Fatwa #1097
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
آڑھت کے کاروبار کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ / آڑھت کے بعض ناجائز طریقے
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Verified Hanafi Fiqh
تاریخ: September 18, 2025
0
11,626
سوال (Question):
آڑھت کے کاروبار کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ / آڑھت کے بعض ناجائز طریقے
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
آڑھت کے کاروبار کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟
سوال : زید آڑھت میں اپنا مال بیچنے کے لیے پہنچاتا ہے اور آڑھتدار سے کچھ رقم پیشگی لے لیتا ہے کہ مال فروخت ہونے پر حساب کر لیں گے تو یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــ زید اگر آڑھتدار سے قرض لیتا ہے تو اس کی خوشی سے لینا جائز ہے ۔ زید آڑھت میں مال پہنچا نے کے سبب اس پر جبر نہیں کر سکتا ۔ اور اگر آڑھتدار سے اپنے مال کی قیمت پیشگی لیتا ہے اس شرط پر فروخت ہونے کے بعد حساب ہو جائے گا تو حرام ہے ۔ ھکذافی الجزءالسابع من الفتاوی الرضویہ ۔ وھوتعالی علم کتبـــــــــــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh