Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #991 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 11.3K Views

ہیٹر کے سامنے نماز پڑھنا کیسا؟ / مسائل ورلڈ

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

ہیٹر کے سامنے نماز پڑھنا کیسا؟ / مسائل ورلڈ

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

ہیٹر کے سامنے نماز پڑھنا کیسا؟

السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ و برکاتہ آپ کی بارگاہ میں عرض ہیں کہ ہیٹر گیس والا ہو یا بجلی والا ہو نمازی کے سامنے ہو تو کیا حکم ہے نماز کا ۔ المستفتی سگ رضا سید گل قادری سنی بریلوی وعليـــــــكم الســـــلام ورحمة اللّہ وبرکاتہ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــ درست ہے کیونکہ مسجد میں عموماََ گیس کے ہیٹر ہوتے ہیں, جن میں ایک جالی لگی ہوتی ہے اور وہ جالی آگ کی وجہ سے سرخ ہوجاتی ہے, لیکن وہاں نہ تو انگارے ہوتے ہیں اور نہ ہی بھڑکتی ہوئی آگ, لہذا اگر نمازی کے سامنے اس قسم کا چلتا ہوا ہیٹرموجود ہو تو اس میـں کراہت نہیـــــں. کیونکہ مجوسی یعنی آگ کی پوجا کرنے والے اس کی پوجا نہیـــــں کرتے, البتہ. بھڑکتی آگ اور دہکتے انگاروں کا تنور یا چولہا وغیرہ سامنے ہو , تو یہ مکروہ ہے . کیونکہ مجوسی اس کی پوجا کرتے ہیں اور ان کے سامنے نماز پڑھنے میں مجوسیوں کے ساتھ مشابہت ہے. اسی طرح کے ( فتاوٰی رضویہ شریف, جدید, جلد ۲۴ , ص ۶۱۹) پر ہے. واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب ✍🏻محمــــــــد نورجمال رضــوی دینـــاج پـــوری منجانب سنی مسـائل شـرعیـہ گــروپ.

Kutubahu & Verified by:

<h2>ہیٹر کے سامنے نماز پڑھنا کیسا؟</h2> السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ و برکاتہ آپ کی بارگاہ میں عرض ہیں کہ ہیٹر گیس والا ہو یا بجلی والا ہو نمازی کے سامنے ہو تو کیا حکم ہے نماز کا ۔ المستفتی سگ رضا سید گل قادری سنی بریلوی وعليـــــــكم الســـــلام ورحمة اللّہ وبرکاتہ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> درست ہے کیونکہ مسجد میں عموماََ گیس کے ہیٹر ہوتے ہیں, جن میں ایک جالی لگی ہوتی ہے اور وہ جالی آگ کی وجہ سے سرخ ہوجاتی ہے, لیکن وہاں نہ تو انگارے ہوتے ہیں اور نہ ہی بھڑکتی ہوئی آگ, لہذا اگر نمازی کے سامنے اس قسم کا چلتا ہوا ہیٹرموجود ہو تو اس میـں کراہت نہیـــــں. کیونکہ مجوسی یعنی آگ کی پوجا کرنے والے اس کی پوجا نہیـــــں کرتے, البتہ. بھڑکتی آگ اور دہکتے انگاروں کا تنور یا چولہا وغیرہ سامنے ہو , تو یہ مکروہ ہے . کیونکہ مجوسی اس کی پوجا کرتے ہیں اور ان کے سامنے نماز پڑھنے میں مجوسیوں کے ساتھ مشابہت ہے. اسی طرح کے ( فتاوٰی رضویہ شریف, جدید, جلد ۲۴ , ص ۶۱۹) پر ہے. واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>✍🏻محمــــــــد نورجمال رضــوی دینـــاج پـــوری</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>منجانب سنی مسـائل شـرعیـہ گــروپ.</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...