Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

نماز کے بعد صلاۃ وسلام پڑھنا اور مصافحہ کرنا کیسا ہے ؟ / وہابیوں کے ایک فریب کا ازالہ

نماز کے بعد صلاۃ وسلام پڑھنا اور مصافحہ کرنا کیسا ہے ؟ / وہابیوں کے ایک فریب کا ازالہ
Reference 1088 September 18, 2025 12,682 views
اصل سوالنماز کے بعد صلاۃ وسلام پڑھنا اور مصافحہ کرنا کیسا ہے ؟ / وہابیوں کے ایک فریب کا ازالہ

نماز کے بعد صلاۃ وسلام پڑھنا اور مصافحہ کرنا کیسا ہے ؟ / وہابیوں کے ایک فریب کا ازالہ

کیا فرماتے علماء دین وشرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ بعد نماز فجر کھڑے ہوکر مشترکہ طور صلوۃ سلام پڑھنا۔اور بعد نماز فجر وعصر مصافحہ کرنا ۔کیا اس کا ثبوت قرآن و حدیث سے ہے اگر ہاں تو وہ آیت اور حدیث تحریر فرمائیں؟ نوازش ہوگی۔ المستفتی ۔محمد اسلم اشرفی ۔ مقام چھپیا پوسٹ ضلع سنت کبیر نگر یوپی۔ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــ ان دیار میں کھڑے ہوکر صلاة و سلام پڑھنے اور بعدِ نماز مصافحہ کرنے پر اعتراض کرنے والے عام طور پر دیوبندی وہابی ہوتے ہیں۔اور دیوبندی وہابی اپنے عقائدِ کفریہ کی بنیاد پر کافر بے دین ہیں، ان سے سلام ومصافحہ ناجائز۔ان کے پیچھے نماز باطل،ان کا ذبیحہ حرام مردار، ان سے شادی بیاہ حرام، ان کے جنازہ کی نماز حرام و کفر۔ لہذا ان سے فروعی مسائل میں بحث بھی عبث ہے۔ان سے ان کے عقائدِ کفریہ پر بحث ہونی چاہیے۔ خیر اگر یہ سوال کسی کی طرف سے بر بنائے وہابیت نہ ہو بلکہ برائے طلبِ علم ہو تو جواب یہ ہے کہ اجتماعی طور پر کھڑے ہوکر صلاة و سلام پڑھنا اور بعد نمازِ فجر و عصر مصافحہ کرنا بھی قرآن پاک اور احادیث طیبہ سے ثابت ہے۔ ارشادِ باری تعالی ہے: “اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَ سَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا” (سورہ احزاب: ۵٦) یعنی:بے شک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر، اے ایمان والو تم بھی ان پر درود اور خوب خوب سلام بھیجو۔ اس آیتِ مبارکہ میں عام طور پر بغیر کسی قید کے صلاة و سلام کا حکم دیا گیا ہے، تو یہ آیتِ مبارکہ اپنے عموم و اطلاق کے سبب صلاة و سلام کی تمام صورتوں اور ہیئتوں کے لیے دلیل ہے جب تک شرع سے کسی خاص ہیئت یا شکل پر صلاة و سلام کا لزوم یا کسی خاص ہیئت کی ممانعت ثابت نہ ہو۔ جس طرح اللہ جل شانہ نے “فاذکرونی” فرماکر اپنے ذکر کا حکم دیا تو چاہے کھڑے ہوکر ذکرِ الہی ہو، یا بیٹھ کر ہو، یا لیٹ کر ہو یہ ارشاد ہر صورت کو شامل ہے۔اور ان تمام حالتوں میں ذکر الہی کی گنجائش ہے، جیسا کہ ایک دوسری آیتِ مبارکہ میں اس کا بیان یوں ارشاد ہے: “ٱلَّذِينَ يَذْكُرُونَ ٱللَّهَ قِيَٰمًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِى خَلْقِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَٰطِلًا سُبْحَٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِ”(ترجمہ: جو کھڑے اور بیٹھے اور پہلؤوں کے بل لیٹے ہوئے اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں ۔ اے ہمارے رب!تو نے یہ سب بیکار نہیں بنایا۔ تو پاک ہے ، تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے۔