Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1097 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 13.6K Views

کیکڑے کی تجارت کرنا کیسا ہے؟ از مفتی عبدالقادر مصباحی جامعی

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

کیکڑے کی تجارت کرنا کیسا ہے؟ از مفتی عبدالقادر مصباحی جامعی

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

کیکڑے کی تجارت کرنا کیسا ہے؟ از مفتی عبدالقادر مصباحی جامعی

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ : کیا فرماتے علمائے کرام ومفتیان ذوی الاحترام کہ کیکڑے کی تجارت کرنا کیسا ہے؟ المستفتی : محمد مشاہد القادری مصباحی خطیب وامام کچی جامع مسجد ایولہ ناسک۔ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ تعالٰی وبرکاتہ : بسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــ کیکڑے کی تجارت کرنا ناجائز ہے ۔ فتح القدیر میں ہے : ” ولایجوز بیع ھوام الارض.ولا ھوام البحر کالضفدع والسرطان” اھ ملتقطا یعنی :نہ حشرات الارض کی بیع جائز اور نہ ہی (مچھلی کے علاوہ) سمندری جانور جیسے مینڈک اور کیکڑے کی بیع جائز ہے۔ (شرح فتح القدیر: ج: 7، ص: 111، کتاب البیوع، باب السلم، مسائل منسورۃ ، دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان ) بہار شریعت میں ہے : ” مچھلی کے سوا پانی کے تمام جانور مینڈک، کیکڑا وغیرہ کی بیع ناجائز ہے ” اھ ملخصا (بہار شریعت : ج: 2، ح: 11، ص: 810، بیع کے متفرق مسائل ) والله تعالٰی اعلم . عبدالقادر المصباحی الجامعی کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ مقام : مہیپت گنج، ضلع : گونڈہ، یو پی، انڈیا ٨ جمادی الاخری ١٤٤٣ھ

Kutubahu & Verified by:

<h2>کیکڑے کی تجارت کرنا کیسا ہے؟ از مفتی عبدالقادر مصباحی جامعی</h2> اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ : کیا فرماتے علمائے کرام ومفتیان ذوی الاحترام کہ کیکڑے کی تجارت کرنا کیسا ہے؟ المستفتی : محمد مشاہد القادری مصباحی خطیب وامام کچی جامع مسجد ایولہ ناسک۔ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ تعالٰی وبرکاتہ : بسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــ کیکڑے کی تجارت کرنا ناجائز ہے ۔ فتح القدیر میں ہے : <span style="color: #ff0000;"><strong>" ولایجوز بیع ھوام الارض.ولا ھوام البحر کالضفدع والسرطان" اھ ملتقطا</strong></span> یعنی :نہ حشرات الارض کی بیع جائز اور نہ ہی (مچھلی کے علاوہ) سمندری جانور جیسے مینڈک اور کیکڑے کی بیع جائز ہے۔ (شرح فتح القدیر: ج: 7، ص: 111، کتاب البیوع، باب السلم، مسائل منسورۃ ، دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان ) بہار شریعت میں ہے : " مچھلی کے سوا پانی کے تمام جانور مینڈک، کیکڑا وغیرہ کی بیع ناجائز ہے " اھ ملخصا (بہار شریعت : ج: 2، ح: 11، ص: 810، بیع کے متفرق مسائل ) والله تعالٰی اعلم . <span style="color: #339966;"><strong>عبدالقادر المصباحی الجامعی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>مقام : مہیپت گنج، ضلع : گونڈہ، یو پی، انڈیا </strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>٨ جمادی الاخری ١٤٤٣ھ</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...