Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #88
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
11.6K Views
کچھ لوگ مسجد میں اور کچھ لوگ عید گاہ میں نماعیدالفطر پڑھ سکتے ہیں ؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
کچھ لوگ مسجد میں اور کچھ لوگ عید گاہ میں نماعیدالفطر پڑھ سکتے ہیں ؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
کچھ لوگ مسجد میں اور کچھ لوگ عید گاہ میں نماعیدالفطر پڑھ سکتے ہیں ؟
عنوان کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ پر کہ ایک گاؤں میں ایک مسجد اور ایک عید گاہ ہے اور مسجد میں نماز جمعہ لوگ ادا کرتے ہیں تو اب کی بار کرونا کی وجہ سے جو سرکاری حکم ہے اس حکم کو دیکھتے ہوئے عید کے موقع پر لوگ چاہتے ہیں کی کچھ لوگ مسجد میں اور کچھ لوگ عید گاہ میں نماعیدالفطر پڑھا جائے ۔ یا اس طرح ایک ہی جگہ پر امام بدل بدل کر تھوڑے تھوڑے لوگ پڑھ سکتے ہیں یا نہیں ۔ ان تمام مسائل پر شریعت کا کیا حکم ہے جواب عنایت فرمائیں کرم ہوگا. بہت بہت مہربانی ہوگی. باسمہ تعالی وتقدس الجواب بعون الملک الوہاب عید کی نماز کے لئے عید گاہ جانا سنت ہے ۔ چنانچہ حضور صدرالشریعہ علامہ امجد علی اعظمی قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں :”عید گاہ کو نماز کے لئے جانا سنت ہے اگرچہ مسجد میں گنجائش ہو ” (بہار شریعت جلد اول حصہ چہارم صفحہ :781) مگر عید کی نماز عید گاہ ہی میں پڑھنا ضروری نہیں بلکہ مسجد میں پڑھنا بھی جائز ہے ۔ اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا قادری قدس سرہ ارشاد فرماتے ہیں: “رفتن عید گاہ سنت است -فی الدرالمختار الخروج الیھا ای الجبانۃ لصلاۃ العید سنۃ وان وسعھم المسجد الجامع وھو الصحیح -اما واجب نیست اگر بہ مسجد شہر نماز گزارند قطعا درست وبے خلل باشد اگرچہ ترک سنت کردہ باشند “ (فتاوی رضویہ جلد سوم صفحہ 809) یعنی نماز عید کے لئے عیدگاہ جانا سنت ہے ۔ درمختار میں ہے کہ نماز عید کے لئے عید گاہ جانا سنت ہے اگرچہ جامع مسجد میں گنجائش ہو اور یہی صحیح قول ہے ۔ مگر یہ واجب نہیں ہے لہذا اگر شہر کی مسجد میں نماز عید ادا کی تو بلا شبہ نماز درست ہوگی اگرچہ سنت کا ترک لازم آئیگا (مگر نماز بلا کراہیت ہو جائے گی )۔ اسی طرح ایک ہی مسجد یا ایک ہی عید گاہ میں امام بدل کر دو بار جماعت قائم کرنا بھی جائز ہے بشرطیکہ دونوں امام ماذون لہ ہوں ۔ چنانچہ آقائے نعمت اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالی علیہ اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں رقمطراز ہیں :” اگر دونوں امام ماذون باقامت نماز عید تھے تو دونوں نمازیں جائز ہو گئیں ” (فتاوی رضویہ جلد سوم صفحہ 803) حضور فقیہ ملت الشاہ مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمۃ اللہ تعالی علیہ ارشاد فرماتے ہیں :”اگر دونوں اماموں کو عید کی نماز قائم کرنے کا اختیار تھا تو دونوں نمازیں جائز ہو گئیں ” (فتاوی فیض الرسول جلد اول صفحہ 430) حاصل کلام یہ ہے کہ عید کی نماز عید گاہ اور مسجد دونوں میں پڑھنا جائز ہے اسی طرح ایک ہی جگہ دوبار امام بدل کر نماز عید پڑھنا بھی جائز ہے ۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب۔کتبہ:محمد محفوظ عالم رضوی علیمی (کولکاتا )
عید کی نماز کا وقت کب سے کب تک رہتا ہے از محمد محفوظ عالم رضوی
عید کی نماز گھر پر قائم کر سکتے ہیں یا نہیں از محمد محفوظ عالم رضوی
