۃ :٢٦٧) اس کی تفسیر کرتے ہوئے امام نسفی رحمہ اللہ القوی تحریر فرماتے ہیں: ﴿يا أيُّها الَّذِينَ آمَنُوا أنْفِقُوا مِن طَيِّباتِ ما كَسَبْتُمْ﴾ مِن جِيادِ مَكْسُوباتِكم. وفِيهِ دَلِيلُ وُجُوبِ الزَكاةِ في أمْوالِ التِجارَةِ” درمختار میں ہے : أو في عرض التجارة قیمتہ نصاب (٢/ ٢٩٩ ، کتاب الزکاة) بدائع الصنائع میں ہے: “(ومنها) كون المال ناميًا؛ لأن معنى الزكاة وهو النماء لايحصل إلا من المال النامي و لسنا نعني به حقيقة النماء؛ لأن ذلك غير معتبر وإنما نعني به كون المال معدًّا للاستنماء بالتجارة أو بالإسامة؛ لأن الإسامة سبب لحصول الدر والنسل والسمن، والتجارة سبب لحصول الربح فيقام السبب مقام المسبب.”(٢/ ١١) اسی میں ہے : “وأما أموال التجارة فتقدير النصاب فيها بقيمتها من الدنانير والدراهم فلا شيء فيها ما لم تبلغ قيمتها مائتي درهم أو عشرين مثقالا من ذهب فتجب فيها الزكاة.”(٢/ ٢٠) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یکم رجب ١٤٤٣/ ٣ فروری ٢٠٢٢ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.