Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1041 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 7.3K Views

کاندھے سے چادر اوڑھ کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ / مسائل ورلڈ

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

کاندھے سے چادر اوڑھ کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ / مسائل ورلڈ

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

کاندھے سے چادر اوڑھ کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟

سوال : کاندھے سے چادر اوڑھ کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ زید کہتا ہے کہ اس میں کوئی کراہت نہیں اور حوالہ میں فتاوی امجدیہ کی یہ عبارت پیش کرتا ہے کہ چادر اوڑھنے میں بہتر یہ ہے کہ سر سے اوڑھے. اس طرح اوڑھنا مطابق سنت ہے اور کندھے سے اگر اوڑھے جب بھی نماز ہو جائے گی نماز میں کراہت نہیں. (جلد اول صفحہ 200 حالانکہ فتاویٰ رضویہ جلد سوم صفحہ 417 پر ہے کہ حضرت صدر الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ نے ایک شخص سے فرمایا کہ چادر اگر رکوع میں یا کھڑے ہونے سے گر جائے تو ہاتھ سے اشارہ کر کے سر پر رکھ لینا چاہیے اگر نہیں رکھے گا تو نماز مکروہ ہوگی. اور اعلی حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان نے صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کے اس قول کا رد بھی نہیں فرمایا تو ان دونوں اقوال میں تطبیق کی کیا صورت ہے؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــ چادر سر سے اڑ کر نماز پڑھنا سنت ہے. کندھے سے اوڑھ کر نماز پڑھنا خلاف سنت ہے. فتاوی امجدیہ میں ” کراہت نہیں ” سے مراد کراہت تحریمی نہیں ہے . اور فتاوی رضویہ میں کراہت سے مراد تنزیہی ہے کہ اعلی حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان نے جو حدیث نقل فرمائی ہے وہ کراہت تحریمی کے اثبات کے لیے کافی نہیں کہ مکروہ تحریمی کا اثبات اس سنت کے ترک سے ہوگا جو سنت ھدی مثل اذان و جماعت کے ہو ۔ و اللہ تعالی اعلم کتبــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 375

Kutubahu & Verified by:

<h2>کاندھے سے چادر اوڑھ کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟</h2> سوال : کاندھے سے چادر اوڑھ کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ زید کہتا ہے کہ اس میں کوئی کراہت نہیں اور حوالہ میں فتاوی امجدیہ کی یہ عبارت پیش کرتا ہے کہ چادر اوڑھنے میں بہتر یہ ہے کہ سر سے اوڑھے. اس طرح اوڑھنا مطابق سنت ہے اور کندھے سے اگر اوڑھے جب بھی نماز ہو جائے گی نماز میں کراہت نہیں. (جلد اول صفحہ 200 حالانکہ فتاویٰ رضویہ جلد سوم صفحہ 417 پر ہے کہ حضرت صدر الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ نے ایک شخص سے فرمایا کہ چادر اگر رکوع میں یا کھڑے ہونے سے گر جائے تو ہاتھ سے اشارہ کر کے سر پر رکھ لینا چاہیے اگر نہیں رکھے گا تو نماز مکروہ ہوگی. اور اعلی حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان نے صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کے اس قول کا رد بھی نہیں فرمایا تو ان دونوں اقوال میں تطبیق کی کیا صورت ہے؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> چادر سر سے اڑ کر نماز پڑھنا سنت ہے. کندھے سے اوڑھ کر نماز پڑھنا خلاف سنت ہے. فتاوی امجدیہ میں '' کراہت نہیں '' سے مراد کراہت تحریمی نہیں ہے . اور فتاوی رضویہ میں کراہت سے مراد تنزیہی ہے کہ اعلی حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان نے جو حدیث نقل فرمائی ہے وہ کراہت تحریمی کے اثبات کے لیے کافی نہیں کہ مکروہ تحریمی کا اثبات اس سنت کے ترک سے ہوگا جو سنت ھدی مثل اذان و جماعت کے ہو ۔ و اللہ تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 375</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...