Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1079
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
11.7K Views
ہندوستان کے کافر حربی ہیں یا ذمی یا مستامن؟ / ہندوستان کے کافروں سے سود لینا
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
ہندوستان کے کافر حربی ہیں یا ذمی یا مستامن؟ / ہندوستان کے کافروں سے سود لینا
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
ہندوستان کے کافر حربی ہیں یا ذمی یا مستامن؟
سوال : ہندوستان کے کافر حربی ہیں یا ذمی یا مستامن؟ ان کے اموال عقودفاسدہ کے ذریعہ حاصل کرنا جائز ہے یا نہیں؟زید کا کہنا ہے کہ فتاوی عزیزیہ میں موجود ہے کہ ہندوستان کے کافروں کے اموال عقودفاسدہ کے ذریعہ حاصل کرنا جائز ہے اوربکر اس کے خلاف ہے بلکہ زید یہ بھی کہتا ہے کہ ہندوستان کے کافر حربی ہیں اور حربی کافر کا مال عقودفاسدہ کے ذریعے حاصل کرسکتے ہیں . نیز ان کا مال چونکہ مباح ہے کھانا عقودفاسدہ کے ذریعہ۔ اس لیے ان سے سود بھی لےسکتے ہیں ۔ اور اگر کافر اپنے آپ سو ددے تو اس کا لینا جائز ہے ۔ یہ بات ازروئے شرع کہاں تک درست ہے ۔مع حوالہ رقم فرمائیں۔ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ہندوستان کے کافر حربی ہیں جیسا کہ رئیس الفقہاء حضرت ملا جیون رحمتہ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں ۔ ان ھم الا حربی وما یعقلھا الا العالمون (تفسیرات احمدیہ صفحہ ٣٠٠) اور ان کے اموال عقودفاسدہ کے ذریعہ حاصل کرنا جائز ہے ۔ جیسا کہ صدر الشریعہ رحمتہ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں ۔ عقد فاسد کے ذریعہ کافر حربی کا مال حاصل کرنا ممنوع نہیں۔ یعنی جو عقد مابین دو مسلمان ممنوع ہے اگر کافر حربی کے ساتھ کیا جائے تو منع نہیں مگر شرط یہ ہے کہ وہ عقد مسلم کے لیے مفید ہو ۔ مثلا ایک روپیہ کے بدلے دو روپیہ خریدے یا اس کے ہاتھ مردار کو بیچ ڈالا کہ اس طریقہ پر مسلمان سے روپیہ حاصل کرنا شرع کے خلاف اور حرام ہے ۔ اور کافر سے حاصل کرنا جائز ہے ۔ ( بہار شریعت جلد یازدہم صفحہ ١٥٣) اس عبارت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ روپیہ دے کر کافر حربی سے نفع حاصل کرنا جائز ہے مگر اسے سود کی نیت سے نہ لے کہ سود مطلقا حرام ہے۔ ۔ قال اللہ تعالی وحرم الربوا ۔ وھو سبحانہ وتعالی اعلم بالصواب ۔ کتبــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی
Kutubahu & Verified by:
<h2>ہندوستان کے کافر حربی ہیں یا ذمی یا مستامن؟</h2> سوال : ہندوستان کے کافر حربی ہیں یا ذمی یا مستامن؟ ان کے اموال عقودفاسدہ کے ذریعہ حاصل کرنا جائز ہے یا نہیں؟زید کا کہنا ہے کہ فتاوی عزیزیہ میں موجود ہے کہ ہندوستان کے کافروں کے اموال عقودفاسدہ کے ذریعہ حاصل کرنا جائز ہے اوربکر اس کے خلاف ہے بلکہ زید یہ بھی کہتا ہے کہ ہندوستان کے کافر حربی ہیں اور حربی کافر کا مال عقودفاسدہ کے ذریعے حاصل کرسکتے ہیں . نیز ان کا مال چونکہ مباح ہے کھانا عقودفاسدہ کے ذریعہ۔ اس لیے ان سے سود بھی لےسکتے ہیں ۔ اور اگر کافر اپنے آپ سو ددے تو اس کا لینا جائز ہے ۔ یہ بات ازروئے شرع کہاں تک درست ہے ۔مع حوالہ رقم فرمائیں۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> ہندوستان کے کافر حربی ہیں جیسا کہ رئیس الفقہاء حضرت ملا جیون رحمتہ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں ۔ <strong>ان ھم الا حربی وما یعقلھا الا العالمون</strong> (تفسیرات احمدیہ صفحہ ٣٠٠) اور ان کے اموال عقودفاسدہ کے ذریعہ حاصل کرنا جائز ہے ۔ جیسا کہ صدر الشریعہ رحمتہ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں ۔ عقد فاسد کے ذریعہ کافر حربی کا مال حاصل کرنا ممنوع نہیں۔ یعنی جو عقد مابین دو مسلمان ممنوع ہے اگر کافر حربی کے ساتھ کیا جائے تو منع نہیں مگر شرط یہ ہے کہ وہ عقد مسلم کے لیے مفید ہو ۔ مثلا ایک روپیہ کے بدلے دو روپیہ خریدے یا اس کے ہاتھ مردار کو بیچ ڈالا کہ اس طریقہ پر مسلمان سے روپیہ حاصل کرنا شرع کے خلاف اور حرام ہے ۔ اور کافر سے حاصل کرنا جائز ہے ۔ ( بہار شریعت جلد یازدہم صفحہ ١٥٣) اس عبارت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ روپیہ دے کر کافر حربی سے نفع حاصل کرنا جائز ہے مگر اسے سود کی نیت سے نہ لے کہ سود مطلقا حرام ہے۔ ۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>قال اللہ تعالی وحرم الربوا</strong></span> ۔ وھو سبحانہ وتعالی اعلم بالصواب ۔ <span style="color: #339966;"><strong> کتبــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...