صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1113 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

دارالاسلام اور دارالحرب کسے کہتے ہیں ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 13,318

سوال (Question):

دارالاسلام اور دارالحرب کسے کہتے ہیں ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

دارالاسلام اور دارالحرب کسے کہتے ہیں ؟

سوال(١ )دارالاسلام کسے کہتے ہیں؟ (٢) دارالحرب کسے کہتے ہیں؟ (١)الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ بعون الملک العزیز الوھاب دارالاسلام وہ ہے کہ جہاں بادشاہ اسلام کا حکم جاری ہو ۔ یا اس طرح کے بروقت وہاں سلطنت اسلامی موجود ہو یا پہلے وہاں سلطنت اسلامی رہی ہو اور کافر کے قبضہ کرنے کے بعد شعائراسلام جمعہ اور اذان و اقامت وغیرہا کلا یا بعضا برابر اب تک جاری ہوں جیسے کہ ہندوستان افغانستان اور ایران وغیرہ ۔ جیسا کہ شرح نقایہ میں کافی سے ہے “دارالاسلام ما یجری فیہ حکم المسلمیناور فتاوی رضویہ جلد سوم میں فصول عمادی سے ہے “ان دارالسلام لا تصیر دارالحرب اذا بقی احکام الاسلام وان زال غلبۃاہل الاسلام “وھوتعالی اعلم ۔ (٢) دارالحرب وہ ہے کہ جہاں بادشاہ اسلام کا حکم بھی جاری نہ ہوا ہو جیسے روس، فرانس، جرمن اور پرتگال وغیرہا یورپ کے اکثر ممالک۔ یا بادشاہ اسلام کے احکام جاری ہوئے ہوں مگر پھر غلبہ کفار کے بعد شعائراسلام بالکل مٹا دیئے گئے ہوں اور وہاں کوئی مسلمان امان اول پر باقی نہ ہو ۔ اور بھی شرط ہے کہ وہ دارالحرب سے ملحق ہو سلطنت اسلامیہ محصور نہ ہو ۔ جیساکہ فتاویٰ عالمگیری میں ہے” فی الزیادات انما تصیر دارالاسلام دارالحرب بشروط ثلاثۃ احدھا اجراء احکام الکفار علی سبیل الشہار وان لایحکم فیھا بحکم الا اسلام والثانی ان تکون متصلۃ بدارالحرب لایتخلل بینھما بلد من بلاد الاسلام والثالث ان لا یبقی فیھا مومن ولا ذمی بامانہ الاول اھ ۔” وھو سبحانہ وتعالی اعلم ۔ کتبــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh