01
The questionSawaal
اصل سوالناخن پالش یا مہندی لگی ہو تو وضو اور غسل ہوگا یا نہیں؟
02
The responseAl-Jawab
ناخن پالش یا مہندی لگی ہو تو وضو اور غسل ہوگا یا نہیں؟
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و ملت اس مسئلہ میں اگر عورتوں کے ناخن پر ناخن پالش یا مہندی لگی ہو تو وضو یا غسل ہوگا یا نہیں؟ الجوابــــــــــــــــــــــــ عورتوں کے ناخن پر لگی ہوئی ناخن پالش اتنی گاڑھی ہوتی ہے کہ اس کی ایک تہہ ناخن پر جم جاتی ہے جس کی وجہ سے پانی ناخن تک سرایت نہیں کرتا اس لئے وضو اور غسل کرتے وقت اگر وہ ناخن پر لگی رہ گئی اور اس کو چھڑایا نہیں تو نہ وضو ہوگا اور نہ ہی غسل ہوگا. رہی مہندی تو ناخن پر اس کی کوئی تہہ نہیں جمتی بلکہ صرف اس کا رنگ چڑھ جاتا ہے یہ مانع وضو اور غسل نہیں. اگر ہاتھ یا پاؤں پر اس کا جرم لگا رہ گیا اور خبر نہ ہوئی تو وضو اور غسل ہوجائے گا مگر جب معلوم ہو جائے تو اسے چھوڑا کر وہاں پانی بہا دے. اسی طرح حاشیہ فتاوی رضویہ جلد 1 صفحہ 14 پر ہے. درِ مختار میں ہے ” لا یمنع الطھارۃ خرء ذباب وبرغوث لم یصل الماء تحتہ وحناء ولو جرمہ بہ یفتی ” (فوق رد المحتار ج١، ص 154 ،کتاب الطھارۃ) واللہ تعالی اعلم کتبہ : مفتی محمد وقار علی احسانی مصباحی
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.