01
The questionSawaal
اصل سوالکیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک خطیب نے جمعہ کا بیان کے دوران یہ الفاظ ادا کئے کہ
*ہمارے یہاں فضائل پر بیان ہوتے ہیں،چکنی چپڑی باتیں نبی کے گال کے بارے میں آبرو کے بارے میں،بہت اچھی بات ہے نبی کی جتنی فضیلت بیان ہو بہت اچھی بات ہے لیکن بھائی ایک بندہ مر رہا ہے کینسر سے اور تم اسے بادام پیس پیس کر کھلا رہے ہو کہ ابا بادام کھاؤ اس سے دماغ تیز ہوتا ہے۔ اس وقت ابا کو بادام کی ضرورت نہیں ہے آپریشن کرنا پڑےگا۔ مگر ہم وہی فضائل سرکار ڈیڑھ ڈیڑھ گھنٹہ فضائل سرکار ہو ہو ہو واہ بھئی جھوم رہا ہے کیا فائدہ تیرے جھومنے کا نماز نہیں پڑھ رہا*
جب اس بیان پر توجہ دلائی گئی تو خطیب کہتا ہے اس میں کوئی مسئلہ نہیں اگر فضائل کو جان بوجھ کو بھی چکنی چپڑی کا لفظ بولا جائے تو کوئی حرج نہیں۔ پھر دوبارہ کتابوں سے نکال کر بتایا گیا کہ چکنی چپڑی کا معنی غلط ہے خود آپ نے بھی اپنی کتاب میں غلط معنی میں ہی استعمال کیا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ فاعل کی صفت ہے مفعول کی نہیں۔
خطیب کے اس بیان کا کیا حکم ہے کیا اس میں فضائل سرکار کی حقارت ہے اسے غیر ضروری کام کہنا اور بادام کھلانے سے تشبیہ دینا؟ اور فضائل کے بیان کو چکنی چپڑی باتیں کہنا؟ اور خطیب کی طرف سے کی گئی وضاحت قابل قبول ہے یا نہیں؟
اس خطیب نے اس سے کوئی رجوع نہیں کیا بلکہ اس پر قائم اور خود کو اپنے بیان میں صحیح کہتا ہے۔ اس کے بعد اس کے ساتھ تعلق رکھنا اس کی عزت و تعظیم کرنا جائز ہے؟
*ہمارے یہاں فضائل پر بیان ہوتے ہیں،چکنی چپڑی باتیں نبی کے گال کے بارے میں آبرو کے بارے میں،بہت اچھی بات ہے نبی کی جتنی فضیلت بیان ہو بہت اچھی بات ہے لیکن بھائی ایک بندہ مر رہا ہے کینسر سے اور تم اسے بادام پیس پیس کر کھلا رہے ہو کہ ابا بادام کھاؤ اس سے دماغ تیز ہوتا ہے۔ اس وقت ابا کو بادام کی ضرورت نہیں ہے آپریشن کرنا پڑےگا۔ مگر ہم وہی فضائل سرکار ڈیڑھ ڈیڑھ گھنٹہ فضائل سرکار ہو ہو ہو واہ بھئی جھوم رہا ہے کیا فائدہ تیرے جھومنے کا نماز نہیں پڑھ رہا*
جب اس بیان پر توجہ دلائی گئی تو خطیب کہتا ہے اس میں کوئی مسئلہ نہیں اگر فضائل کو جان بوجھ کو بھی چکنی چپڑی کا لفظ بولا جائے تو کوئی حرج نہیں۔ پھر دوبارہ کتابوں سے نکال کر بتایا گیا کہ چکنی چپڑی کا معنی غلط ہے خود آپ نے بھی اپنی کتاب میں غلط معنی میں ہی استعمال کیا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ فاعل کی صفت ہے مفعول کی نہیں۔
خطیب کے اس بیان کا کیا حکم ہے کیا اس میں فضائل سرکار کی حقارت ہے اسے غیر ضروری کام کہنا اور بادام کھلانے سے تشبیہ دینا؟ اور فضائل کے بیان کو چکنی چپڑی باتیں کہنا؟ اور خطیب کی طرف سے کی گئی وضاحت قابل قبول ہے یا نہیں؟
اس خطیب نے اس سے کوئی رجوع نہیں کیا بلکہ اس پر قائم اور خود کو اپنے بیان میں صحیح کہتا ہے۔ اس کے بعد اس کے ساتھ تعلق رکھنا اس کی عزت و تعظیم کرنا جائز ہے؟
02
The responseAl-Jawab
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.