Kutubahu & Verified by:
<h2>کچھ لوگ مسجد میں اور کچھ لوگ عید گاہ میں نماعیدالفطر پڑھ سکتے ہیں ؟</h2> <strong>عنوان</strong> کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ پر کہ ایک گاؤں میں ایک مسجد اور ایک عید گاہ ہے اور مسجد میں نماز جمعہ لوگ ادا کرتے ہیں تو اب کی بار کرونا کی وجہ سے جو سرکاری حکم ہے اس حکم کو دیکھتے ہوئے عید کے موقع پر لوگ چاہتے ہیں کی کچھ لوگ مسجد میں اور کچھ لوگ عید گاہ میں نماعیدالفطر پڑھا جائے ۔ یا اس طرح ایک ہی جگہ پر امام بدل بدل کر تھوڑے تھوڑے لوگ پڑھ سکتے ہیں یا نہیں ۔ ان تمام مسائل پر شریعت کا کیا حکم ہے جواب عنایت فرمائیں کرم ہوگا. بہت بہت مہربانی ہوگی. باسمہ تعالی وتقدس الجواب بعون الملک الوہاب عید کی نماز کے لئے عید گاہ جانا سنت ہے ۔ چنانچہ حضور صدرالشریعہ علامہ امجد علی اعظمی قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں :"عید گاہ کو نماز کے لئے جانا سنت ہے اگرچہ مسجد میں گنجائش ہو " (بہار شریعت جلد اول حصہ چہارم صفحہ :781) مگر عید کی نماز عید گاہ ہی میں پڑھنا ضروری نہیں بلکہ مسجد میں پڑھنا بھی جائز ہے ۔ اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا قادری قدس سرہ ارشاد فرماتے ہیں: <em><strong>"رفتن عید گاہ سنت است -فی الدرالمختار الخروج الیھا ای الجبانۃ لصلاۃ العید سنۃ وان وسعھم المسجد الجامع وھو الصحیح -اما واجب نیست اگر بہ مسجد شہر نماز گزارند قطعا درست وبے خلل باشد اگرچہ ترک سنت کردہ باشند "</strong></em> (فتاوی رضویہ جلد سوم صفحہ 809) یعنی نماز عید کے لئے عیدگاہ جانا سنت ہے ۔ درمختار میں ہے کہ نماز عید کے لئے عید گاہ جانا سنت ہے اگرچہ جامع مسجد میں گنجائش ہو اور یہی صحیح قول ہے ۔ مگر یہ واجب نہیں ہے لہذا اگر شہر کی مسجد میں نماز عید ادا کی تو بلا شبہ نماز درست ہوگی اگرچہ سنت کا ترک لازم آئیگا (مگر نماز بلا کراہیت ہو جائے گی )۔ اسی طرح ایک ہی مسجد یا ایک ہی عید گاہ میں امام بدل کر دو بار جماعت قائم کرنا بھی جائز ہے بشرطیکہ دونوں امام ماذون لہ ہوں ۔ چنانچہ آقائے نعمت اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالی علیہ اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں رقمطراز ہیں :" اگر دونوں امام ماذون باقامت نماز عید تھے تو دونوں نمازیں جائز ہو گئیں " (فتاوی رضویہ جلد سوم صفحہ 803) حضور فقیہ ملت الشاہ مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمۃ اللہ تعالی علیہ ارشاد فرماتے ہیں :"اگر دونوں اماموں کو عید کی نماز قائم کرنے کا اختیار تھا تو دونوں نمازیں جائز ہو گئیں " (فتاوی فیض الرسول جلد اول صفحہ 430) حاصل کلام یہ ہے کہ عید کی نماز عید گاہ اور مسجد دونوں میں پڑھنا جائز ہے اسی طرح ایک ہی جگہ دوبار امام بدل کر نماز عید پڑھنا بھی جائز ہے ۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب۔ <p style="text-align: center;"><strong>کتبہ:محمد محفوظ عالم رضوی علیمی (کولکاتا )</strong></p> <!--more--> <h2 class="entry-title"><a href="https://urdu.masailworld.com/?p=330" rel="bookmark">عید کی نماز کا وقت کب سے کب تک رہتا ہے از محمد محفوظ عالم رضوی</a></h2> <h2 class="entry-title"><a href="https://urdu.masailworld.com/?p=314" rel="bookmark">عید کی نماز گھر پر قائم کر سکتے ہیں یا نہیں از محمد محفوظ عالم رضوی</a></h2>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...