01
The questionSawaal
اصل سوالہاتھ میں پلاسٹر چڑھا ہوا ہے جس پر وہ مسح کرتا ہے تو کیا وہ امامت کر سکتا ہے؟
02
The responseAl-Jawab
ہاتھ میں پلاسٹر چڑھا ہوا ہے جس پر وہ مسح کرتا ہے تو کیا وہ امامت کر سکتا ہے؟
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ زید کے ہاتھ میں گٹا اور کلائی کے کچھ حصہ پر پلاسٹر چڑھا ہوا ہے زید جب وضو کرتا ہے تو پلاسٹر کی جگہ پر مسح کرتا ہے باقی اجزا کو دھوتا ہے. دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا وہ امامت کر سکتا ہے؟ بینوا و توجروا الجوابــــــــــــــــــ حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں “اعضاء وضو کا دھونے والا پٹی پر مسح کرنے والے کی اقتدا کر سکتا ہے. (بہارشریعت حصہ سوم 121) اور فتاویٰ عالمگیری مع خانیہ جلد اول صفحہ 84 میں ہے” یجوز اقتداء الغاسل بما مسح الخف وبالماسح علی الجبیرۃ ١ھ “ اور چونکہ پلاسٹر پٹی ہی کے حکم ہے اس لیے زیادہ امامت کر سکتا ہے بشرطیکہ کی اور کوئی وجہ مانع امامت نہ ہو. واللہ تعالی اعلم کتبہ : مفتی محمد حنیف القـــــــــــادری الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.