نابالغ پر غسل فرض نہیں | کیا نابالغ پر بھی غسل فرض ہوتا ہے ؟
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
سوال : کیا نابالغ ہمیشہ پاک رہتا ہے کیونکہ اس کے اندر ناپاک ہونے کی وجوہ خمسہ میں سے کوٸی وجہ نہیں پاٸی جاتی۔
المستفتی: محمد شہاب الدین علیمی یو پی
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ و برکاتہ
الجواب بعون الملک الوہاب
نابالغ ہمیشہ پاک رہتا ہے اس پر غسل فرض نہیں ہوتا البتہ ایک صورت میں غسل کا حکم دیا جاتا ہے۔
ہندیہ میں ہے “ﻏﻼﻡ اﺑﻦ ﻋﺸﺮ ﺳﻨﻴﻦ ﺟﺎﻣﻊ اﻣﺮﺃﺓ ﺑﺎﻟﻐﺔ ﻓﻌﻠﻴﻬﺎ اﻟﻐﺴﻞ ﻭﻻ ﻏﺴﻞ ﻋﻠﻰ اﻟﻐﻼﻡ ﺇﻻ ﺃﻧﻪ ﻳﺆﻣﺮ ﺑﺎﻟﻐﺴﻞ ﺗﺨﻠﻘﺎ ﻭاﻋﺘﻴﺎﺩا ﻛﻤﺎ ﻳﺆﻣﺮ ﺑﺎﻟﺼﻼﺓ ﺗﺨﻠﻘﺎ ﻭاﻋﺘﻴﺎﺩا ﻭﻟﻮ ﻛﺎﻥ اﻟﺮﺟﻞ ﺑﺎﻟﻐﺎ ﻭاﻟﻤﺮﺃﺓ ﺻﻐﻴﺮﺓ ﻳﺠﺎﻣﻊ ﻣﺜﻠﻬﺎ ﻓﻌﻠﻰ اﻟﺮﺟﻞ اﻟﻐﺴﻞ ﻭﻻ ﻏﺴﻞ ﻋﻠﻴﻬﺎ ﻭﺟﻤﺎﻉ اﻟﺨﺼﻲ ﻳﻮﺟﺐ اﻟﻐﺴﻞ ﻋﻠﻰ اﻟﻔﺎﻋﻞ ﻭاﻟﻤﻔﻌﻮﻝ ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﻤﺤﻴﻂ” ۔
(ج١،ص١٥)
بہار شریعت میں ہے”حَشفہ یعنی سرِ ذَکر کا عورت کے آگے یا پیچھے یا مرد کے پیچھے داخل ہونا دونوں پر غُسل واجب کر تا ہے شَہوت کے ساتھ ہو یا بغیر شہوت ، اِنزال ہو یا نہ ہو بشرطیکہ دونوں مکلّف ہوں ۔ اور اگر ایک بالغ ہے تو اس بالغ پر فرض ہے اور نابالغ پر اگرچہ غُسل فرض نہیں مگر غُسل کا حکم دیا جائے گا مثلاً مرد بالغ ہے اور لڑکی نابالغ تو مرد پر فرض ہے اور لڑکی نابالغہ کو بھی نہانے کا حکم ہے ۔ اور لڑکا نابالغ ہے اور عورت بالغہ ہے تو عورت پر فرض ہے اور لڑکے کو بھی حکم دیا جائے گا” ۔
واللہ تعالی اعلم
مفتی شان محمد المصباحی القادری
کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
١٠اپریل٢٠٢٠
مزید پڑھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