Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1029
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
6K Views
نماز کی قرات میں ایاک نستعین میں زبر کو کھینچ کر پڑھ دیا الف کے مانند ہو گیا تو اس کی نماز ہوگی یا نہیں؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
نماز کی قرات میں ایاک نستعین میں زبر کو کھینچ کر پڑھ دیا الف کے مانند ہو گیا تو اس کی نماز ہوگی یا نہیں؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
نماز کی قرات میں ایاک نستعین میں زبر کو کھینچ کر پڑھ دیا الف کے مانند ہو گیا تو اس کی نماز ہوگی یا نہیں؟
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کہ اگر کسی نے نماز کی قرات میں ایاک نستعین میں زبر کو کھینچ کر پڑھ دیا الف کے مانند ہو گیا تو اس کی نماز ہوگی یا نہیں؟ بینوا وتوجروا . الجوابــــــــــــــــــــــــ جس شخص نے نماز کی قرات ایاک نستعین میں ضمیر منفصل کے زبر کو کھینچ کے پڑھ دیا کہ وہ الف کے مانند ہو گیا تو اس کی نماز ہو جائے گی کیونکہ یہاں الف کی زیادتی سے معنی میں کوئی تغیر واقع نہیں ہے. اس باب میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اگر ایسی غلطی ہوئی جس سے معنی بدل جائے تو نماز فاسد ہو جائے گی ورنہ نہیں اور اگر اعرابی غلطی ایسی ہو جس سے معنی بدل جائے تو نماز فاسد نہ ہو گی جیسے وانھی عن المنکر میں ر کے بعد ی کی زیادتی ہے اس کے باوجود بھی نماز فاسد نہیں ہوئی کہ تغیر معنی نہیں ہے. فتاوی ہندیہ میں ہے وان غير المعنى تفسد صلاته عند عامۃ المشايخ . ومنها زياده حرف ان زاد حرفا فان كان لا يغير المعنى لا تفسد صلاته عند عامۃ المشايخ نحو اين يقرا وانهى عن المنكر بزياده الیائ هكذا في الخلاصہ. ١ھ ملخصا (جلد ١ ص 79) والله تعالى اعلم ۔ ماخوذ از فتاویٰ مرکز تربیت افتاء ،قراءت کا بیان صفحہ 169
Kutubahu & Verified by:
<h3>نماز کی قرات میں ایاک نستعین میں زبر کو کھینچ کر پڑھ دیا الف کے مانند ہو گیا تو اس کی نماز ہوگی یا نہیں؟</h3> سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کہ اگر کسی نے نماز کی قرات میں ایاک نستعین میں زبر کو کھینچ کر پڑھ دیا الف کے مانند ہو گیا تو اس کی نماز ہوگی یا نہیں؟ بینوا وتوجروا . <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــ</strong></span> جس شخص نے نماز کی قرات ایاک نستعین میں ضمیر منفصل کے زبر کو کھینچ کے پڑھ دیا کہ وہ الف کے مانند ہو گیا تو اس کی نماز ہو جائے گی کیونکہ یہاں الف کی زیادتی سے معنی میں کوئی تغیر واقع نہیں ہے. اس باب میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اگر ایسی غلطی ہوئی جس سے معنی بدل جائے تو نماز فاسد ہو جائے گی ورنہ نہیں اور اگر اعرابی غلطی ایسی ہو جس سے معنی بدل جائے تو نماز فاسد نہ ہو گی جیسے وانھی عن المنکر میں ر کے بعد ی کی زیادتی ہے اس کے باوجود بھی نماز فاسد نہیں ہوئی کہ تغیر معنی نہیں ہے. فتاوی ہندیہ میں ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>وان غير المعنى تفسد صلاته عند عامۃ المشايخ . ومنها زياده حرف ان زاد حرفا فان كان لا يغير المعنى لا تفسد صلاته عند عامۃ المشايخ نحو اين يقرا وانهى عن المنكر بزياده الیائ هكذا في الخلاصہ.</strong> <strong>١ھ ملخصا (جلد ١ ص 79)</strong></span> والله تعالى اعلم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>ماخوذ از فتاویٰ مرکز تربیت افتاء ،قراءت کا بیان صفحہ 169</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...