Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

ہندوستان کے مسلمان اور یہاں کے کافروں کے درمیان سود ہے یا نہیں ؟

ہندوستان کے مسلمان اور یہاں کے کافروں کے درمیان سود ہے یا نہیں ؟
Reference 1136 September 18, 2025 8,142 views
اصل سوالہندوستان کے مسلمان اور یہاں کے کافروں کے درمیان سود ہے یا نہیں ؟

ہندوستان کے مسلمان اور یہاں کے کافروں کے درمیان سود ہے یا نہیں ؟

سوال : زید کہتا ہے کہ حدیث شریف میں ہے” لا ربوا بین المسلم والحربی فی دار الحرب” یعنی دارالحرب میں مسلمان اور کافروں کے درمیان سود نہیں اور ہندوستان دارالاسلام ہے دارالحرب نہیں لہذا یہاں پر مسلمان اور حربی کافروں کے درمیان سود ہے تو زید کا قول صحیح ہے کہ نہیں ؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــ زید کا قول صحیح نہیں ۔ اس لئے کہ حدیث شریف میں دارالحرب کی قید یا تو احترازی نہیں ہے اتفاقی ہے کہ اس زمانہ میں کافروں میں سے صرف ذمی اور مستامن دارالاسلام میں رہتے تھے ۔ حربی دارالحرب میں ہی رہتے تھے اس لیے کہ بغیر امان لیے اگر وہ دارالاسلام میں داخل ہوتا تو اس کی جان و مال محفوظ نہ ہو رہتی جیسا کہ ردالمحتار جلد سوم صفحہ ٢٤٨ میں ہے “لو دخل دارنا بلا امان کان ومامعہ فیأ “ اس لئے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فی دارالحرب فرمادیا نہ اس لیے کہ حربی کافر کبھی درالاسلام میں رہے تو مسلمان اور اس کے درمیان سود ہو جائے گا جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا ۔ یایھا الذین امنوا لا تاکلوا الربوا اضعافا مضاعفا۔ یعنی اے ایمان والو! دونا دون سود نہ کھاؤ (پ٤ع٥) تو اس آیت کریمہ میں دو نا دون کی قید احترازی نہیں ہے کہ دونا دون سے کچھ کم و بیش سود کھانا جائز ہے بلکہ اس زمانہ میں لوگ عام طور پر دو نا دون سود کھاتے تھے اس لیے فرمایا کہ دونا دون سود نہ کھاؤ ۔ رئیس الفقہاء حضرت ملا جیون رحمۃ اللہ تعالی علیہ اس آیت کریمہ کے تحت تحریر فرماتے ہیں ۔ انما قیدبہ اجراء علی عادتھم والا فھ حرام مطلقا غیر مقید بمثل ھذاالقید (تفسیرات احمدیہ صفحہ١٤٤) اور یا تو حدیث شریف میں فی دار الحرب کی قید مستامن کو نکالنے کے لئے ہے یعنی جب حربی مستامن ہو جائے تو اس کے اور مسلمان کے درمیان سود ہے اس لئے کہ امان کے سبب اس کا مال مباح نہیں رہ جاتا کہ عقودفاسدہ کے ذریعے مسلمان اس کو حاصل کر سکے ۔اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریرفرماتے ہیں کہ محل اخذ کا دارالحرب ہونا ضروری نہیں۔ مسئلہ حربی میں قید دارالحرب ذکر فرمائی اس کا منشا اخراج مستامن ہے کہ اس کا مال مباح نہ رہا ۔ رد المحتار میں ہے قولہ ثمنہ ای فی دار الحرب قیدبہ لا نہ لو دخل دارنا بامان فباع منہ مسلم درھما بدرھمین لا یجوز التفاقاعن المسکین ۔ ھدایہ میں ہے لا ربا بین المسلم والحربی فی دار الحرب بخلاف المستامن منھم لان مالہ صار محظور البعقدالا مان اھ ملخصا ۔ فتح القدیر میں مبسوط سے ہے اطلاق النصوص فی المال المحظور واتما یحرم علی المسلم اذاکان بطریق العدرفاذالم یاخذعدرافیای طریق اخذہ حل بعد کو نہ بر ضابخلاف المستامن منھم عندنا لان مالہ صار محظور ابا لا مان فاذا اخذہ بغیر الطریق المشروعۃ یکون غدرا ۔اھ تلخیصا (فتاوی رضویہ جلد ہفتم صفحہ ٨٨ ) وھوا تعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔ کتبـــــــہ: مفتی جلال الدین احمد الامجدی

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.