Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1032
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
6.3K Views
رضاعی ماموں بھانجی سے نکاح ہو سکتا ہے یا نہیں ؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
رضاعی ماموں بھانجی سے نکاح ہو سکتا ہے یا نہیں ؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
رضاعی ماموں بھانجی سے نکاح ہو سکتا ہے یا نہیں ؟
سوال : ایک ماں کی دور لڑکیاں ہیں. بڑی لڑکی کا نام ہاجرہ ہے اور چھوٹی کا نام آمنہ ۔ ان دونوں کی ماں کا انتقال ہوگیا آمنہ گود میں تھی تو ہاجرہ نے اپنی بہن کو دودھ پلایا اب آمنہ بالغ ہو گئی اور اس کی شادی بھی ہوگئی اور ایک لڑکی پیدا ہوئی تو آمنہ کی اس لڑکی کا نکاح حاضرہ کے لڑکے کے ساتھ کرنا کیسا ہے؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ صورت مستفسرہ میں آمنہ کی لڑکی کا نکاح ہاجرہ کے لڑکے سے کرنا حرام ہے ہر گز جائز نہیں. اس لئے کہ وہ ایک دوسرے کے رضاعی ماموں بھانجی ہیں اور ماموں بھانجی کا نکاح جیسا کہ نسبا حرام ہے رضاعا بھی حرام ہے ۔ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب ۔ هذا ما عندي والعلم عند الله تعالى ورسوله وجل جلالہ وصل المولى تعالى عليه وسلم كتبــــــــــــــــــــــه : مفتی جلال الدين احمد الامجدي ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 717 کتاب الرضاع
Kutubahu & Verified by:
<h2>رضاعی ماموں بھانجی سے نکاح ہو سکتا ہے یا نہیں ؟</h2> سوال : ایک ماں کی دور لڑکیاں ہیں. بڑی لڑکی کا نام ہاجرہ ہے اور چھوٹی کا نام آمنہ ۔ ان دونوں کی ماں کا انتقال ہوگیا آمنہ گود میں تھی تو ہاجرہ نے اپنی بہن کو دودھ پلایا اب آمنہ بالغ ہو گئی اور اس کی شادی بھی ہوگئی اور ایک لڑکی پیدا ہوئی تو آمنہ کی اس لڑکی کا نکاح حاضرہ کے لڑکے کے ساتھ کرنا کیسا ہے؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> صورت مستفسرہ میں آمنہ کی لڑکی کا نکاح ہاجرہ کے لڑکے سے کرنا حرام ہے ہر گز جائز نہیں. اس لئے کہ وہ ایک دوسرے کے رضاعی ماموں بھانجی ہیں اور ماموں بھانجی کا <a href="https://masailworld.com/kya-ladka-aur-ladki-ke-aapas-me-qubool-kar-lene-se-nikah-ho-jata-hai/" target="_blank" rel="noopener"><strong>نکاح</strong></a> جیسا کہ نسبا حرام ہے رضاعا بھی حرام ہے ۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب ۔</strong></span> هذا ما عندي والعلم عند الله تعالى ورسوله وجل جلالہ وصل المولى تعالى عليه وسلم <span style="color: #339966;"><strong>كتبــــــــــــــــــــــه : مفتی جلال الدين احمد الامجدي</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 717 کتاب الرضاع</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...