01
The questionSawaal
اصل سوالکیا قیامت میں عالمہ حافظہ بھی شفاعت کرے گی؟
02
The responseAl-Jawab
کیا قیامت میں عالمہ حافظہ بھی شفاعت کرے گی؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ! ہکہ قیامت کے دن علماء کو شفاعت کی اجازت ہوگی تو کیا عالمہ کو بھی شفا عت کی اجازت ہوگی قرآن وحدیث کے حوالے سے جواب عطا کریں نوازش ہوگی، سائل ابصار رضا رضوی بہار انڈیا الجوابـــــــــــــــــــ میری نظر میں اس بابت کوئی صریح روایت نہیں گزری کہ عالمہ حافظہ خواتین بھی قیامت میں لوگوں کی شفاعت کرے گی جس شخصیات کا ذکر احادیث میں مذکور ہے وہ کچھ اس طرح ہے قیامت کے دن انبیاءِ کرام ،اولیاءِ کرام علماء، حفاظ، حجاج وشہداء ، وفقراء کی شفاعت اللہ سبحانہ و تعالی اپنے رحم وکرم سے قبول فرمائے گا نابالغ بچے جو مر گئے ہیں اپنے ماں باپ کی شفاعت کریں گے بلکہ ہر وہ شخص کہ جسے دینی منصب عطا کیا گیا ، اپنے متوسلین و متعلقین کی شفاعت کرے گا۔ آقا علیہ السلام نے تین گروہ کے بابت فرمایا کہ وہ قیامت میں شفاعت کریں گے حدیث پاک میں ہے يَشْفَعُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَـلَاثَةٌ: أَلْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الْعُلَمَاءُ، ثُمَّ الشُّهَدَاءُ. (رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه) روزِ ِقیامت تین گروہ شفاعت کریں گے: انبیاء، پھر علماء اور پھر شہداء۔ اسے امام ابن ماجہ اور بیہقی نے روایت کیا۔ مجتہد فی المسائل اعلی حضرت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حضور شفاعت کرنے والے، آقا علیہ السلام ہوں گے اور مخلوق میں شفاعت کرنے والے باقی سب اپنے متعلقین کی شفاعت،حضور کی بارگاہ میں پیش کریں گے۔ بہر صورت وہ بھی شفاعت ضرور فرمائیں گے کہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں شفاعت لانا بھی شفاعت ہی ہے، اس سے خارج نہیں ۔(المعتقد المنتقد) مصنف بہار شریعت رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں تمام انبیاء اپنی امت کی شفاعت فرمائیں گے، اولیائے کرام، شہدا، علما، حفاظ، حجاج ، بلکہ ہر وہ شخص جس کو کوئی منصبِ دینی عنایت ہوا ، اپنے اپنے متعلقین کی شفاعت کرے گا۔ نابالغ بچے جو مرگئے ہیں، اپنے ماں باپ کی شفاعت کریں گے، یہاں تک کہ علما کے پاس کچھ لوگ آکر عرض کریں گے، ہم نے آپ کے وضو کے لیے فلاں وقت میں پانی بھردیا تھا، کوئی کہے گا :کہ میں نے آپ کو استنجے کے لیے ڈھیلا دیا تھا ،علما ان تک کی شفاعت کریں گے۔(بہار شریعت،ج1،ص139تا141) المستند المعتمد مع المعتقد المنتقد میں مجتہد فی المسائل اعلی حضرت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مالکِ عرش اللہ جلَّ جلالہ کی بارگاہ میں بلا واسطہ شفاعت کا حق صرف قرآنِ عظیم اور حبیبِ کریم کہ جن سے امیدیں لگی ہوئی ہیں اِنہی کو حاصل ہے، ان کے علاوہ کسی کو نہیں ۔اس کے علاوہ باقی شفاعت کرنے والے یعنی ملائکہ، انبیاء، اولیاء، علماء، حفاظ، شہداء، حجاج ، صالحین کی شفاعت تو وہ اللہ کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں ہوگی تو وہ حضور کی بارگاہ میں بات پہنچائیں گے اور شفاعت لائیں گے اور حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ان مذکورین اور ان کے علاوہ جو مذکور نہیں، ان کی شفاعت، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں فرمائیں گے ۔ہمارے نزدیک یہ معنی کئی احادیث سے مؤکدہے۔ الحمد(المستند المعتمد مع المعتقد المنتقد، ص127) والله و رسوله أعلم بالصواب كتبه عبده المذنب محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن شرعي سوال و جواب ضلع سرها نيبال نيبال ٤/٩/٢٠٢٢
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.