01
The questionSawaal
اصل سوالکیا نابالغ حافظ قرآن تراویح اور فرض کی جماعت کرواسکتا ہے؟
02
The responseAl-Jawab
کیا نابالغ حافظ قرآن تراویح اور فرض کی جماعت کرواسکتا ہے؟
تمام علمائے کرام اور مفتیان عظام سے سوال یوں ہے حافظ قرآن جو کہ نابالغ ھو تراویح اور فرض کی جماعت کروا سکتا ہے یا نہیں براہ کرم اس مسئلے کا جواب عنایت فرمائیں باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الملك الوهاب:- نابالغ خواہ حافظ قرآن ہو یا غیر حافظ مذہب صحیح کے مطابق بالغوں کی امامت کسی بھی نماز میں نہیں کرسکتا خواہ فرض نماز ہو یا تراویح وغیرہ کیونکہ بلوغ شرائط امامت میں سے ہے اور نابالغ میں یہ شرط مفقود ہے ہاں نابالغ اگر سمجھدار ہے تو وہ اپنے مثل نابالغوں کی امامت کر سکتا ہے ۔ اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان قدس سرہ العزیز اسی طرح کے ایک سوال کے جواب کے تحت تحریر فرماتے ہیں”اس لڑکے کے پیچھے تراویح وغیرہ کوئی نماز جائز نہیں کہ صحیح مذہب میں نابالغ بالغوں کی امامت کسی نماز میں نہیں کرسکتا”(ج۳ ص ۲۱۴/ناشر : رضا اکیڈمی بمبئ) بہار شریعت میں ہے” نابالغوں کے امام کے لیے بالغ ہونا شرط نہیں،بلکہ نابالغ بھی نابالغوں کی امامت کرسکتا ہے ۔ اگر سمجھ والا ہو”(ج ۲ ص ۵۶۱/مكتبة المدينه دعوت اسلامى) واللہ تعالی اعلم بالحق والصواب کتبہ:-محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خادم دار العلوم نظامیہ نیروجال راجوری جموں وکشمیر ۱۵/شعبان المعظم ۱۴۴۳ھ مطابق ۱۹/مارچ ۲۰۲۲ء
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.