01
The questionSawaal
اصل سوالکیا غسل میں کانوں کے سوراخ تک پانی پہنچانا ضروری ہے؟
02
The responseAl-Jawab
کیا غسل میں کانوں کے سوراخ تک پانی پہنچانا ضروری ہے؟ وسوسے کا علاج کیا ہے؟ دانتوں میں پیلا پن یا لکیر ہو یا بیچ میں کوئی چیز حائل ہو تو غسل ہوگا یا نہیں؟
سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان شرح متین ان مسائل میں کہ ناپاکی کے غسل میں کانوں کے اندر کیسے پانی پہنچایا جائے بعض علماء کہتے ہیں کہ انگلی ہاتھوں سے کانوں کے اندر جتنی آسانی سے گھمائی جاسکے اتنا گھمائے. بعض علماء فرماتے ہیں کہ دونوں کانوں کے اندر پانی پہنچایا جائے سچ کیا ہے؟ بتائیں. (٢) مجھے بار بار وسوسے آتے ہیں جیسے میرے غسل میں ایسا تو نہیں کسی عضو پر پانی نہ بہا ہو. نماز میں کوئی سورت رہ گئی ہو، التحیات رہ گئی ہو، کسی کافر نے ہاتھ ملایا تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں ناپاک ہوگیا وغیرہ وغیرہ اس کا علاج کیا ہے؟ (٣) دانتوں کا پیلا پن اور کہیں کہیں کالی لکیریں ہیں کیا ان دو چیزوں کا دانتوں پر ہونے سے غسل ہو جائے گا؟ (٤) دانتوں کے اندر سونف غیرہ کا ٹکڑا یا ڈلی اٹک جائے اور غسل کے بعد معلوم ہوئی تو غسل ہوا یا نہیں؟ اس درمیان میں نے کھانا کھایا اور کئی چیزوں کو چھوا جیسے جانماز قرآن شریف وغیرہ ان تمام چیزوں کو پاک کرنا ہوگا؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ غسل جنابت میں کانوں تک پانی پہنچنا ضروری ہے اس کے بغیر نہ غسل جنابت ہو اور نہ پاکی. البتہ کان کے سوراخ میں پانی پہنچانا ضروری نہیں بلکہ سوراخ کے منہ سے پانی بہنا ضروری ہے. اور کان کے بیرونی حصے پر اگر بال وغیرہ ہوں تو انہیں ہٹا کر وہاں پانی بہائیں کہ یہ مواضع احتیاط سے ہیں. یہاں بہ آسانی پانی نہیں پہنچتا ہے. در مختار میں ہے ” یجب ای یفرض غسل کل ما یمکن من البدن بلا حرج مرۃ کاذن” ١ھ.(ج١ صفحہ ١٦٩) ایسا ہی فتاوی رضویہ جلد 1 صفحہ 198 اور بہار شریعت جلد 2 صفحہ ٣٥ پر ہے. واللہ تعالی اعلم (٢) وسوسے شیطان کی جانب سے انسان کو مشقت میں ڈالنے کے لیے ہوتے ہیں اگر انسان اس کی طرف توجہ اور ان کا لحاظ کرنے لگے تو اس کی مشکلیں دوچار ہوجائیں اس لئے ان کی جانب توجہ نہیں کرنا چاہیے. وسوسے کا بہترین علاج اس کی جانب توجہ نہ کرنا ہے اور بہار شریعت جلد 2 صفحہ 64 پر اس کا علاج یوں مذکور ہے. (١) رجوع الى الله (٢) اعوذ بالله پڑھنا (٣)ولا حول ولا قوه الا بالله پڑھنا (٤)سوره الناس (٥) آمنت بالله ورسوله (٦) هو الاول والآخر والظاهر والباطن وهو بكل شيء عليم (٧) سبحان الملك الخلاق ان یشاء يذهبكم ويات بخلق جديد وما ذلك على الله بعزيز پڑھنا کہ وسوسہ جڑ سے کٹ جائے گا. (٣،٤) دانتوں کے صرف پیلا پن سے وضو اور طہارت پر اثر نہ پڑے گا ہاں اگر اس کی تہہ جم گئی ہو تو اس کو دور کریں اور اگر دور کرنے میں حرج اور مشقت ہو تو معاف ہے. فتاوی رضویہ میں ہے “اگر کوئی سخت چیز کہ پانی بہنے کو روکے کہ دانتوں کی جڑ یا کھڑکیوں وغیرہ میں حائل ہو تو لازم ہے کہ اسے جدا کرکے کلی کرے ورنہ غسل نہ ہوگا. ہاں اس کے جدا کرنے میں حرج وضرر واذیت ہو جس طرح پانوں کی کثرت سے جڑوں میں چونا مستحجر ہو جاتا ہے کہ جب تک زیادہ ہو کر آپ ہی جگہ نہ چھوڑ دے تو چھڑانے کے قابل نہیں ہوتا یا عورتوں کے دانتوں میں مسی کی ریخیں جم جاتی ہیں کہ ان کے چھیلنے میں دانتوں یا مسوڑھوں کی مضرت کا اندیشہ ہے تو جب تک یہ حالت رہے گی اس قدر کی معافی ہو گی. فان الحرج مدفوع بالنص ” (ج١ صفحہ ٩٥) یوں ہی ڈلی وغیرہ لگی ہو تو اسے چھڑانا ضروری ہے اس کے بغیر غسل نہ ہو گا اور قرآن پاک چھونا گناہ ہوگا. فتاوی ہندیہ میں ہے” لو کان سنہ مجوفا فبقی فیہ او بین اسنانہ طعام او درن رطب فی انفہ ثم غسلہ علی الاصح والاحتیاط ان یخرج الطعام عن تجویفہ ویجری الماء علیہ وکل ذلک یجزیھم للحرج والضرورۃ ومواضع مستثناہ عن قواعد الشرع. ١ھ” (ج١ صفحہ ١٣) واللہ تعالی اعلم الجواب صحیح :مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور کتبہ : مفتی غلام احمد رضا القادری
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.