01
The questionSawaal
اصل سوالکیاچندہ کی رقم سے خریدی گئی قبرستان کی زمین وقف ہوگی؟
02
The responseAl-Jawab
کیاچندہ کی رقم سے خریدی گئی قبرستان کی زمین وقف ہوگی؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ سوال :کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل میں کہ چند سال قبل یہاں کی مدرسہ انجمن کمیٹی سلطان پور نے عوام الناس سے چندہ کرکے قبرستان کی غرض سے ایک زمین خریدی، جس میں کچھ مردوں کی تدفین بھی عمل میں آئی ۔ پھر بہت ہی کم داموں میں ایک وسیع زمین قبرستان کے نام پر خریدیں گئی، جس میں مردے دفنائے جانے لگے اور اب سالوں سے مردے اسی قبرستان میں دفنایا جا رہے ہیں اور پہلی زمین میں تدفین بالکل مختلف ہے جس کا ایک بڑا حصہ یوں ہی خالی پڑا ہوا ہے جس پر غیر بھی نگاہیں جمائے ہوئے ہیں، اب موجودہ مدرسہ انجمن کمیٹی یہ چاہتی ہے کہ خالی پڑی ہوئی زمین پر دارالعلوم یا مسلم جماعت خانہ جس میں مسلم بچوں اور بچیوں کی شادی وغیرہ کے پروگرام رکھے جائیں بنا دیا جائے جس کی فی الحال اشد ضرورت ہے نیز اسی طرح سے زمین مسلمانوں کے پاس محفوظ بھی رہے گی، دریافت طلب امر یہ ہے کہ سوال (1) کیا مذکورہ صورت میں یہ زمین وقف کی زمین کہلائے گی؟ سوال (2) کیا ایسی صورت میں اس زمین پر دارالعلوم یا مسلم جماعت خانہ بنانا جائز ہے؟ برائے کرم کتاب و سنت کی روشنی میں جواب مرحمت فرما کرعنداللہ ماجور ہوں ۔ المستفتی محمد مبارک حسین نوری علیمی خادم دارالعلوم عزیزیہ رضویہ سلطان پور الجوابـــــــــــــــــــــــــــ (١) : قبرستان کے لیے خریدی گئی وہ پہلی زمین وقف کہلائے گی۔اس لیے کہ جب قبرستان کی زمین کے لیے چندہ کیا گیا اور پھر وہ زمین چندہ کے پیسے سے خریدی گئی اور پھر مزید بر آں اس میں مردے دفنائے بھی گیے تو وہ زمین چندہ دینے والوں کی ملک قرار پاکر ان کی طرف سے عرفاً ودلالةً وقف ٹھیرے گی۔اس لیے کہ قبرستان کے لیےچندہ دینے والوں میں سے کسی کی یہ نیت نہیں ہوتی کہ میں اپنے پیسے کے بالمقابل زمین کے ایک حصہ کا مالک رہوں گا، بلکہ اس صورت میں ان کا مقصود چندہ کی رقم سے خریدی گئی مشترکہ زمین کو اپنی ملکیت سے خارج کرکے ہمیشہ کے لیے نفع مسلمین کے واسطے کردینا ہوتا ہے اور وقف کا بھی یہی مفاد اور حاصل ہے۔اس لیے یہ زمین قبرستان کے لیے وقف قرار پائے گی۔امام اہل سنت مجدد دین وملت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تعمیرِمدرسہ کی خاطر کیے گیےچندہ کی رقم سے تعمیر شدہ مدرسہ کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں: “اور جبکہ انہوں نے مدرسہ بنانے کے لئے خالد کو چندہ دیا تو اسے شراءِ زمین وتعمیر کا ماذون کیا اور ان کا روپیہ ان کے اذن سے اس نے شراء وتعمیر میں صرف کیا تو وہ زمین و عمارت تمام مشتریوں اور چندہ دہندوں کی ہوئی، جس کا ایک پیسہ چندہ ہو، اور جس کا ہزار روپے سب شریک ہیں۔ اور جبکہ دینی مدرسہ نفع عام مسلمین کے لئے بنانا مقصود تھا، اس میں کسی کی نیت یہ نہیں ہوتی ، کہ میں کسی جز کا مالک رہوں، اور اس سے انتفاع ایک مدتِ محدود تک ہو ، پھر میری ملک میں واپس آئے ، بلکہ اپنی ملک سے خارج کرکے ہمیشہ کے لئے نفعِ مسلمین کے واسطے کردینا مقصود ہوتا ہے اور یہی حاصلِ وقف ہے۔ تو اگرچہ نصّاً وہ سب لفظِ “وقف” نہیں کہتے عرفاً دلالۃً وقف کرتے اور وقف سمجھتے ہیں۔” (فتاوی رضویہ ج٦ ص٣٣٦ ، ٣٣٧) ہاں! قانونی طور پر اس زمین کے تحفظ کا بند و بست ضرور کیا جائے۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ (٢): جب اس زمین کے لیے قبرستان کے طور پر وقف ہونا ثابت ہے تو اس میں مدرسہ بنانا یا شادی وغیرہ تقریبات کے لیے جماعت خانہ بنانا جائز نہیں، اس لیے کہ ایک کام کے لیے وقف شدہ زمین کی ہیئت بدل کر دوسرے کام کے وقف شدہ زمین کے طور پر کرنا جائز نہیں ہوتا۔ اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “وقف کی تبدیل جائز نہیں، جو چیز جس مقصد کے لیے وقف ہے اسے بدل کر دوسرے مقصد کے لئے کردینا روا نہیں، جس طرح مسجد یا مدرسہ کو قبرستان نہیں کرسکتے، یونہی قبرستان کو مسجد یا مدرسہ یا کتب خانہ کردینا حلال نہیں۔سراج وہاج پھر فتاوٰی ہندیہ میں ہے : “لایجوز تغیر الوقف عن ھیأتہ فلا یجعل بستاناً ولا الخان حماماً ولا الرباط دکاناً۔” (فتاوی رضویہ ج۴ ص) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔یوپی۔ ٢۴/جمادی الآخرہ ١۴۴٣ھ/٢٨/جنوری ٢٠٢٢ء
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.