صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #532 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

بینک میں فکسڈ ڈپازٹ (Fixed Deposit) کا منافع

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Verified Hanafi Fiqh تاریخ: August 12, 2026
0 11,667

سوال (Question):

کیا عام بینکوں میں پیسے فکس کروا کر ہر مہینے جو منافع ملتا ہے وہ حلال ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کمرشل بینکوں (روایتی بینکوں) میں فکسڈ ڈپازٹ یا سیونگ اکاؤنٹ کھلوا کر اس پر جو پہلے سے طے شدہ منافع (Fixed Interest) ملتا ہے وہ خالصتاً اور قطعی طور پر ‘سود’ ہے اور اس کا استعمال حرام ہے۔ اسلام میں تجارت میں نفع و نقصان دونوں کی شراکت ہوتی ہے، جبکہ بینک صرف نفع کی گارنٹی دیتا ہے۔ البتہ مستند اسلامی بینکوں میں شرعی اصولوں (مضاربہ/مشارکہ) کی بنیاد پر سرمایہ کاری کی گنجائش ہے۔ واللہ اعلم۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh