01
The questionSawaal
اصل سوالکسی دیوبندی کو سربراہ بنانا کیسا؟
02
The responseAl-Jawab
کمیٹی والے جھوٹا مقدمہ دائر کرکے لڑکی والے کو کثیر رقم دلائیں تو ان کا رویہ کیسا ہے؟| کسی دیوبندی کو سربراہ بنانا کیسا؟
مسئلہ:- از: صوفی علی محمد، کیکر والی ، ہنومان گڑھ۔ مفتیان دین شرع متین از روئے شریعت اس بارے میں کیا فرماتے ہیں موضع کیکر والی خاص میں ایک کمیٹی اسلام کمیٹی کے نام سے بنائی گئی ہے وہ اس لئے کہ جو لوگ اپنی بیویوں کو بلا وجہ معمولی باتوں پر طلاق دے دیا کرتے ہیں۔ تو وہ کمیٹی کچھ عرصہ تک ٹھیک کام کرتی رہی اسلام کے مطابق ۔ مگر اس طرف کو آکر گندی سیاست کا شکار ہو گئی مثلا اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے آزاد ہونا چاہتا ہے تو کمیٹی والے حضرات کچہری تھانہ جا کر جھوٹی باتیں جو ایکدم یکسر خلاف ہوتی ہیں اگر جہیز پانچ ہزار کی رقم کا تھا تو بیس ہزار، مہر اگر دس ہزار کا تھا تو چالیس ہزار مہر خالی اس طرح جھوٹے دعوے کر کے غریب انسان سے وہ کمیٹی والے بیٹی والے کو اتنی کثیر رقم دلاتے ہیں جس سے وہ طلاق دینے والا عمر بھر سکون کی سانس نہ لے سکے معاذاللہ کیا یہ درست ہے؟ جو بارہ گاؤں کا ان کمیٹی والوں کا سربراہ ہے نعوذ باللہ مردود ہے دیوبندی ہے عقل اس کی گندی ہے کیونکہ کئی واقعے ایسے سامنے آ چکے ہیں کہ اگر کسی نے اپنی منکوحہ کو ناروا بات پر ڈانٹا ڈپٹا تو کمیٹی والوں نے زبردستی طریقے پر طلاق دلائی ہے بغیر طلاق دلائے ہوئے ان نا اولوں کا کھایا پیا ہضم ہی نہیں ہوتا اور جو با سمجھ مسلمان کمیٹی والوں کی بات تسلیم نہ کرے تو کمیٹی والے اس حق پسند مسلمان کو اپنی پنچایت ہی سے بالکل الگ کر دیتے ہیں۔ پھر اس حق گو کے خلاف بڑے فخر و غرور میں مسجد کے مائیک پر اعلان کراتے ہیں اس شخص کا برادری مسلمان میں کھانا پینا بند دعا سلام حقہ پانی ختم العیاذ باللہ کیا یہی انصاف ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــ کمیٹی والوں کا مسلمانوں پر بیجا دباؤ ڈالنا اور ان کے خلاف جھوٹے مقدمہ دائر کرکے لڑکی والوں کو کثیر رقم دلانا اس طرح مسلمانوں کو تکلیف پہنچانا سخت نا جائز ہے ۔ ایسی کمیٹی والے حقوق العبد میں گرفتار سخت گنہگار مستحق عذاب نار ہیں ۔ ان پر لازم ہے کہ اپنے غلط طریقہ کار سے باز آجائیں۔ اور اللہ واحد قہار کے عذاب سے ڈریں۔ حدیث شریف میں ہے:” من اذي مسلماً فقد اذانى ومن آذاني فقد اذي الله. “ یعنی جس نے کسی مسلمان کو اذیت پہنچائی تو اس نے مجھے تکلیف پہنچائی اور جس نے مجھے اذیت پہنچائی اس نے خدا کو اذیت پہنچائی۔ اور کمیٹی والوں کا دیوبندی کو سربراہ بنانا حرام ہے ان پر لازم ہے کہ اسے سربراہی سے ہٹا دیں کہ دیوبندی ضروریات دین کا انکار کرنے کے سب بمطابق فتاوی حسام الحرمین کافر و مرتد ہیں ۔ اور شریعت نے مرتدوں کو سربراہ بنانے بلکہ ان کے پاس اٹھنے بیٹھنے، ان سے سلام و کلام کرنے اور ان کے ساتھ کھانے پینے تک کو ناجائز قرار دیا ہے ۔ حدیث شریف میں ہے :” إن لقيتموهم فلا تسلموا عليهم ولا تجالسوهم ولا تشاربوهم ولاتواكلوهم.” لہذا کمیٹی والوں پر فرض ہے کہ وہ کسی سنی صحیح العقیدہ مسلمان کو سربراہ بنائیں اور اس کی سرپرستی میں شریعت کے مطابق مسلمانوں کے سماجی مسائل کا حل تلاش کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ الجواب الصحیح: جلال الدین أحمد الامجدی کتبہ: خورشید احمد مصباحی
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.