Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1122 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 6.4K Views

باپ دادا کا کیا ہوا نکاح کب لازم ہو جاتا ہے ؟ / ولی اور کفؤ کا بیان

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

باپ دادا کا کیا ہوا نکاح کب لازم ہو جاتا ہے ؟ / ولی اور کفؤ کا بیان

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

باپ دادا کا کیا ہوا نکاح کب لازم ہو جاتا ہے ؟

سوال : زید نے اپنی پہلی لڑکی کا نکاح حالت نابالغی میں ایک نابالغ لڑکے کے ساتھ کئی سال پہلے کر دیا تھا. لڑکا ابھی تک نا بالغ ہے. اور لڑکی بالغ ہو گئی ہے جو اپنے شوہر کے پاس جانے کو تیار نہیں ۔ اب دریافت یہ کرنا ہے کہ زید اس کا دوسرا نکاح پڑھا سکتا ہے یا نہیں؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــ حالت نابالغی میں باپ یا دادا کا کیا ہوا نکاح اس طرح لازم ہو جاتا ہے کہ لڑکی کسی طرح فسخ نہیں کرسکتی . لہذا صورت مسئولہ میں لڑکی کا دوسرا نکاح کرنا حرام ہے ہر گز ہر گز جائز نہیں. ہاں اگر شوہر مر جائے یا بالغ ہونے کے بعد طلاق دے تو دوسرا نکاح کرسکتی ہے کہ نابالغ کی طلاق واقع نہیں ہوتی. فتاویٰ عالمگیری جلد اول صفحہ 267 میں ہے ” ان زوجھما الاب اوالجد فلا خیار لھما بعد بلوغھما “ اور در مختار مع شامی جلد دوم صفحہ ٣٠٨ میں ہے لزم النکاح ولو بغبن فاحش او بغیر کفو ان کان الولی ابا او جدا لم یعرف منھما سوء الاختیار ” اور فتاویٰ عالمگیری جلد اول مصری ٣٣٠ میں ہے” لا یقع طلاق الصبی وان کان یعقل ھکذا فی الفتح القدیر ۔” واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 647

Kutubahu & Verified by:

<h2>باپ دادا کا کیا ہوا نکاح کب لازم ہو جاتا ہے ؟</h2> سوال : زید نے اپنی پہلی لڑکی کا نکاح حالت نابالغی میں ایک نابالغ لڑکے کے ساتھ کئی سال پہلے کر دیا تھا. لڑکا ابھی تک نا بالغ ہے. اور لڑکی بالغ ہو گئی ہے جو اپنے شوہر کے پاس جانے کو تیار نہیں ۔ اب دریافت یہ کرنا ہے کہ زید اس کا دوسرا نکاح پڑھا سکتا ہے یا نہیں؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> حالت نابالغی میں باپ یا دادا کا کیا ہوا نکاح اس طرح لازم ہو جاتا ہے کہ لڑکی کسی طرح فسخ نہیں کرسکتی . لہذا صورت مسئولہ میں لڑکی کا دوسرا نکاح کرنا حرام ہے ہر گز ہر گز جائز نہیں. ہاں اگر شوہر مر جائے یا بالغ ہونے کے بعد طلاق دے تو دوسرا <a href="https://masailworld.com/kya-ladka-aur-ladki-ke-aapas-me-qubool-kar-lene-se-nikah-ho-jata-hai/"><strong>نکاح</strong></a> کرسکتی ہے کہ نابالغ کی طلاق واقع نہیں ہوتی. فتاویٰ عالمگیری جلد اول صفحہ 267 میں ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>'' ان زوجھما الاب اوالجد فلا خیار لھما بعد بلوغھما "</strong></span> اور در مختار مع شامی جلد دوم صفحہ ٣٠٨ میں ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>لزم النکاح ولو بغبن فاحش او بغیر کفو ان کان الولی ابا او جدا لم یعرف منھما سوء الاختیار ''</strong></span> اور فتاویٰ عالمگیری جلد اول مصری ٣٣٠ میں ہے<span style="color: #ff0000;"><strong>" لا یقع طلاق الصبی وان کان یعقل ھکذا فی الفتح القدیر ۔"</strong></span> واللہ تعالی اعلم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 647</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...