Islamic Guidance Today: Wednesday, 29 July 2026 | 🕌 13 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #86 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 11.3K Views

تفسیر «وَکَیۡفَ اَخَافُ مَاۤ اَشۡرَکۡتُمۡ وَلَا تَخَافُوۡنَ اَنَّکُمۡ اَشۡرَکۡتُمۡ بِاللّٰهِ مَا لَمۡ یُنَزِّلۡ بِهٖ عَلَیۡکُمۡ سُلۡطٰنًا

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

تفسیر «وَکَیۡفَ اَخَافُ مَاۤ اَشۡرَکۡتُمۡ وَلَا تَخَافُوۡنَ اَنَّکُمۡ اَشۡرَکۡتُمۡ بِاللّٰهِ مَا لَمۡ یُنَزِّلۡ بِهٖ عَلَیۡکُمۡ سُلۡطٰنًا

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

تفسیر «وَکَیۡفَ اَخَافُ مَاۤ اَشۡرَکۡتُمۡ وَلَا تَخَافُوۡنَ اَنَّکُمۡ اَشۡرَکۡتُمۡ بِاللّٰهِ مَا لَمۡ یُنَزِّلۡ بِهٖ عَلَیۡکُمۡ سُلۡطٰنًا

بسم الله الرحمن الرحيم

آیت کریمه: «وَکَیۡفَ اَخَافُ مَاۤ اَشۡرَکۡتُمۡ وَلَا تَخَافُوۡنَ اَنَّکُمۡ اَشۡرَکۡتُمۡ بِاللّٰهِ مَا لَمۡ یُنَزِّلۡ بِهٖ عَلَیۡکُمۡ سُلۡطٰنًا فَاَیُّ الۡفَرِیۡقَیۡنِ اَحَقُّ بِالۡاَمۡنِ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ» [سورة الأنعام:٦، الآية:٨١] ترجمه كنز العرفان: «اور میں تمہارے شریکوں سے کیوں ڈروں؟ اور تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تم نے اللہ کا شریک اس کو ٹھہرایا جس کی کوئی دلیل اللہ نے تم پر نہیں اتاری تو دونوں گروہوں میں امان کا زیادہ حق دار کون ہے؟ اگر تم جانتے ہو» تفسير صراط الجنان: {وكیف اخاف ما اشركتم: اور میں تمہارے شریکوں سے کیوں ڈروں؟} حضرت ابراہیم -علیہ الصلاۃ والسلام- نے مزید فرمایا کہ: میں تمہارے شریکوں سے کیوں ڈروں جو بےجان، جمادات اور بالکل عاجز و بےبس ہیں اور مجھے ڈرانے کے بجاے تو تمہیں ڈرنا چاہیے؛ کیوں کہ تم نے ان بتوں کو اللہ -عزوجل- کا شریک ٹھہرایا، جن کے شریک ہونے کی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں۔ اس بات کو سامنے رکھ کر غور کرو کہ امن کا مستحق کون ہے؟ وہ مومن جس کے پاس اپنے عقیدے کی حقانیت کے دلائل ہیں یا وہ مشرک امن کا مستحق ہے جس کے پاس اُس کے عقیدے کی کوئی معقول و قابل قبول دلیل نہیں ہے۔

پیش کش : مولانا عبد القدوس مصباحی

شرک کرنے والے اللہ کو جواب نہ دے سکیں گے

 

Kutubahu & Verified by:

<h2>تفسیر «وَکَیۡفَ اَخَافُ مَاۤ اَشۡرَکۡتُمۡ وَلَا تَخَافُوۡنَ اَنَّکُمۡ اَشۡرَکۡتُمۡ بِاللّٰهِ مَا لَمۡ یُنَزِّلۡ بِهٖ عَلَیۡکُمۡ سُلۡطٰنًا</h2> <p style="text-align: center;"><strong>بسم الله الرحمن الرحيم</strong></p> آیت کریمه: «وَکَیۡفَ اَخَافُ مَاۤ اَشۡرَکۡتُمۡ وَلَا تَخَافُوۡنَ اَنَّکُمۡ اَشۡرَکۡتُمۡ بِاللّٰهِ مَا لَمۡ یُنَزِّلۡ بِهٖ عَلَیۡکُمۡ سُلۡطٰنًا فَاَیُّ الۡفَرِیۡقَیۡنِ اَحَقُّ بِالۡاَمۡنِ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ» [سورة الأنعام:٦، الآية:٨١] ترجمه كنز العرفان: «اور میں تمہارے شریکوں سے کیوں ڈروں؟ اور تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تم نے اللہ کا شریک اس کو ٹھہرایا جس کی کوئی دلیل اللہ نے تم پر نہیں اتاری تو دونوں گروہوں میں امان کا زیادہ حق دار کون ہے؟ اگر تم جانتے ہو» تفسير صراط الجنان: {وكیف اخاف ما اشركتم: اور میں تمہارے شریکوں سے کیوں ڈروں؟} حضرت ابراہیم -علیہ الصلاۃ والسلام- نے مزید فرمایا کہ: میں تمہارے شریکوں سے کیوں ڈروں جو بےجان، جمادات اور بالکل عاجز و بےبس ہیں اور مجھے ڈرانے کے بجاے تو تمہیں ڈرنا چاہیے؛ کیوں کہ تم نے ان بتوں کو اللہ -عزوجل- کا شریک ٹھہرایا، جن کے شریک ہونے کی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں۔ اس بات کو سامنے رکھ کر غور کرو کہ امن کا مستحق کون ہے؟ وہ مومن جس کے پاس اپنے عقیدے کی حقانیت کے دلائل ہیں یا وہ مشرک امن کا مستحق ہے جس کے پاس اُس کے عقیدے کی کوئی معقول و قابل قبول دلیل نہیں ہے۔ <p style="text-align: center;"><strong>پیش کش : مولانا عبد القدوس مصباحی</strong></p> <!--more--> <h2 class="entry-title"><a href="https://urdu.masailworld.com/?p=69" rel="bookmark">شرک کرنے والے اللہ کو جواب نہ دے سکیں گے</a></h2>  

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...