01
The questionSawaal
اصل سوالکسی نے اپنی بیوی کو کہا اگر تم نے جھوٹ بولا تو تمہیں طلاق ہےتو کیا حکم ہے ؟
02
The responseAl-Jawab
کسی نے اپنی بیوی کو کہا اگر تم نے جھوٹ بولا تو تمہیں طلاق ہےتو کیا حکم ہے ؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ ایک شخص بولے اپنی بیوی کو اگر تم نے جھوٹ بولا تو تمہیں طلاق ہے ۔ بعد میں پچھتاتا ہے اور دل ہی دل میں توبہ اور پشیمان بھی ہے۔۔۔کیا کوئی طریقہ ہے یہ الفاظ واپس لینے کا۔۔۔۔کہ اگر وہ جھوٹ بولے بھی تو شریعتن طلاق نہ ہو۔۔۔ الجواب واضح رہے کہ طلاق اگر کسی شرط کے ساتھ معلق کرکے دی جائے تو شرط پوری ہونے پر طلاق واقع ہو جائے گی، چاہے وہ شرط غلطی سے پوری ہوجائے یا جان بوجھ کر پوری ہو، اور طلاق کو ایک مرتبہ کسی شرط کے ساتھ معلق کر دینے کے بعد شوہر کو واپس لینے کا اختیار نہیں ہوتا، لہذا وہ طلاق بدستور اس شرط کے ساتھ معلق رہے گی اور شوہر کی اجازت دے دینے کے بعد بھی شرط ختم نہیں ہوگی، بلکہ جب بھی آپ کی بیوی سے وہ شرط پوری ہوگی تو آپ کی بیوی پر طلاق واقع ہو جائے گی، لہذا آپ کی بیوی کو طلاق سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ آئندہ اس کام سے بالکل اجتناب کرے۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.