Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #998
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
12.3K Views
کیا عشاء کی نماز کے فوراً بعد تہجد پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
کیا عشاء کی نماز کے فوراً بعد تہجد پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
کیا عشاء کی نماز کے فوراً بعد تہجد پڑھ سکتے ہیں یا نہیں
سوال : کیا عشاء کی نماز کے فوراً بعد تہجد پڑھ سکتے ہیں یا نہیں ؟ اگر نہیں تو کتنے وقت کے بعد پڑھیں..اور عشاء کی نماز میں جو نفل وتر سے پہلے اور وتر کے بعد پڑھے جاتے ہیں کیا ان کاتہجد میں شمار ہوتا ہے؟ سائل : شیخ مبین نور باغ مالیگاؤں الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب حدیث شریف میں آ یا ہے کہ جو شخص تہجد کے لیے اخیر رات میں اٹھنے پر بھروسہ نہ رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ عشاء کی دو سنتوں کے بعد تہجد کی نیت سے نفل (۲/ رکعت/ ۴/ رکعت ۸/ رکعت) پڑھ لے تو اس کو تہجد پڑھنے کا ثواب ملے گا۔ خواہ وتر سے پہلے پڑھے یا وتر کے بعد پڑھے۔ دونوں صورتوں میں اسے ثواب ملے گا۔ بعد نماز عشاء سنت اور وتر کے درمیان تہجد کی نیت سے دوچار رکعتیں پڑھ لیں اگر تہجد میں نہ اٹھ سکے تو یہ نماز تہجد کی طرف سے کافی ہوجائے گی جیسا کہ درج ذیل حدیث میں ہے۔ عن ثوبان عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: إن ہذا لسہر جُہد وثقل فإذا أوتر أحدکم فلیرکع رکعتین فإن قام عن اللیل وإلا کانتا لہ․ رواہ الدارمي (مشکاة) قال في المرقاة والأظہر أن المراد بالوتر ثلاث رکعات، والرکعتان قبلہ نافلة قائمة مقام التہجد وقیام اللیل الخ (مرقاة) وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبـــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں
Kutubahu & Verified by:
<h2>کیا عشاء کی نماز کے فوراً بعد تہجد پڑھ سکتے ہیں یا نہیں</h2> سوال : کیا عشاء کی نماز کے فوراً بعد تہجد پڑھ سکتے ہیں یا نہیں ؟ اگر نہیں تو کتنے وقت کے بعد پڑھیں..اور عشاء کی نماز میں جو نفل وتر سے پہلے اور وتر کے بعد پڑھے جاتے ہیں کیا ان کاتہجد میں شمار ہوتا ہے؟ سائل : شیخ مبین نور باغ مالیگاؤں <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب</strong></span> حدیث شریف میں آ یا ہے کہ جو شخص تہجد کے لیے اخیر رات میں اٹھنے پر بھروسہ نہ رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ عشاء کی دو سنتوں کے بعد تہجد کی نیت سے نفل (۲/ رکعت/ ۴/ رکعت ۸/ رکعت) پڑھ لے تو اس کو تہجد پڑھنے کا ثواب ملے گا۔ خواہ وتر سے پہلے پڑھے یا وتر کے بعد پڑھے۔ دونوں صورتوں میں اسے ثواب ملے گا۔ بعد نماز عشاء سنت اور وتر کے درمیان تہجد کی نیت سے دوچار رکعتیں پڑھ لیں اگر تہجد میں نہ اٹھ سکے تو یہ نماز تہجد کی طرف سے کافی ہوجائے گی جیسا کہ درج ذیل حدیث میں ہے۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>عن ثوبان عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: إن ہذا لسہر جُہد وثقل فإذا أوتر أحدکم فلیرکع رکعتین فإن قام عن اللیل وإلا کانتا لہ․ رواہ الدارمي (مشکاة)</strong></span> <span style="color: #ff0000;"><strong>قال في المرقاة والأظہر أن المراد بالوتر ثلاث رکعات، والرکعتان قبلہ نافلة قائمة مقام التہجد وقیام اللیل الخ (مرقاة)</strong></span> وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>خادم التدریس والافتا</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...