کیا وہابی کو کافر کہہ سکتے ہیں ؟ از محمد محفوظ عالم رضوی
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
بسم اللہ الرحمن الرحیم کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ کیا وہابی کو کافر کہہ سکتے ہیں ۔ المستفتی :محمد رضوان احمد اسمعیلی باسمہ تعالی وتقدس الجواب بعون الملک الوہاب اگر وہابی ایسا ہے کہ ضروریات دین کا منکر ہے تو بلاشبہ اس کو کافر کہہ سکتے ہیں ۔ لیکن اگر وہ ضروریات دین کا منکر نہ ہو اور عقائد قطعیہ کو مانتا ہو اور محض فروعی مسائل میں اہل سنت کی مخالفت کرتا ہو تو اس کو کافر نہیں کہا جائے گا ۔البتہ گمراہ اور بد مذہب ضرور کہا جائے گا ۔ چنانچہ سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خاں قادری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :”ان میں ضروریات دین سے کسی شئ کا جو منکر ہے یقینا کافر ہے ۔ اور جو قطعیات کے منکر ہیں ان پر بحکم فقہا لزوم کفر ہے ۔ اور اگر کوئی غیر مقلد ایسا پایا جائے کہ صرف انہیں فروعی اعمال میں مخالف ہو اور تمام عقائد قطعیہ میں اہل سنت کا موافق ایسوں پر حکم تکفیر ناممکن ہے “۔ (فتای رضویہ جلد ششم صفحہ 32) حضور تاج الفقہا فرماتے ہیں : “اگر عقائد کفریہ کو جانتے ہوئے ان کو اپنا پیشوا اور مذہبی رہنما جانتا ہے تو وہ بھی دائرۂ اسلام سے خارج اور کافر ہے ۔ اور اگر ان مولویوں کے عقائد کفریہ سے آگاہ نہیں ہے تو وہ بدمذہب اور گمراہ ہے” ۔ (فتاوی علیمیہ جلد دوم صفحہ 121) ایک مقام پر فرماتے ہیں :”البتہ اگر وہ عقائد کفریہ پر مطلع ہونے کے باوجود انہیں مسلمان مانتا ہے تو اب ارشاد ائمہ دین “من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر “کے مطابق کافر ہے “(فتاوی علیمیہ جلد دوم صفحہ 329) واللہ تعالی اعلم بالصواب ۔
✍🏽کتبہ:محمد محفوظ عالم رضوی علیمی (کولکاتا)