Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #990 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 11.2K Views

مسافر کسے کہتے ہیں اور اس پر کیا احکام نافذ ہوتے ہیں ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

مسافر کسے کہتے ہیں اور اس پر کیا احکام نافذ ہوتے ہیں ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

مسافر کسے کہتے ہیں اور اس پر کیا احکام نافذ ہوتے ہیں ؟

کیا فرما تے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ بدھل ، بکوری اور تھنہ منڈی کے مختلف علاقہ جات کے کچھ لوگ لاک ڈاؤن کے دوران کشمیر سے پیدل چل کر اپنے اپنے گھروں کی طرف جا رھے تھے ۔ لیکن تھنہ منڈی میں انتظامیہ نے انہیں اپنے گھروں تک نہیں پہنچنے دیا بلکہ انہیں تھنہ منڈی کے کورنٹائین سینٹروں میں چودہ دنوں کے لئے پابند کر دیا ۔ ان لوگوں میں تھنہ منڈی کے قرب و جوار کے دیہاتوں کے لوگ بھی ھو سکتے ہیں اور بدھل بکوری وغیرہ کے بھی ۔ اب دریافت طلب امر یہ ھے کہ کیا یہ حضرات مسافر کے حکم میں ہیں یا نہیں ۔بینوا وتوجروا المستفتی :- حاجی محمد افضل ضیاء تھنہ منڈی باسمه تعالى وتقدس الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ شریعت مطہرہ میں مسافر اس شخص کو کہتے ہیں جو تین دن کی راہ تک جانے کے ارادہ سے بستی سے نکلا ہو آج تین دن کی راہ کا اعتبار ۹۲ کلو میٹرسے کیا جاتا ہے توجب تک یہ شخص اپنی بستی یعنی اگر شہر کا رہنے والا ہے تو شہر میں اور گاؤں کا رہنے والاہے تو گاؤں میں داخل نہ ہو جائے مسافر ہی رہے گا ۔ لہذا جو لوگ کشمیر (کشمیر سے تھنہ منڈی کا سفر چونکہ ۹۲ کلو میٹر سے بھی زیادہ ہے لہذا یہ شرعا مسافت سفر ہے ) سے اپنے گھروں کی طرف سفر کر کے آرہے تھے مگر حکومت وقت نے انہیں اپنی بستی پہنچنے سے پہلے ہی کرونا ٹائن سینٹروں میں چودہ دنوں کے لیے پابند کر دیاہے تو ان حضرات پر مسافر ہی کے احکام جاری ہونگے مثلا یہ لوگ چار رکعت والی فرض نمازوں میں قصر کرینگے یعنی چار رکعت کی دو ہی پڑھیں گے،اگر حکومت وقت ان لوگوں کوپندرہ یا اس سے بھی زیادہ دن رکھے تب بھی یہ مسافر ہی رہینگے کیونکہ حکومت کی پابندی میں ہونے کی وجہ سے یہ لوگ اپنے ارادےمیں مستقل نہیں ہیں تو جو مسافر اپنے ارادہ میں مستقل نہ ہو وہ پندرہ دن کی نیت سے بھی مقیم نہ ہوگا ۔ بہار شریعت میں ہے “شرعا مسافر وہ شخص ہے جو تین دن کی راہ تک جانے کے ارادہ سے بستی سے باہر ہوا”(ج ۱ ح۴ ص۷۴۰ ) اور فتاوی رضویہ شریف میں ہے “جب وہاں سے بقصد وطن چلے اور وہاں کی آبادی سے باہر نکل آئےاس وقت سے جب تک اپنے شہر کی آبائی وادی میں داخل نہ ہو قصر کرے گا”(ج۸ ص ۲۵۸ مترجم) اور بہار شریعت میں ہے “مسافر اس وقت تک مسافر ہے جب تک اپنی بستی میں پہنچ نہ جائے یا آبادی میں پورے پندرہ دن ٹھرنے کی نیت نہ کر لے “( ج۱ ح۴ ص ۷۴۴ ) نیز اسی میں ہے “محض نیت سفر سے مسافر نہ ہو گا بلکہ مسافر کا حکم اس وقت سے ہے کہ بستی کی آبادی سے باہر ہو جائے شہر میں ہے تو شہر سے گاؤں میں ہے تو گاؤں سے اور شہر والے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ شہر کے آس پاس جو آبادی شہر سے متصل ہے اس سے بھی باہر ہو جائے”(ج ۱ ح ۴ ص ۷۴۴) نیز اسی میں ہے “مسافر اگر اپنے ارادے میں مستقل نہ ہوتو پندرہ دن کی نیت سےمقیم نہ ہوگا (ج ۱ ح ۴ ص ۷۴۵) واللہ تعالی اعلم بالصواب ۔   کتبہ محمد ارشاد رضا علیمی عفی عنہ،پلانگڑ،تھنہ منڈی،راجوری،جموں وکشمیر ۲/رمضان المبارك مطابق ۲۶ اپریل ۲۰۲۰ء الجواب صحيح محمد اسلم رضا مصباحی عفى عنه،مرکزی دار الافتا صوبہ جموں

