Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1021 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 5K Views

اولیاء اللہ کی سواری مرد اور عورت کسی پر نہیں آتی

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

اولیاء اللہ کی سواری مرد اور عورت کسی پر نہیں آتی

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

اولیاء اللہ کی سواری مرد اور عورت کسی پر نہیں آتی

ایک عورت بتاتی ہے کہ میرے اندر اولیاء اللہ کی سواری آتی ہے یا حاضری آتی ہے اور کئی مرد اس عورت کے ہاتھ بھی چومتے ہیں اور اپنی تکلیف بھی بتاتے ہیں تو کیا یہ جائز ہے؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ وہ عورت غلط کہتی ہے ، اولیاء اللہ کی سواری مرد ،عورت کسی پر نہیں آتی ہے ۔ اور خاص کر ان کی سواری عورتوں پر شرعاً بہت بعید ہے ، کیونکہ وہ حضرات اجنبی عورت کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے تو ان پر سوار کیوں کر ہو سکتے ہیں، یا تو وہ عورت خود جھوٹ بول رہی ہے ، یا اس پر شیطان کی سواری آتی ہے اور وہ جھوٹ بول کر اولیاء اللہ کو بد نام کرتی ہے ۔ مردوں پر اس عورت کے ہاتھ پکڑنا، چومنا حرام ہے ۔ اور اس کے پاس علاج کے لیے جانا ممنوع ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔۔ کتبــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور 

Kutubahu & Verified by:

<h2>اولیاء اللہ کی سواری مرد اور عورت کسی پر نہیں آتی</h2> ایک عورت بتاتی ہے کہ میرے اندر اولیاء اللہ کی سواری آتی ہے یا حاضری آتی ہے اور کئی مرد اس عورت کے ہاتھ بھی چومتے ہیں اور اپنی تکلیف بھی بتاتے ہیں تو کیا یہ جائز ہے؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> وہ عورت غلط کہتی ہے ، اولیاء اللہ کی سواری مرد ،عورت کسی پر نہیں آتی ہے ۔ اور خاص کر ان کی سواری عورتوں پر شرعاً بہت بعید ہے ، کیونکہ وہ حضرات اجنبی عورت کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے تو ان پر سوار کیوں کر ہو سکتے ہیں، یا تو وہ عورت خود جھوٹ بول رہی ہے ، یا اس پر شیطان کی سواری آتی ہے اور وہ جھوٹ بول کر اولیاء اللہ کو بد نام کرتی ہے ۔ مردوں پر اس عورت کے ہاتھ پکڑنا، چومنا حرام ہے ۔ اور اس کے پاس علاج کے لیے جانا ممنوع ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور </strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...