Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1106 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 4.6K Views

میت کو اٹھانے سے پہلے جو غلہ اکٹھا کرتے ہیں اسے فقیروں میں تقسیم کرنا کیسا ہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

میت کو اٹھانے سے پہلے جو غلہ اکٹھا کرتے ہیں اسے فقیروں میں تقسیم کرنا کیسا ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

میت کو اٹھانے سے پہلے جو غلہ اکٹھا کرتے ہیں اسے فقیروں میں تقسیم کرنا کیسا ہے ؟

سوال : میت کے اٹھانے سے قبل غلہ اکٹھا کرنا اور اس کو بعد دفن اس وقت کے فقیروں کو تقسیم کرنا اور قبروں کو کھودنے والے غیر مسلم لونیوں کو دینا کیسا ہے؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــ موت کے بعد جو غلہ اکٹھا کیا جاتا ہے عموماً وہ میت کے ایصال ثواب کے لئے ہوتا ہے اور وہ غلہ صدقہ نافلہ ہے جسے ہر مالدار اور فقیر کو لینا جائز ہے. لہذا اس زمانہ کے فقیروں کو مذکورہ غلہ دینا بلاشبہ جائز ہے. البتہ غیر مسلموں کو دینا ہر گز جائز نہیں کہ یہاں کے غیر مسلم حربی ہیں اور کافر حربی پر کچھ بھی صدقہ کرنا جائز نہیں. اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہٗ تحریر فرماتے ہیں بحرالرائق وغیرہ میں تصریح ہے کہ کافر حربی پر کچھ تصدق کرنا اصلا جائز نہیں. ١ھ. ( الملفوظ اول صفحہ 106) واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی اشتیاق احمد الرضوی المصباحی الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی

Kutubahu & Verified by:

<h3>میت کو اٹھانے سے پہلے جو غلہ اکٹھا کرتے ہیں اسے فقیروں میں تقسیم کرنا کیسا ہے ؟</h3> سوال : میت کے اٹھانے سے قبل غلہ اکٹھا کرنا اور اس کو بعد دفن اس وقت کے فقیروں کو تقسیم کرنا اور قبروں کو کھودنے والے غیر مسلم لونیوں کو دینا کیسا ہے؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> موت کے بعد جو غلہ اکٹھا کیا جاتا ہے عموماً وہ میت کے ایصال ثواب کے لئے ہوتا ہے اور وہ غلہ صدقہ نافلہ ہے جسے ہر مالدار اور فقیر کو لینا جائز ہے. لہذا اس زمانہ کے فقیروں کو مذکورہ غلہ دینا بلاشبہ جائز ہے. البتہ غیر مسلموں کو دینا ہر گز جائز نہیں کہ یہاں کے غیر مسلم حربی ہیں اور کافر حربی پر کچھ بھی <a href="https://masailworld.com/masjid-me-sadqa-ka-paisa-dena/"><strong>صدقہ</strong></a> کرنا جائز نہیں. اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہٗ تحریر فرماتے ہیں بحرالرائق وغیرہ میں تصریح ہے کہ کافر حربی پر کچھ تصدق کرنا اصلا جائز نہیں. ١ھ. ( الملفوظ اول صفحہ 106) واللہ تعالی اعلم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : مفتی اشتیاق احمد الرضوی المصباحی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...