Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1114 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 5.6K Views

سینٹ لگانا کیسا ہے ؟ اورسینٹ لگا کر نماز پڑھنا کیسا ہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

سینٹ لگانا کیسا ہے ؟ اورسینٹ لگا کر نماز پڑھنا کیسا ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

سینٹ لگانا کیسا ہے ؟ اورسینٹ لگا کر نماز پڑھنا کیسا ہے ؟

سوال : سینٹ (پرفیوم) لگانا کیسا ہے ؟اور کیا سینٹ لگا کر نماز پڑھ سکتے ہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــ سینٹ یعنی پرفیوم میں اسپرٹ کی آمیزش ہوتی ہے اور اسپرٹ ایک قسم کی شراب ہے جو کہ حرام اور نجاست غلیظہ ہے اس کا لگانا حرام و ناجائز ہے خواہ خارج نماز ہو یا داخل نماز. امام احمد رضا خاں محدّث بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ حضرت فرماتے ہیں ‘‘ ان اسبار تو وھی روح النبیذ خمر قطعاً بل من اخبث الخمر فھی حرام ورجس نجس نجاسۃ غلیظۃ کالبول. ” یعنی بے شک اسپریٹ جو جان نبیذ ہے شراب ہے بلکہ وہ سب سے گندی شراب ہے تو یہ حرام بھی ہے ناپاک بھی اور اس کی نجاست پیشاب کی طرح نجاست غلیظہ ہے. (فتاویٰ رضویہ جلد 2 صفحہ 120) اور فتاوی امجدیہ میں ہے الکوحل اور اسپرٹ وغیرہ رقیق و سیال مسکرات کا قطرہ قطرہ ناپاک و حرام اور ناجائز ہے. حدیث شریف میں ہے : ما اسکر کثیرہ فقلیلہ حرام. (ج٤ ص ١٠٥) لہذا اگر سینٹ لگا کر نماز پڑھی اور وہ ایک درہم سے زیادہ ہے اگرچہ چند جگہ مل کر وہ مقدار پوری ہو نماز نہیں ہوگی. اس کا پاک کرنا فرض ہے اور درہم کے برابر ہے تو نماز مکروہ تحریمی ہوئی جسے پاک کپڑے پہن کر دہرانا واجب اور اگر وہ درہم کی مقدار سے کم ہے تو اسے پاک کرنا سنت ہے کہ بغیر پاک کیے نماز ہو جائے گی مگر خلاف سنت ہوگی. حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کسی کپڑے یا بدن پر چند جگہ نجاست غلیظہ لگی اور کسی جگہ درہم کے برابر نہیں مگر مجموعہ درہم کے برابر ہے تو درہم کے برابر سمجھی جائے گی اور زاہد ہے تو زائد. اگر نجاست گاڑھی ہے جیسے پاخانہ، لید ،گوبر تو درہم کے برابر یا کم زیادہ کے معنی یہ ہیں کہ وزن میں اس کے برابر یا کم یا زیادہ ہو. اور درہم کا وزن شریعت میں اس جگہ ساڑھے چار ماشے ہے. اور اگر پتلی ہو جیسے آدمی کا پیشاب اور شراب تو درہم سے مراد اس کی لمبائی چوڑائی ہے اور شریعت نے اس کی مقدار ہتھیلی کی گہرائی بتائی یعنی ہتھیلی خوب پھیلا کر ہموار رکھیں اور اس پر آہستہ سے اتنا پانی ڈالیں کہ اس سے زیادہ پانی رک نہ سکے اب پانی کا جتنا پھیلاؤ ہے اتنا بڑا درہم سمجھا جائے اور اس کی مقدار یہاں کے روپے کے برابر ہے ۔ بہار شریعت حصہ 2 صفحہ 83 . واللہ تعالی اعلم ۔ کتبـــــــــــــہ :مفتی محمد انوار الحق قادری الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

Kutubahu & Verified by:

<h2>سینٹ لگانا کیسا ہے ؟ اورسینٹ لگا کر نماز پڑھنا کیسا ہے ؟</h2> سوال : سینٹ (پرفیوم) لگانا کیسا ہے ؟اور کیا سینٹ لگا کر نماز پڑھ سکتے ہیں؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> سینٹ یعنی پرفیوم میں اسپرٹ کی آمیزش ہوتی ہے اور اسپرٹ ایک قسم کی شراب ہے جو کہ حرام اور نجاست غلیظہ ہے اس کا لگانا حرام و ناجائز ہے خواہ خارج نماز ہو یا داخل نماز. امام احمد رضا خاں محدّث بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ حضرت فرماتے ہیں '<span style="color: #ff0000;"><strong>' ان اسبار تو وھی روح النبیذ خمر قطعاً بل من اخبث الخمر فھی حرام ورجس نجس نجاسۃ غلیظۃ کالبول. ''</strong></span> یعنی بے شک اسپریٹ جو جان نبیذ ہے شراب ہے بلکہ وہ سب سے گندی شراب ہے تو یہ حرام بھی ہے ناپاک بھی اور اس کی نجاست پیشاب کی طرح نجاست غلیظہ ہے. (فتاویٰ رضویہ جلد 2 صفحہ 120) اور فتاوی امجدیہ میں ہے الکوحل اور اسپرٹ وغیرہ رقیق و سیال مسکرات کا قطرہ قطرہ ناپاک و حرام اور ناجائز ہے. حدیث شریف میں ہے :<span style="color: #ff0000;"><strong> ما اسکر کثیرہ فقلیلہ حرام</strong></span>. (ج٤ ص ١٠٥) لہذا اگر سینٹ لگا کر نماز پڑھی اور وہ ایک درہم سے زیادہ ہے اگرچہ چند جگہ مل کر وہ مقدار پوری ہو نماز نہیں ہوگی. اس کا پاک کرنا فرض ہے اور درہم کے برابر ہے تو نماز مکروہ تحریمی ہوئی جسے پاک کپڑے پہن کر دہرانا واجب اور اگر وہ درہم کی مقدار سے کم ہے تو اسے پاک کرنا سنت ہے کہ بغیر پاک کیے نماز ہو جائے گی مگر خلاف سنت ہوگی. حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کسی کپڑے یا بدن پر چند جگہ نجاست غلیظہ لگی اور کسی جگہ درہم کے برابر نہیں مگر مجموعہ درہم کے برابر ہے تو درہم کے برابر سمجھی جائے گی اور زاہد ہے تو زائد. اگر نجاست گاڑھی ہے جیسے پاخانہ، لید ،گوبر تو درہم کے برابر یا کم زیادہ کے معنی یہ ہیں کہ وزن میں اس کے برابر یا کم یا زیادہ ہو. اور درہم کا وزن شریعت میں اس جگہ ساڑھے چار ماشے ہے. اور اگر پتلی ہو جیسے آدمی کا پیشاب اور شراب تو درہم سے مراد اس کی لمبائی چوڑائی ہے اور شریعت نے اس کی مقدار ہتھیلی کی گہرائی بتائی یعنی ہتھیلی خوب پھیلا کر ہموار رکھیں اور اس پر آہستہ سے اتنا پانی ڈالیں کہ اس سے زیادہ پانی رک نہ سکے اب پانی کا جتنا پھیلاؤ ہے اتنا بڑا درہم سمجھا جائے اور اس کی مقدار یہاں کے روپے کے برابر ہے ۔ بہار شریعت حصہ 2 صفحہ 83 . واللہ تعالی اعلم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــــــــــہ :مفتی محمد انوار الحق قادری</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...