01
The questionSawaal
اصل سوالانتقال کے بعد عقیقہ کرنا کیسا ہے ؟ / انتقال کے بعد عقیقہ کر سکتے ہیں ؟
02
The responseAl-Jawab
انتقال کے بعد عقیقہ کرنا کیسا ہے ؟ / انتقال کے بعد عقیقہ کر سکتے ہیں ؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ سوال عرض یہ ہے کہ کیا انتقال کے بعد بھی عقیقہ کر سکتے ہیں یا نہیں ؟ براے کرم اس مسئلہ کی وضاحت فرمائیں ۔ عین نوازش ہوگی ۔ سائل : محمد اسلم ، ضلع کٹیہار ۔ بہار وعليكم السلام باسمه تعالى وتقدس الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ انتقال کے بعد عقیقہ نہیں۔ کیوں کہ عقیقہ بطور شکرانِ نعمت کیا جاتا ہے،انتقال چونکہ زوال نعمت ہے اور نعمت کے زائل ہونے کے بعد اس کا محل ہی باقی نہ رہا ۔ فتاوی رضویہ میں ہے”عقیقہ بعد موت پسر نہیں کہ وہ شکر ولادت ہے”(ج۸ص۵۴۵ ) نیز اسی میں ہے “اور عقیقہ شکر نعمت ہے،بعد زوال نعمت اس کا محل نہیں”(حوالہ سابق) اور فتاوی امجدیہ میں ہے”مردہ کا عقیقہ نہیں ہوسکتا کہ عقیقہ دم شکر ہے اور یہ شکرانہ زندہ ہی کیلئے ہوسکتا ہے”(ج۳ ص ۳۳۶) واللہ تعالی اعلم بالحق والصواب . کتبہ : محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خادم دارالعلوم نظامیہ،نیروجال،راجوری،جموں وکشمیر۔ ۲۲/جمادی الاولی ۱۴۴۳ھ مطابق ۲۷/دسمبر ۲۰۲۱ء الجواب صحيح محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.