Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1007 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 13.4K Views

نماز میں بار بار کھجلانے سے نماز ہوگی یا نہیں ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

نماز میں بار بار کھجلانے سے نماز ہوگی یا نہیں ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

نماز میں بار بار کھجلانے سے نماز ہوگی یا نہیں ؟

سوال : بعض لوگ نماز کے اندر قیام کی حالت میں خصوصا تراویح میں اپنے جسم کو بار بار کھجلاتے ہیں تو اس سے نماز میں کچھ خرابی پیدا ہوتی ہے یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــ ایک قیام میں تین بار کھجلانے سے نماز جاتی رہے گی یعنی اس طرح کی کھجا کر ہاتھ ہٹایا، پھر کھجایا پھر ہٹایا اسی طرح تین بار کیا. اور اگر ایک مرتبہ ہاتھ رکھ کر کئی بار حرکت دی تو یہ ایک ہی مرتبہ کھجلانا ہوا اس صورت میں نماز فاسد نہ ہو گی جیسا کہ فتاوی عالمگیری جلد اول مطبوعہ مصر صفحہ 97 میں ہے ۔ اذا حک ثلاثا في ركن واحد تفسد صلاته هذا اذا رفع يده في كل مرۃ اما اذا لم يرفع في كل مرۃ فلا تفسد كذا في الخلاصه. هذا ما عندي وهو تعالى اعلم ۔ كتبــــــــــــه : جلال الدين احمد الامجدي ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد ١ ص 350

Kutubahu & Verified by:

<h2>نماز میں بار بار کھجلانے سے نماز ہوگی یا نہیں ؟</h2> سوال : بعض لوگ نماز کے اندر قیام کی حالت میں خصوصا تراویح میں اپنے جسم کو بار بار کھجلاتے ہیں تو اس سے نماز میں کچھ خرابی پیدا ہوتی ہے یا نہیں؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــ</strong></span> ایک قیام میں تین بار کھجلانے سے نماز جاتی رہے گی یعنی اس طرح کی کھجا کر ہاتھ ہٹایا، پھر کھجایا پھر ہٹایا اسی طرح تین بار کیا. اور اگر ایک مرتبہ ہاتھ رکھ کر کئی بار حرکت دی تو یہ ایک ہی مرتبہ کھجلانا ہوا اس صورت میں نماز فاسد نہ ہو گی جیسا کہ فتاوی عالمگیری جلد اول مطبوعہ مصر صفحہ 97 میں ہے ۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>اذا حک ثلاثا في ركن واحد تفسد صلاته هذا اذا رفع يده في كل مرۃ اما اذا لم يرفع في كل مرۃ فلا تفسد كذا في الخلاصه. </strong></span> هذا ما عندي وهو تعالى اعلم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>كتبــــــــــــه : جلال الدين احمد الامجدي</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد ١ ص 350</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...