سورہ آل عمران: ١۵١)ہاں! ذکر بالجہر کی جن خاص صورتوں سے منع کیا گیا ہے وہ صورتیں منع رہیں گی، ان کی اجازت نہ ہوگی۔ ایک دوسری نظیر سے اس کو سمجھیے۔ اللہ جل شانہ کا فرمان ہے:”کلوا من طیبت ما رزقنکم” اس آیتِ کریمہ نے پاکیزہ چیزوں کا کھانا حلال فرمادیا، اب جب تک کسی خاص چیز کے کھانے کی ممانعت شرع سے ثابت نہ ہو اس آیت سے اس کا حلال ہونا ثابت ہوگا۔ اب اگر کوئی نادان یہ کہے کہ خاص آم یا فلاں پھل کے بارے میں جب تک صاف صاف قرآن پاک یا حدیث میں نہیں دکھا دوگے تب تک میں نہیں مانوں گا کہ آم کھانا جائز ہے۔پھر اگر کوئی احمق اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ کہے کہ آم کی بھی سیکڑوں قسمیں ہیں۔ اور پھر کچا آم، گدرایا آم، یا درخت کا پکا ہوا آم یا گھر میں پکایا ہوا آم وغیرہ وغیرہ غرض آم کی بھی متعدد حالتیں ہیں جب تک قرآن پاک کی کسی آیت یا حدیث سے ثابت نہ ہوجائے کہ مثلاً ملیح آبادی قلمی درخت کا پکا ہوا آم کھانا جائز ہے تب تک میں نہیں مانوں گا کہ اس کا کھانا جائز ہے تو بھلا کوئی بھی تھوڑی سی عقل رکھنے والا مسلمان بتائے کہ اس نادانی اور حماقت کا کیا جواب ہوگا؟؟؟۔اللہ تعالی عقلِ سلیم عطا فرمائے اور سادہ لوح مسلمانوں کو وہابیوں کی ابلیسی عیاری ومکاری سے محفوظ رکھے!۔ اسی طرح بعد نمازِ فجر اور عصر مصافحہ کا جواز احادیثِ مصافحہ کے عموم و اطلاق سے ثابت ہے۔ (١) امام طبرانی معجم اوسط میں، اور امام بیہقی شعب الایمان میں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “اِنَّ الْمُؤْمِنَ اِذَا لقِیَ الْمُؤْمِنَ فَسَلَّمَ عَلَیْہِ وَاَخذَ بِیَدِہٖ فَصَافَحَہ تَنَاثَرَتْ خَطَایَاھُمَا کَمَا تَنَاثَرُ وَرَقُ الشَّجَرِ” یعنی: جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان سے ملاقات کرکے آپس میں مصافحہ کرتے ہیں تو ان دونوں کے گناہ ایسے جھڑتے ہیں جیسے درخت کے پتے جھڑتے ہیں۔(( المعجم الاوسط حدیث ۲۴۷ مکتبۃ المعارف ریاض ۱/ ۱۸۴)(شعب الایمان فصل فی المصافحہ حدیث ۸۹۵۱ دارالکتب العلمیہ بیروت ۶/ ۴۷۳۔ماخوذ از: فتاوی رضویہ مترجم ج ٢٢ ص۴٣ دعوتِ اسلامی ایپ) (٢): امام طبرانی معجم کبیر میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “اِنَ الْمُسْلِمِ اِذَا لَقِیَ اَخَاہ المسلم فاخذ بِیَدَہٖ تَحَاتَتْ عَنْھُمَا ذُنُوْبُھُمَا”۔ یعنی :مسلمان جب اپنے بھائی سے مل کر اس کا ہاتھ پکڑتاہے ان دونوں کے گناہ مٹ جاتے ہیں۔ ( المعجم الکبیر حدیث ٦١۵٠ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ٦/ ٢۵٦، ماخوذ از فتاوی رضویہ مترجم) (٣) امام احمد بن حنبل اپنی مسند میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “ایما مسلمین التقیا فاخذ احدھما بید صاحبہ و تصافحا وحمدا ﷲ جمیعا تفرقا لیس بینھما خطیئۃ۔” یعنی:جو دو مسلمان آپس میں مل کر ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑیں اور مصافحہ کریں اور دونوں حمد الٰہی بجالائیں تو بے گناہ ہو کر جدا ہوتے ہیں۔ (مسند احمد بن حنبل عن براء بن عازب المکتبۃ الاسلامی بیروت ۴/ ۲۹۳ و ۲۹۴، ماخوذ ایضا از فتاوی رضویہ مترجم) ان احادیث نیز مصافحہ کی فضیلت اور اہمیت کے بیان میں وارد دیگر احادیث کے عموم میں نماز کے بعد کا مصافحہ بھی شامل ہے۔ پھر دلائل قرآن وحدیث پر عمیق نظر رکھنے والے فقہائے اسلام کی واضح صراحتیں موجود ہیں کہ نمازِ فجر و عصر کے بعد بھی مصافحہ مباح ہے۔ مدقق علامہ علاو الدین حصکفی رحمہ اللہ القوی تحریر فرماتے ہیں: “تَجُوزُ الْمُصَافَحَةُ لِأَنَّهَا سُنَّةٌ قَدِيمَةٌ مُتَوَاتِرَةٌ لِقَوْلِهِ – عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ – «مَنْ صَافَحَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ وَحَرَّكَ يَدَهُ تَنَاثَرَتْ ذُنُوبُهُ» وَإِطْلَاقُ الْمُصَنِّفِ تَبَعًا لِلدُّرَرِ وَالْكَنْزِ وَالْوِقَايَةِ وَالنُّقَايَةِ وَالْمَجْمَعِ وَالْمُلْتَقَى وَغَيْرِهِ يُفِيدُ جَوَازَهَا مُطْلَقًا وَلَوْ بَعْدَ الْعَصْرِ وَقَوْلُهُمْ إنَّهُ بِدْعَةٌ أَيْ مُبَاحَةٌ حَسَنَةٌ كَمَا أَفَادَهُ النَّوَوِيُّ فِي أَذْكَارِهِ وَغَيْرُهُ فِي غَيْرِهِ وَعَلَيْهِ يُحْمَلُ مَا نَقَلَهُ عَنْهُ شَارِحُ الْمَجْمَعِ مِنْ أَنَّهَا بَعْدَ الْفَجْرِ وَالْعَصْرِ لَيْسَ بِشَيْءٍ تَوْفِيقًا فَتَأَمَّلْهُ. وَفِي الْقُنْيَةِ: السُّنَّةُ فِي الْمُصَافَحَةِ بِكِلْتَا يَدَيْهِ وَتَمَامُهُ فِيمَا عَلَّقْته عَلَى الْمُلْتَقَى۔” (در مختار، کتاب الحظر والاباحة) رد المحتار میں ہے: (قَوْلُهُ كَمَا أَفَادَهُ النَّوَوِيُّ فِي أَذْكَارِهِ) حَيْثُ قَالَ اعْلَمْ أَنَّ الْمُصَافَحَةَ مُسْتَحَبَّةٌ عِنْدَ كُلِّ لِقَاءٍ، وَأَمَّا مَا اعْتَادَهُ النَّاسُ مِنْ الْمُصَافَحَةِ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ، فَلَا أَصْلَ لَهُ فِي الشَّرْعِ عَلَى هَذَا الْوَجْهِ وَلَكِنْ لَا بَأْسَ بِهِ فَإِنَّ أَصْلَ الْمُصَافَحَةِ سُنَّةٌ وَكَوْنُهُمْ حَافَظُوا عَلَيْهَا فِي بَعْضِ الْأَحْوَالِ، وَفَرَّطُوا فِي كَثِيرٍ مِنْ الْأَحْوَالِ أَوْ أَكْثَرِهَا لَا يُخْرِجُ ذَلِكَ الْبَعْضَ عَنْ كَوْنِهِ مِنْ الْمُصَافَحَةِ الَّتِي وَرَدَ الشَّرْعُ بِأَصْلِهَا اهـ قَالَ الشَّيْخُ أَبُو الْحَسَنِ الْبِكْرِيُّ: وَتَقْيِيدُهُ بِمَا بَعْدَ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ عَلَى عَادَةٍ كَانَتْ فِي زَمَنِهِ، وَإِلَّا فَعَقِبَ الصَّلَوَاتِ كُلِّهَا كَذَلِكَ كَذَا فِي رِسَالَةِ الشُّرُنْبُلَالِيُّ فِي الْمُصَافَحَةِ، وَنُقِلَ مِثْلُهُ عَنْ الشَّمْسِ الْحَانُوتِيِّ، وَأَنَّهُ أَفْتَى بِهِ مُسْتَدِلًّا بِعُمُومِ النُّصُوصِ الْوَارِدَةِ فِي مَشْرُوعِيَّتِهَا وَهُوَ الْمُوَافِقُ لِمَا ذَكَرَهُ الشَّارِحُ مِنْ إطْلَاقِ الْمُتُونِ۔” (رد المحتار، کتاب الحظر والاباحة) اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “جو لوگ بعد قیام جماعت یا شروع تکبیر آکر نماز میں شامل ہوئے کہ امام ودیگر مقتدین سے قبل نمازملاقات نہ کرنے پائے انھیں تو ان سے بعد سلام مصافحہ کرنا قطعا سنت۔لانہا سنۃ لانھا عند ابتداء کل لقاء و ھذا ابتداء لقائھم ھذا۔کہ ہر ملاقات پر مصافحہ کرنا سنت ہے اور وہ جو بے لحاظ اس تخصیص کے مصافحہ بعد فجر وعصر یابعد عصر ومغرب مطلقا صدہا سال سے مسلمین میں معتاد ومرسوم، اس بارے میں اصح یہی ہے کہ جائز ومباح ہے۔ کما حققہ المولی المحقق سیدنا الوالد قدس سرہ الماجد فی بعض فتاواہ وذکرھھنا المولی الفاضل زینۃ عصرنا محب الرسول عبدالقادر القادری فی رسالتہ المناصحۃ فی تحقیق المصافحۃ تحقیقا جمیلا یتضح بہ الصواب توفیقا انیقا یندفع بہ الاضطراب۔ “علامہ شہاب الدین مصری شرح شفاء امام قاضی عیاض میں فرماتے ہیں:ـالاصح انھا مباحۃ۔ ہاں جہاں مداومت سے خوف ہو کہ جہال اس خصوصیت خاصہ کو واجب یا سنت بخصوصہا نہ سمجھنے لگیں وہاں اہل علم کو مناسب کہ ان اوقات میں کبھی کبھی ترک بھی کردیں۔ہذا ھو الانصاف فی امثال الباب” (فتاوی رضویہ ج٩ نصف اول ص۴٠ ، ۴١) ہوسکتا ہے کہ غیر مقلدین وہابیہ کو فقہاء کے اقوال قبول کرنے میں حسبِ عادت تامل یا انکار ہو اس لیے ان کے مسلم الثبوت مجتہد کامل و اکمل امام الطائفہ اسماعیل دہلوی کا قول بھی ذکر کر دیا جارہا ہے جس کے قبول کرنے میں ان کو بھی ذرہ برابر پس و پیش نہیں ہوگا۔اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں’ “بالجملہ احادیث اس بارے میں بکثرت وارد، اور تخصیصِ سفر محض بے اصل وفاسد۔ بلکہ سفر و بے سفر ہر صورت میں معانقہ سنت، اور سنت جب ادا کی جائے گی سنت ہی ہوگی تاوقتیکہ خاص کسی خصوصیت پر شرع سے تصریحاً نہی ثابت نہ ہو، یہاں تک کہ خود امام مانعین، اسمٰعیل دہلوی اپنے رسالہ نذور میں کہ مجموعہ زبدۃ النصائح میں مطبوع ہوا صاف مُقِر کہ معانقہ روز عید گو بدعت ہو بدعت حسنہ ہے۔حیث قال: ہمہ اوضاع از قرآن خوانی و فاتحہ خوانی وخورانیدن طعام سوائے کندن چاہ وامثالہ دعا و استغفار واُضحیہ بدعت ست گو بدعت حسنہ بالخصوص است مثل معانقہ روز عید ومصافحہ بعد نماز صبح یا عصر” (فتاوی رضویہ ج٩ نصف اول ص٢٨ ، ٢٩) حقیقتِ امر یہ ہے کہ جو اجتماعی شکل میں کھڑے ہوکر صلاة و سلام پڑھنے کو یا بعدِ نماز مصافحہ کو ناجائز کہے یہ اس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ یہ ثابت کرے کہ قرآن پاک کی کس آیت یا کس حدیث میں لکھا ہے کہ کھڑے ہوکر اجتماعی شکل میں صلاة و سلام پڑھنا منع ہے۔ اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز کا درج ذیل فرمان ہمیں پیشِ نظر رکھنا چاہیے جو اس طرح کے درجنوں اعتراضات کا دندان شکن جواب ہے، تحریر فرماتے ہیں: “ان چیزوں کو جو شخص ناجائز کہے اس سے ایک ہی بات دریافت کرنا کافی ہے، وُہ یہ کہ تُو جو ناجائز کہتا ہے، آیا ﷲ ورسول نے انہیں ناجائز کہا ہے یا تُو اپنی طرف سے کہتا ہے؟ اگر ﷲ ورسول نے ناجائز کہا تو دکھا کون سی آیت یا حدیث میں ہے کہ اذان جو مسلمان کی قبر پر دفع شیطانِ ودفعِ وحشت وحصول اطمینان و نزول برکت کے لئے کہی جائے وہ ناجائز ہے اور فاتحہ اور گیارھویں شریف کو بغرضُ ایصالُ ثواب کی جائے ناجائز ہے، اور اگر ﷲ و رسول نے ناجائز نہ کہا تُو خود اپنی طرف سے کہتاہے، تو تیرا قول تیرے منہ پر مردود ہے۔ بغیر خدا و رسول کے منع فرمائے کوئی چیز ناجائز نہیں ہوسکتی۔ ہمیں قرآن وحدیث نے یہ قاعدہ کلیہ ارشاد فرمایا ہے کہ ﷲ اور رسول جس بات کا حکم دیں وُہ واجب ہے جس سے منع فرمائیں وہ ناجائز ہے اور جس کا کچھ ذکر نہ فرمائیں وُہ معافی ہے وُہ اگر واجب نہیں تو ناجائز بھی نہیں” (فتاوی رضویہ ج۴ ص ۵٢ ، ۵٣ ) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ کتبـــــــــــہ: محمد نظام الدین قادری: خادم و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ ٨/جمادی الآخرہ١۴۴٣ھ//١٢/جنوری ٢٠٢١ء

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.