01
The questionSawaal
اصل سوالنماز جنازہ میں ہاتھ باندھ کر سلام پھیرے یا کھول کر یا؟
02
The responseAl-Jawab
نماز جنازہ میں ہاتھ باندھ کر سلام پھیرے یا کھول کر یا؟
مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ نماز جنازہ میں دونو ہاتھ کھول کر سلام پھیرے یا سلام پھیرنے کے بعد کھولے یا جب داہنی جانب سلام پھیرے تو داہنا ہاتھ کھولے اور جب بائیں جانب سلام پھیرے تو بایاں کھولے جو صحیح طریقہ ہو بتادیں۔ مستفتی: محمد محی الدین اشرفی احمدآباد گجرات۔ الجواب بعون الملک الوھاب صورت مسئولہ میں چوتھی تکبیر کے بعد دونوں ہاتھ کھول کر سلام پھیرے کہ یہی سنت ہے کیوں کہ نماز میں حالتِ قیام میں ہاتھ باندھنا وہاں سنت ہے ، جہاں قیام میں مسنون ذکر ہو اور اگر حالتِ قیام میں مسنون ذکر نہیں ، تو ہاتھ لٹکانا(نہ باندھنا) سنت ہے اور نمازِ جنازہ کی چوتھی تکبیر کے بعد ذکرِ مسنون نہیں ، لہٰذاچوتھی تکبیر کے بعد ہاتھ باندھنا سنت نہیں بلکہ ہاتھ لٹکانا سنت ہے ۔ خلاصۃ الفتاوی میں ہے : ”ولا یعقد بعد التکبیر الرابع لانہ لایبقی ذکر مسنون حتی یعقد فالصحیح انہ یحل الیدین ثم یسلم تسلیمتین ھکذا فی الذخیرۃ“ اھ (خلاصۃ الفتاوی ، ج١، ص٢٢٥ مطبوعہ کوئٹہ) یعنی چوتھی تکبیر کے بعد ہاتھ نہیں باندھے گا ، کیونکہ اب کوئی مسنون ذکر باقی نہ رہا ، جس کے لیے ہاتھ باندھے ، پس صحیح یہ ہے کہ وہ دونوں ہاتھ کھول دے گا ، پھردونوں سلام پھیرے گا ۔ اسی طرح ذخیرہ میں ہے مجمع الانھر میں ہے : ”قال شمس الأئمة الحلوانی: ان كل قيام ليس فيه ذكر مسنون فالسنة فيه الارسال وكل قيام فيه ذكر مسنون فالسنة فيه الوضع وبه كان يفتی شمس الأئمة السرخسی والصدر الكبير برهان الأئمة والصدر الشهيد “ اھ (مجمع الانھر ، ج١، ص١٤١، کتاب الصلاۃ ، دار الکتب العلمیۃ بیروت لبنان) یعنی شمس الائمہ حلوانی نے فرمایا :ہروہ قیام جس میں مسنون ذکر نہیں ، اس میں ہاتھ لٹکانا سنت ہے اور ہر وہ قیام جس میں ذکر مسنون ہے ، اس میں ہاتھ باندھنا سنت ہے اور یہی فتویٰ شمس الائمہ سرخسی اور صدرِ کبیر برہان الائمہ اور صدرِ شہید علیهم الرحمۃ دیا کرتے تھے۔ صدرالشریعہ بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ سے سوال ہوا: ’’نمازِ جنازہ میں ہاتھ کھول کر سلام پھیرنا چاہیے یا باندھ کر یا دونوں طرح جائز ہے ؟ ‘‘ تو آپ علیہ الرحمۃ نے جواباً تحریر فرمایا: ” ہاتھ کھول کر سلام پھیرنا چاہیے۔ یہ خیال کہ تکبیرات میں ہاتھ باندھے رہنا مسنون ہے ، لہٰذا سلام کے وقت بھی ہاتھ باندھے رہنا چاہیے ، یہ خیال غلط ہے ۔ وہاں ذکر طویل مسنون موجود ہے ، اس پر قیاس،قیاس مع الفارق ہے۔“ اھ (فتاوی امجدیہ ، ج١، ص٣١٧ ، مطبوعہ مکتبہ رضویہ ، کراچی) واللہ تعالیٰ ورسولہ ﷺ اعلم بالصواب۔ کتبہ: محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔نماز جنازہ میں مقتدی کی بعض تکبیریں چھوڑ جائیں تو کیا حکم
عیدگاہ میں نماز جنازہ پڑھ سکتے ہیں مسجد میں نہیں
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.