Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #87 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 11.5K Views

عید کی نماز کا وقت کب سے کب تک رہتا ہے از محمد محفوظ عالم رضوی

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

عید کی نماز کا وقت کب سے کب تک رہتا ہے از محمد محفوظ عالم رضوی

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

عنوان

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ پر کہ عید کی نماز کا وقت کب سے کب تک رہتا ہے جواب عنایت فرمائیں بہت بہت مہربانی ہوگی۔

عید کی نماز کا وقت کب سے کب تک رہتا ہے از محمد محفوظ عالم رضوی

باسمہ تعالی و تقدس الجواب بعون الملک الوہاب عیدین کی نماز کا وقت بقدر ایک نیزہ آفتاب بلند ہونے سے ضحوۂ کبری یعنی نصف النھار شرعی تک ہے مگر عید الفطر میں دیر کرنا اور عید الا ضحی میں جلد پڑھ لینا مستحب ہے ۔ ھکذا قال الشیخ العلامۃ امجد علی الاعظمی قدس سرہ فی الجزء الرابع من بھار شریعت فتاوی عالمگیری میں ہے :”وقت صلاۃ العیدین من حین تبیض الشمس الی أن تزول کذا فی السراجیہ وکذا فی التبیین ۔ والافضل ان یعجل الاضحی و یوخر الفطر کذا فی الخلاصۃ”(ج:1,ص:151) یعنی عیدین کی نماز کا وقت سورج کے سفید ہونے سے زوال تک ہے یہی سراجیہ میں لکھا ہے اور ایسا ہی تبیین میں بھی ہے البتہ عید الاضحی میں جلدی پڑھنا اور عید الفطر میں تاخیر کرنا افضل ہے جیسا کہ خلاصۃ الفتاوی میں ہے ۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب۔

کتبہ :محمد محفوظ عالم رضوی علیمی

عید کی نماز گھر پر قائم کر سکتے ہیں یا نہیں از محمد محفوظ عالم رضوی

گھر کے مردوں کے ساتھ عورتوں کا جماعت میں شریک ہونا

 

Kutubahu & Verified by:

<h3>عنوان</h3> کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ پر کہ عید کی نماز کا وقت کب سے کب تک رہتا ہے جواب عنایت فرمائیں بہت بہت مہربانی ہوگی۔ <h2> عید کی نماز کا وقت کب سے کب تک رہتا ہے از محمد محفوظ عالم رضوی</h2> باسمہ تعالی و تقدس الجواب بعون الملک الوہاب عیدین کی نماز کا وقت بقدر ایک نیزہ آفتاب بلند ہونے سے ضحوۂ کبری یعنی نصف النھار شرعی تک ہے مگر عید الفطر میں دیر کرنا اور عید الا ضحی میں جلد پڑھ لینا مستحب ہے ۔ ھکذا قال الشیخ العلامۃ امجد علی الاعظمی قدس سرہ فی الجزء الرابع من بھار شریعت فتاوی عالمگیری میں ہے :"وقت صلاۃ العیدین من حین تبیض الشمس الی أن تزول کذا فی السراجیہ وکذا فی التبیین ۔ والافضل ان یعجل الاضحی و یوخر الفطر کذا فی الخلاصۃ"(ج:1,ص:151) یعنی عیدین کی نماز کا وقت سورج کے سفید ہونے سے زوال تک ہے یہی سراجیہ میں لکھا ہے اور ایسا ہی تبیین میں بھی ہے البتہ عید الاضحی میں جلدی پڑھنا اور عید الفطر میں تاخیر کرنا افضل ہے جیسا کہ خلاصۃ الفتاوی میں ہے ۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب۔ <h4 style="text-align: center;">کتبہ :محمد محفوظ عالم رضوی علیمی</h4> <!--more--> <h2 class="entry-title"><a href="https://urdu.masailworld.com/?p=314" rel="bookmark">عید کی نماز گھر پر قائم کر سکتے ہیں یا نہیں از محمد محفوظ عالم رضوی</a></h2> <header class="entry-header"> <h2 class="entry-title"><a href="https://urdu.masailworld.com/?p=320" rel="bookmark">گھر کے مردوں کے ساتھ عورتوں کا جماعت میں شریک ہونا</a></h2>   </header>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...