Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1124
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
6.7K Views
ثیبہ کا نکاح باپ نے بغیر اجازت کیا شوہر کے یہاں گئی اور پھر طلاق لے کر ایک ماہ بعد دوسرے سے شادی کر لی تو ؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
ثیبہ کا نکاح باپ نے بغیر اجازت کیا شوہر کے یہاں گئی اور پھر طلاق لے کر ایک ماہ بعد دوسرے سے شادی کر لی تو ؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
ثیبہ کا نکاح باپ نے بغیر اجازت کیا شوہر کے یہاں گئی اور پھر طلاق لے کر ایک ماہ بعد دوسرے سے شادی کر لی تو ؟
سوال : ہندہ دو بچے والی ہے ۔ ہندہ کے والد نے اپنی مرضی سے اس کا نکاح زید کے ساتھ کردیا. زید کے گھر جانے پر ہندہ کو معلوم ہوا کہ وہ نشہ باز ہے اس لیے ہندہ نے ہمبستری سے انکار کر دیا ۔ اور تیسرے دن زید سے طلاق لے لی ۔ پھر ایک ماہ بعد بکر سے نکاح کر لیا تو یہ نکاح جائز ہے یا نہیں؟ اور اس نکاح میں شریک ہونے والے گواہ اور قاضی کے لئے شرعاً کیا حکم ہے؟ بینوا و توجروا. الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ہندہ اگر کسی کے نکاح یا عدت میں نہ تھی تو اس کے والد کا اپنی مرضی سے کیا ہوا نکاح فضولی ہوا کہ ہندہ کی اجازت پر موقوف تھا پھر وہ بلا جبر و اکراہ شوہر کے یہاں رخصت ہو کر گئی تو اجازت فعلی پائی گئی نکاح صحیح ہوگیا. اب اگر زید نے وطی نہیں کی مگر خلوت صحیحہ ( عورت و مرد کی ایسی تنہائی کی کوئی چیز مانع ہمبستری نہ ہو) پائ گیی اور اس کے بعد زید نے طلاق دی تو ہندہ پر عدت گزارنا واجب ہے. قبل انقضاء عدت بکر سے نکاح جائز نہ ہوا. فتاوی عالمگیری جلد اول صفحہ 471 میں ہے ” رجل تزوج امراۃ نکاحا جائزا فطلقھا بعد الدخول او بعد الخلوۃ الصحیحۃ کان علیھا العدۃ کذا فی فتاویٰ قاضی خان. لہذا ایسی صورت میں ہندہ بکر ایک دوسرے سے الگ رہیں اور میاں بیوی کے تعلقات آپس میں ہرگز نہ قائم کریں ورنہ دونوں سخت گنہگار و حرام کام کرنے والے ہوں گے. اور اس نکاح سے راضی رہنے والے، شریک ہونے والے گواہ، اور نکاح خوان سب اعلانیہ توبہ کرے اور نکاح کے ناجائز ہونے کا اعلان عام کریں. اور اگر خلوت صحیحہ بھی نہیں پائی گئی تو عدت واجب نہیں اس صورت میں بکر کے ساتھ نکاح صحیح ہوگیا اگر کوئی اور دوسری وجہ مانع جواز نہ ہو. ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب ۔ کتبـــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 676
Kutubahu & Verified by:
<h4><strong>ثیبہ کا نکاح باپ نے بغیر اجازت کیا شوہر کے یہاں گئی اور پھر طلاق لے کر ایک ماہ بعد دوسرے سے شادی کر لی تو ؟</strong></h4> سوال : ہندہ دو بچے والی ہے ۔ ہندہ کے والد نے اپنی مرضی سے اس کا نکاح زید کے ساتھ کردیا. زید کے گھر جانے پر ہندہ کو معلوم ہوا کہ وہ نشہ باز ہے اس لیے ہندہ نے ہمبستری سے انکار کر دیا ۔ اور تیسرے دن زید سے طلاق لے لی ۔ پھر ایک ماہ بعد بکر سے نکاح کر لیا تو یہ نکاح جائز ہے یا نہیں؟ اور اس نکاح میں شریک ہونے والے گواہ اور قاضی کے لئے شرعاً کیا حکم ہے؟ بینوا و توجروا. <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> ہندہ اگر کسی کے نکاح یا عدت میں نہ تھی تو اس کے والد کا اپنی مرضی سے کیا ہوا نکاح فضولی ہوا کہ ہندہ کی اجازت پر موقوف تھا پھر وہ بلا جبر و اکراہ شوہر کے یہاں رخصت ہو کر گئی تو اجازت فعلی پائی گئی نکاح صحیح ہوگیا. اب اگر زید نے وطی نہیں کی مگر خلوت صحیحہ ( عورت و مرد کی ایسی تنہائی کی کوئی چیز مانع ہمبستری نہ ہو) پائ گیی اور اس کے بعد زید نے طلاق دی تو ہندہ پر عدت گزارنا واجب ہے. قبل انقضاء عدت بکر سے نکاح جائز نہ ہوا. فتاوی عالمگیری جلد اول صفحہ 471 میں ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>'' رجل تزوج امراۃ نکاحا جائزا فطلقھا بعد الدخول او بعد الخلوۃ الصحیحۃ کان علیھا العدۃ کذا فی فتاویٰ قاضی خان.</strong></span> لہذا ایسی صورت میں ہندہ بکر ایک دوسرے سے الگ رہیں اور میاں بیوی کے تعلقات آپس میں ہرگز نہ قائم کریں ورنہ دونوں سخت گنہگار و حرام کام کرنے والے ہوں گے. اور اس نکاح سے راضی رہنے والے، شریک ہونے والے گواہ، اور نکاح خوان سب اعلانیہ توبہ کرے اور نکاح کے ناجائز ہونے کا اعلان عام کریں. اور اگر خلوت صحیحہ بھی نہیں پائی گئی تو عدت واجب نہیں اس صورت میں بکر کے ساتھ نکاح صحیح ہوگیا اگر کوئی اور دوسری وجہ مانع جواز نہ ہو. ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 676</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...