Kutubahu & Verified by:

<h2>مسافر کسے کہتے ہیں اور اس پر کیا احکام نافذ ہوتے ہیں ؟</h2> کیا فرما تے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ بدھل ، بکوری اور تھنہ منڈی کے مختلف علاقہ جات کے کچھ لوگ لاک ڈاؤن کے دوران کشمیر سے پیدل چل کر اپنے اپنے گھروں کی طرف جا رھے تھے ۔ لیکن تھنہ منڈی میں انتظامیہ نے انہیں اپنے گھروں تک نہیں پہنچنے دیا بلکہ انہیں تھنہ منڈی کے کورنٹائین سینٹروں میں چودہ دنوں کے لئے پابند کر دیا ۔ ان لوگوں میں تھنہ منڈی کے قرب و جوار کے دیہاتوں کے لوگ بھی ھو سکتے ہیں اور بدھل بکوری وغیرہ کے بھی ۔ اب دریافت طلب امر یہ ھے کہ کیا یہ حضرات مسافر کے حکم میں ہیں یا نہیں ۔بینوا وتوجروا المستفتی :- حاجی محمد افضل ضیاء تھنہ منڈی باسمه تعالى وتقدس <span style="color: #ff0000;"><strong> الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> شریعت مطہرہ میں مسافر اس شخص کو کہتے ہیں جو تین دن کی راہ تک جانے کے ارادہ سے بستی سے نکلا ہو آج تین دن کی راہ کا اعتبار ۹۲ کلو میٹرسے کیا جاتا ہے توجب تک یہ شخص اپنی بستی یعنی اگر شہر کا رہنے والا ہے تو شہر میں اور گاؤں کا رہنے والاہے تو گاؤں میں داخل نہ ہو جائے مسافر ہی رہے گا ۔ لہذا جو لوگ کشمیر (کشمیر سے تھنہ منڈی کا سفر چونکہ ۹۲ کلو میٹر سے بھی زیادہ ہے لہذا یہ شرعا مسافت سفر ہے ) سے اپنے گھروں کی طرف سفر کر کے آرہے تھے مگر حکومت وقت نے انہیں اپنی بستی پہنچنے سے پہلے ہی کرونا ٹائن سینٹروں میں چودہ دنوں کے لیے پابند کر دیاہے تو ان حضرات پر مسافر ہی کے احکام جاری ہونگے مثلا یہ لوگ چار رکعت والی فرض نمازوں میں قصر کرینگے یعنی چار رکعت کی دو ہی پڑھیں گے،اگر حکومت وقت ان لوگوں کوپندرہ یا اس سے بھی زیادہ دن رکھے تب بھی یہ مسافر ہی رہینگے کیونکہ حکومت کی پابندی میں ہونے کی وجہ سے یہ لوگ اپنے ارادےمیں مستقل نہیں ہیں تو جو مسافر اپنے ارادہ میں مستقل نہ ہو وہ پندرہ دن کی نیت سے بھی مقیم نہ ہوگا ۔ بہار شریعت میں ہے "شرعا مسافر وہ شخص ہے جو تین دن کی راہ تک جانے کے ارادہ سے بستی سے باہر ہوا"(ج ۱ ح۴ ص۷۴۰ ) اور فتاوی رضویہ شریف میں ہے "جب وہاں سے بقصد وطن چلے اور وہاں کی آبادی سے باہر نکل آئےاس وقت سے جب تک اپنے شہر کی آبائی وادی میں داخل نہ ہو قصر کرے گا"(ج۸ ص ۲۵۸ مترجم) اور بہار شریعت میں ہے "مسافر اس وقت تک مسافر ہے جب تک اپنی بستی میں پہنچ نہ جائے یا آبادی میں پورے پندرہ دن ٹھرنے کی نیت نہ کر لے "( ج۱ ح۴ ص ۷۴۴ ) نیز اسی میں ہے "محض نیت سفر سے مسافر نہ ہو گا بلکہ مسافر کا حکم اس وقت سے ہے کہ بستی کی آبادی سے باہر ہو جائے شہر میں ہے تو شہر سے گاؤں میں ہے تو گاؤں سے اور شہر والے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ شہر کے آس پاس جو آبادی شہر سے متصل ہے اس سے بھی باہر ہو جائے"(ج ۱ ح ۴ ص ۷۴۴) نیز اسی میں ہے "مسافر اگر اپنے ارادے میں مستقل نہ ہوتو پندرہ دن کی نیت سےمقیم نہ ہوگا (ج ۱ ح ۴ ص ۷۴۵) واللہ تعالی اعلم بالصواب ۔   <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ محمد ارشاد رضا علیمی عفی عنہ،پلانگڑ،تھنہ منڈی،راجوری،جموں وکشمیر</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>۲/رمضان المبارك مطابق ۲۶ اپریل ۲۰۲۰ء</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحيح</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>محمد اسلم رضا مصباحی عفى عنه،مرکزی دار الافتا صوبہ جموں</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...