Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #83
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
11K Views
گھر کے مردوں کے ساتھ عورتوں کا جماعت میں شریک ہونا
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
گھر کے مردوں کے ساتھ عورتوں کا جماعت میں شریک ہونا
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
بسم اللہ الرحمن الرحیم
گھر کے مردوں کے ساتھ عورتوں کا جماعت میں شریک ہونا از محمد محفوظ عالم رضوی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر گھر پر تمام افراد مثلا والد والدہ بھائی بہن وغیرہ ایک ساتھ جماعت قائم کرے تو عند الشرع اس کا کیا حکم ہے ۔ بینوا و توجروا ۔ المستفتی : محمد محسن رضا اسمعیلی امرڈوبھا کبیر نگر یوپی باسمہ تعالی وتقدس الجواب بعون الملک الوہاب: گھر کے تمام افراد ایک ساتھ جماعت کرنا چاہے تو شرعا اس کی اجازت ہے ۔ چنانچہ حضور صدرالشریعہ علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں :” جس گھر میں عورتیں ہی عورتیں ہوں اس میں مرد کو ان کی امامت ناجائز ہے ,ہاں اگر ان عورتوں میں اس کی نسبی محارم ہوں یا بی بی یا وہاں کوئی مرد بھی ہو تو نا جائز نہیں ” (بہار شریعت جلد اول حصہ سوم صفحہ 584) البتہ جماعت کی ترتیب میں اس بات کا خیال لازم رہے کہ مرد حضرات مثلا بھائی والد بیٹا وغیرہ امام کے پیچھے کھڑے ہوں اور عورتیں ان مردوں کے پیچھے صف لگائیں ۔ چنانچہ حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :”دو مقتدی ہیں ایک مرد اور ایک لڑکا تو دونوں پیچھے کھڑے ہوں ,اگر اکیلی عورت مقتدی ہے تو پیچھے کھڑی ہو, زیادہ عورتیں ہوں جب بھی یہی حکم ہے ,دو مقتدی ہوں ایک مرد ایک عورت تو مرد برابر کھڑا ہو اور عورت پیچھے ,دو مرد ہوں ایک عورت تو مرد امام کے پیچھے کھڑے ہوں اور عورت ان کے پیچھے ” (بہار شریعت جلد اول حصہ سوم صفحہ 585) واللہ تعالی اعلم بالصواب والیہ المرجع والمآبکتبہ:محمد محفوظ عالم رضوی علیمی
عید کی نماز گھر پر قائم کر سکتے ہیں یا نہیں از محمد محفوظ عالم رضوی
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کالی کملی والا کہنا کیسا ہے محمد محفوظ عالم رضوی علیمی
Kutubahu & Verified by:
<p style="text-align: center;"><strong>بسم اللہ الرحمن الرحیم</strong></p> <h2 style="text-align: right;">گھر کے مردوں کے ساتھ عورتوں کا جماعت میں شریک ہونا از محمد محفوظ عالم رضوی</h2> کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر گھر پر تمام افراد مثلا والد والدہ بھائی بہن وغیرہ ایک ساتھ جماعت قائم کرے تو عند الشرع اس کا کیا حکم ہے ۔ بینوا و توجروا ۔ المستفتی : محمد محسن رضا اسمعیلی امرڈوبھا کبیر نگر یوپی باسمہ تعالی وتقدس الجواب بعون الملک الوہاب: گھر کے تمام افراد ایک ساتھ جماعت کرنا چاہے تو شرعا اس کی اجازت ہے ۔ چنانچہ حضور صدرالشریعہ علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں :" جس گھر میں عورتیں ہی عورتیں ہوں اس میں مرد کو ان کی امامت ناجائز ہے ,ہاں اگر ان عورتوں میں اس کی نسبی محارم ہوں یا بی بی یا وہاں کوئی مرد بھی ہو تو نا جائز نہیں " (بہار شریعت جلد اول حصہ سوم صفحہ 584) البتہ جماعت کی ترتیب میں اس بات کا خیال لازم رہے کہ مرد حضرات مثلا بھائی والد بیٹا وغیرہ امام کے پیچھے کھڑے ہوں اور عورتیں ان مردوں کے پیچھے صف لگائیں ۔ چنانچہ حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :"دو مقتدی ہیں ایک مرد اور ایک لڑکا تو دونوں پیچھے کھڑے ہوں ,اگر اکیلی عورت مقتدی ہے تو پیچھے کھڑی ہو, زیادہ عورتیں ہوں جب بھی یہی حکم ہے ,دو مقتدی ہوں ایک مرد ایک عورت تو مرد برابر کھڑا ہو اور عورت پیچھے ,دو مرد ہوں ایک عورت تو مرد امام کے پیچھے کھڑے ہوں اور عورت ان کے پیچھے " (بہار شریعت جلد اول حصہ سوم صفحہ 585) واللہ تعالی اعلم بالصواب والیہ المرجع والمآب <p style="text-align: center;"> <strong>کتبہ:محمد محفوظ عالم رضوی علیمی</strong></p> <!--more--> <h2 class="entry-title"><a href="https://urdu.masailworld.com/?p=314" rel="bookmark">عید کی نماز گھر پر قائم کر سکتے ہیں یا نہیں از محمد محفوظ عالم رضوی</a></h2> <h2 class="entry-title"><a href="https://urdu.masailworld.com/?p=316" rel="bookmark">حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کالی کملی والا کہنا کیسا ہے محمد محفوظ عالم رضوی علیمی</a></h2>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...