Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1100 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 14K Views

فاتحہ پورے کھانے پر کروانا چاہیئے یا تھوڑے پر ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

فاتحہ پورے کھانے پر کروانا چاہیئے یا تھوڑے پر ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

فاتحہ پورے کھانے پر کروانا چاہیئے یا تھوڑے پر ؟

سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ کھانے پر فاتحہ دلایا جاتا ہے وہ پورے کھانے پر دلانا چاہیے یا تھوڑے پر؟ زید کہتا ہے کہ صرف اتنے پر دلایا جائے کہ جتنا کھایا جاسکے اور اس کی حفاظت کی جاسکے. پورے کھانے پر دلانے سے بے حرمتی ہے مثلا ادھر ادھر گر کر پیروں کے نیچے پڑتا ہے، نالیوں میں جاتا ہے اور کتے وغیرہ بھی کھاتے ہیں. لہذا ایسی صورت میں جو صحیح طریقہ ہو بیان فرما کر عنداللہ ماجور ہوں. بینوا و توجروا۔ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ عید وغیرہ تیوہار کے موقع پر جو کھانا تیار کیا جاتا ہے اس میں سے جتنے پر فاتحہ دلایا جاتا ہے اتنا متبرک ہوتا ہےاور اتنے ہی کا ثواب ملتا ہے. لہذا جتنے پر فاتحہ دلایا جائے اس کا احترام کرنا ضروری ہے. اور باقی کھانے کا بھی احترام کرنا چاہیے. اور بزرگان دین کے نام پر جو کھانا تیار کیا جاتا ہے وہ سب فاتحہ کے پہلے ہی با برکت ہو جاتا ہے اور اس کا احترام لازم ہے. اور اگر کسی عام مسلمان کے ایصال ثواب کے لیے لوگوں کو کھانے کی دعوت دے کر جو کھانا تیار کیا جاتا ہے تو اس میں سے جتنے پر فاتحہ دلایا جاتا ہے اتنا ہی متبرک ہوتا ہے کل نہیں. لیکن زیادہ پر فاتحہ دلایا جائے تو بہتر ہے کہ زیادہ ثواب ملے گا. لہذا جتنے پر فاتحہ دلایا جائے اس کا احترام کرنا ضروری ہے اور باقی کا بھی احترام کرنا چاہیے کہ یہ رزق الہی ہے اور رزق الہی کی بے حرمتی سخت ناپسند اور ممنوع ہے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی محمد سمیر الدین حبیبی مصباحی الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی

Kutubahu & Verified by:

<h2>فاتحہ پورے کھانے پر کروانا چاہیئے یا تھوڑے پر ؟</h2> سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ کھانے پر فاتحہ دلایا جاتا ہے وہ پورے کھانے پر دلانا چاہیے یا تھوڑے پر؟ زید کہتا ہے کہ صرف اتنے پر دلایا جائے کہ جتنا کھایا جاسکے اور اس کی حفاظت کی جاسکے. پورے کھانے پر دلانے سے بے حرمتی ہے مثلا ادھر ادھر گر کر پیروں کے نیچے پڑتا ہے، نالیوں میں جاتا ہے اور کتے وغیرہ بھی کھاتے ہیں. لہذا ایسی صورت میں جو صحیح طریقہ ہو بیان فرما کر عنداللہ ماجور ہوں. بینوا و توجروا۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> عید وغیرہ تیوہار کے موقع پر جو کھانا تیار کیا جاتا ہے اس میں سے جتنے پر فاتحہ دلایا جاتا ہے اتنا متبرک ہوتا ہےاور اتنے ہی کا ثواب ملتا ہے. لہذا جتنے پر فاتحہ دلایا جائے اس کا احترام کرنا ضروری ہے. اور باقی کھانے کا بھی احترام کرنا چاہیے. اور بزرگان دین کے نام پر جو کھانا تیار کیا جاتا ہے وہ سب فاتحہ کے پہلے ہی با برکت ہو جاتا ہے اور اس کا احترام لازم ہے. اور اگر کسی عام مسلمان کے ایصال ثواب کے لیے لوگوں کو کھانے کی دعوت دے کر جو کھانا تیار کیا جاتا ہے تو اس میں سے جتنے پر <a href="https://masailworld.com/shariat-me-teeja-aur-daswan-beeswan-ke-liye-konsa-waqt-hai/"><strong>فاتحہ</strong></a> دلایا جاتا ہے اتنا ہی متبرک ہوتا ہے کل نہیں. لیکن زیادہ پر فاتحہ دلایا جائے تو بہتر ہے کہ زیادہ ثواب ملے گا. لہذا جتنے پر فاتحہ دلایا جائے اس کا احترام کرنا ضروری ہے اور باقی کا بھی احترام کرنا چاہیے کہ یہ رزق الہی ہے اور رزق الہی کی بے حرمتی سخت ناپسند اور ممنوع ہے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : مفتی محمد سمیر الدین حبیبی مصباحی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...