Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1030 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 6.1K Views

حالت نماز میں اگر داہنے پاؤں کا انگوٹھا اپنی جگہ سے ہٹ گیا تو کیا حکم ہے؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

حالت نماز میں اگر داہنے پاؤں کا انگوٹھا اپنی جگہ سے ہٹ گیا تو کیا حکم ہے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

سوال : حالت نماز میں اگر داہنے پاؤں کا انگوٹھا اپنی جگہ سے ہٹ گیا تو کیا حکم ہے؟

الجوابــــــــــــــــــــــــــــــ داہنے پاؤں کا انگوٹھا اپنی جگہ سے ہٹ گیا تو کوئی حرج نہیں, لیکن مقتدی کا انگوٹھا داہنے بائیں یا آگے پیچھے اتنا ہٹنا کہ جس سے صف میں کشادگی پیدا ہو یا سینہ صف سے باہر نکلے مکروہ ہے کہ احادیث کریمہ میں صف کے سب سے باہر نکلنے سے منع کیا گیا ہے اور اگر ایک مقتدی جو امام کے برابر میں تھا وہ اتنا آگے بڑھا کہ اس کے قدم کا اکثر حصہ امام کے قدم سے آگے ہوا تو مقتدی کی نماز فاسد ہوئی ورنہ نہیں جیسا کہ ردالمحتار جلد اول صفحہ 381 میں ہے الاصح ما لم یتقدم اکثر قدم المقتدی لا تفسد صلاتہ کما فی المجتبی اور اگر منفرد تنہا نماز پڑھنے والا قبلہ کی طرف ایک صف کی مقدار چلا پھر ایک رکن ادا کرنے کی مقدار ٹھہر گیا پھر اتنا ہی چلا اور اتنی دیر ٹھہر گیا تو چاہے متعدد بار ہو اگر وہ مسجد میں نماز پڑھتا ہو تو جب تک مسجد سے باہر نہ ہو نماز فاسد نہ ہو گی . ایسا ہی بہار شریعت حصہ سوم مطبوعہ لاہور صفحہ 152 میں ہے ۔ اور در مختار نامہ مع شامی جلد اول صفحہ 421 میں ہے مشی مستقبل القبلۃ ھل تفسد ان قدر صف ثم وقف قدر رکن ثم مشی ووقف کذلک وھکذا لا تفسد وان کثر ما لم یختلف المکان اور فتاویٰ عالمگیری جلد اول مطبوعہ مصر صفحہ 96 میں فتاوی قاضی خان سے ہے لو مشی فی صلاتہ مقدار صف واحد لم تفسد صلاتہ. وان مشی الی صف ووقف ثم الی صف لا تفسد لیکن بلا ضرورت ایسا کرنا ضرور مکروہ ہے ۔ اس لئے کہ جس فعل کی زیادتی مفسد ہے اس کا تھوڑا کرنا ضرور مکروہ ہے ۔ اور 2 صف کی مقدار ایک دم چلنا مفسد صلاۃ ہے . رد المحتار جلد اول صفحہ 422 پر ہے ما افسد کثیرہ کرہ قلیلہ بلا ضرورۃ ۔ اور عالمگیری جلد اول صفحہ 96 میں ہے “ان مشی دفعۃ واحدۃ مقدار صفین فسدت صلاتہ ۔ “ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 371

Kutubahu & Verified by:

<h2>سوال : حالت نماز میں اگر داہنے پاؤں کا انگوٹھا اپنی جگہ سے ہٹ گیا تو کیا حکم ہے؟</h2> <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> داہنے پاؤں کا انگوٹھا اپنی جگہ سے ہٹ گیا تو کوئی حرج نہیں, لیکن مقتدی کا انگوٹھا داہنے بائیں یا آگے پیچھے اتنا ہٹنا کہ جس سے صف میں کشادگی پیدا ہو یا سینہ صف سے باہر نکلے مکروہ ہے کہ احادیث کریمہ میں صف کے سب سے باہر نکلنے سے منع کیا گیا ہے اور اگر ایک مقتدی جو امام کے برابر میں تھا وہ اتنا آگے بڑھا کہ اس کے قدم کا اکثر حصہ امام کے قدم سے آگے ہوا تو مقتدی کی نماز فاسد ہوئی ورنہ نہیں جیسا کہ ردالمحتار جلد اول صفحہ 381 میں ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>الاصح ما لم یتقدم اکثر قدم المقتدی لا تفسد صلاتہ کما فی المجتبی</strong></span> اور اگر منفرد تنہا نماز پڑھنے والا قبلہ کی طرف ایک صف کی مقدار چلا پھر ایک رکن ادا کرنے کی مقدار ٹھہر گیا پھر اتنا ہی چلا اور اتنی دیر ٹھہر گیا تو چاہے متعدد بار ہو اگر وہ مسجد میں نماز پڑھتا ہو تو جب تک مسجد سے باہر نہ ہو نماز فاسد نہ ہو گی . ایسا ہی بہار شریعت حصہ سوم مطبوعہ لاہور صفحہ 152 میں ہے ۔ اور در مختار نامہ مع شامی جلد اول صفحہ 421 میں ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>مشی مستقبل القبلۃ ھل تفسد ان قدر صف ثم وقف قدر رکن ثم مشی ووقف کذلک وھکذا لا تفسد وان کثر ما لم یختلف المکان</strong></span> اور فتاویٰ عالمگیری جلد اول مطبوعہ مصر صفحہ 96 میں فتاوی قاضی خان سے ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>لو مشی فی صلاتہ مقدار صف واحد لم تفسد صلاتہ. وان مشی الی صف ووقف ثم الی صف لا تفسد</strong></span> لیکن بلا ضرورت ایسا کرنا ضرور مکروہ ہے ۔ اس لئے کہ جس فعل کی زیادتی مفسد ہے اس کا تھوڑا کرنا ضرور مکروہ ہے ۔ اور 2 صف کی مقدار ایک دم چلنا مفسد صلاۃ ہے . رد المحتار جلد اول صفحہ 422 پر ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>ما افسد کثیرہ کرہ قلیلہ بلا ضرورۃ ۔</strong></span> اور عالمگیری جلد اول صفحہ 96 میں ہے<span style="color: #ff0000;"><strong> "ان مشی دفعۃ واحدۃ مقدار صفین فسدت صلاتہ ۔ "</strong></span> واللہ تعالی اعلم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 371</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...