Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1046 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 7.9K Views

نماز میں قرآن مجید آہستہ پڑھنے کی ادنی مقدار کیا ہے؟ / نماز کے مسائل

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

نماز میں قرآن مجید آہستہ پڑھنے کی ادنی مقدار کیا ہے؟ / نماز کے مسائل

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

نماز میں قرآن مجید آہستہ پڑھنے کی ادنی مقدار کیا ہے؟

سوال : نماز میں قرآن مجید آہستہ پڑھنے کی ادنی مقدار کیا ہے؟ بہت سے لوگ صرف ہونٹ ہلاتے ہیں تو اس طرح قرآن پڑھنے سے نماز ہوگی یا نہیں نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــ قرآن مجید آہستہ پڑھنے کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ خود سنے. اگر صرف ہونٹ ہلائے یا اس قدر آہستہ پڑھے کہ خود نہ سنے تو نماز نہ ہوگی. بہار شریعت حصہ سوم صفحہ 69 میں ہے ” آہستہ پڑھنے میں بھی اتنا ضروری ہے کہ خود سنے اگر حروف کی تصحیح تو کی مگر اس قدر آہستہ کہ خود نہ سنا اور کوئی مانع مثلا شور و غل یا ثقل سماعت بھی نہیں تو نماز نہ ہوئی. ١ھ اور فتاوی عالمگیری جلد اول مصری صفحہ 65 میں ہے ان صح الحروف بلسانه ولم يسمع نفسه لا يجوز وبه اخذ عامۃ المشايخ هكذا في المحيط وهو المختار هكذا في سراجیۃ وهو الصحيح هكذا في النقایۃ. وهو سبحانه وتعالى اعلم بالصواب کتبـــــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 241

Kutubahu & Verified by:

<h2>نماز میں قرآن مجید آہستہ پڑھنے کی ادنی مقدار کیا ہے؟</h2> سوال : نماز میں قرآن مجید آہستہ پڑھنے کی ادنی مقدار کیا ہے؟ بہت سے لوگ صرف ہونٹ ہلاتے ہیں تو اس طرح قرآن پڑھنے سے نماز ہوگی یا نہیں نہیں؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> قرآن مجید آہستہ پڑھنے کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ خود سنے. اگر صرف ہونٹ ہلائے یا اس قدر آہستہ پڑھے کہ خود نہ سنے تو نماز نہ ہوگی. بہار شریعت حصہ سوم صفحہ 69 میں ہے '' آہستہ پڑھنے میں بھی اتنا ضروری ہے کہ خود سنے اگر حروف کی تصحیح تو کی مگر اس قدر آہستہ کہ خود نہ سنا اور کوئی مانع مثلا شور و غل یا ثقل سماعت بھی نہیں تو نماز نہ ہوئی. ١ھ اور فتاوی عالمگیری جلد اول مصری صفحہ 65 میں ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>ان صح الحروف بلسانه ولم يسمع نفسه لا يجوز وبه اخذ عامۃ المشايخ هكذا في المحيط وهو المختار هكذا في سراجیۃ وهو الصحيح هكذا في النقایۃ. </strong></span> وهو سبحانه وتعالى اعلم بالصواب <span style="color: #008000;"><strong>کتبـــــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی</strong></span> <span style="color: #008000;"><strong>ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 241</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...