01
The questionSawaal
اصل سوالکیا جان بوجھ کر جو نماز نہ پڑھے وہ کافر ہے؟
02
The responseAl-Jawab
کیا جان بوجھ کر جو نماز نہ پڑھے وہ کافر ہے؟
سوال : زید کہتا ہے کہ جو شخص جان بوجھ کر نماز نہ پڑھے وہ کافر ہے دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید کا یہ قول صحیح ہے؟ اگر صحیح نہیں ہے تو از روئے شرع زید کے لیے کیا حکم ہے؟ (2) بکر کہتا ہے کہ کافر ہمیشہ دوزخ میں نہیں رہیں گے دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا بکر کا قول صحیح ہے؟ اور شرعاً بکر کے لیے کیا حکم ہے؟ بینوا و توجروا الجوابــــــــــــــــــ بہت سی ایسی حدیثیں آئی ہیں جن کا ظاہر یہ ہے کہ جان بوجھ کر نماز ترک کر دینا کفر ہے. اور بعض صحابہ کرام مثلاً امیرالمومنین حضرت فاروق اعظم، عبد الرحمن بن عوف، عبداللہ بن مسعود، جابر بن عبداللہ، معاذ بن جبل و ابو ہریرہ اور ابو درداء رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کا یہی مذہب تھا کہ قصداً نماز ترک کرنا کفر ہے. اور بعض ائمہ مثلا امام احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ، عبداللہ بن مبارک اور امام نخعی رحمۃ اللہ تعالی علیہم کا یہی مذہب تھا. اور امام اعظم اور دیگر ائمہ نیز بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جان بوجھ کر نماز ترک کرنے والے کی تکفیر نہیں کرتے. لہذا زید کا قول بہت سے صحابہ کرام اور ائمہ مذہب پر صحیح ہے اور امام اعظم نیز بہت سے صحابہ کے مذہب پر صحیح نہیں. اگر زید حنفی ہے تو اس پر لازم ہے کہ قصداً نماز ترک کرنے والے کو مذہب حنفی کے مطابق کافر کہنے سے کف لسان کرے اسی میں احتیاط ہے. واللہ تعالی اعلم (2) یہ کہنا کہ کافر ہمیشہ دوزخ میں نہیں رہے گا قرآن مجید کی آیت کریمہ کا انکار اور کفر ہے ہے پارہ 1 رکوع 4 میں ہے “والذین کفروا وکذبوا بآیتنا اولئک اصحاب النار ھم فیھا خلدون” لہذا بکر پر توبہ و تجدید ایمان لازم ہے اور بیوی والا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے. واللہ تعالی اعلم کتبہ :مفتی جلال الدین احمد الامجدی
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.