Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

قراءت میں ایسی غلطی ہوئ جس سے معنی فاسد ہو گیے مگر پھر درست کر لیا تو کیا حکم ہے ؟

قراءت میں ایسی غلطی ہوئ جس سے معنی فاسد ہو گیے مگر پھر درست کر لیا تو کیا حکم ہے ؟
Reference 1049 September 18, 2025 8,283 views
اصل سوالقراءت میں ایسی غلطی ہوئ جس سے معنی فاسد ہو گیے مگر پھر درست کر لیا تو کیا حکم ہے ؟

قراءت میں ایسی غلطی ہوئ جس سے معنی فاسد ہو گیے مگر پھر درست کر لیا تو کیا حکم ہے ؟

سوال : حالت نماز میں قرآن کریم پڑھتے ہوئے اگر ایسی غلطی ہوگئی کہ جس سے معنی فاسد ہو گیے مگر پھر خود بخود فورا درست کر لیا یا لقمہ دینے سے اصلاح کیا تو نماز باطل ہو یا صحیح ہوگئی؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــ جبکہ خود بخود درست کر لیا یا مقتدی کے لقمہ دینے سے اصلاح کر لی تو نماز صحیح ہوگئی باطل نہ ہوئی. فتاوی رضویہ جلد سوم صفحہ 414 میں ہے” اگر امام نے ایسی غلطی کی جس سے نماز فاسد ہوگی تو لقمہ دینا فرض ہے نہ دے گا اور اس کی تصحیح نہ ہوگی تو سب کی نماز جاتی رہے گی. وھوسبحانہ و تعالی اعلم کتبــــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 243

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.