Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1139
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
8.5K Views
پیداٸش اور وفات دونوں کی تاریخ ایک ہی ہے تو اس دن پیداٸش کی خوشی ہی کیوں مناٸی جاتی ہے?
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
پیداٸش اور وفات دونوں کی تاریخ ایک ہی ہے تو اس دن پیداٸش کی خوشی ہی کیوں مناٸی جاتی ہے?
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
پیداٸش اور وفات دونوں کی تاریخ ایک ہی ہے تو اس دن پیداٸش کی خوشی ہی کیوں مناٸی جاتی ہے
سوال: جب حضور ﷺ کی پیداٸش اور وفات دونوں کی تاریخ ایک ہی ہے تو اس دن پیداٸش کی خوشی ہی کیوں مناٸی جاتی ہے . وفات کا غم کیوں نہیں منایا جاتا؟ الجوابــــــــــــــــــــــــ شریعت مطہرہ میں صرف تین دن سوگ یا اظہار غم کی اجازت ہے اس سے زیادہ کی نہیں ۔ چنانچہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں: سمعت رسول اللہ ﷺ یقول لا یحل لامراة تومن باللہ و الیوم الاٰخر ان تحد علی میت فوق ثلث ا لا علی زوج فانھا تحد علیہ اربعة اشھر و عشرا (بخاری شریف ج١ ص١٧١) یعنی میں نے رسول اللہ ﷺ سے فرماتے ہوۓ سنا ہے : کہ جو عورت اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو، اس کے لیے یہ حلال نہیں کہ میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے ۔ مگر جس کا شوہر فوت ہوجاۓ وہ اس پر چار ماہ اور دس دن سوگ کرے ۔ حدیث پاک کی روشنی میں یہ بات سورج کی طرح روشن ہے کہ آج وفات شریف کی سوگ منانا بے معنی ہے ۔ اور ولادت شریف پر خوشی کا اظہار اس وجہ سے ہے کہ آپ ﷺ خدا کی سب سے عظیم نعمت ہیں ۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو شکران نعمت کا حکم دیا ۔ چنانچہ قرآن کریم میں ہے: وَ اَمَّا بِنِعۡمَةِ رَبِّکَ فَحَدِّثۡ ﴿الضحیٰ۱۱﴾ اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔ اب جو رسول پاک ﷺ کو خدا کی نعمت نہیں مانتے وہ حضور ﷺ کی پیداٸش میں خوشی نہ مناۓ ۔ الحمد للہ اہلسنت و الجماعت، حضور ﷺ کو صرف خدا کی نعمت ہی نہیں مانتے بلکہ یہ بھی مانتے ہیں کہ دنیا کی تمام نعمتیں اسی ایک نعمت کا صدقہ ہے اسی لیے ہم حضور اقدس ﷺ کی پیداٸش پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں ۔ و ھذا من فضل ربی۔ کتبـــــــہ : مفتی محفوظ عالم رضوی
Kutubahu & Verified by:
<h3>پیداٸش اور وفات دونوں کی تاریخ ایک ہی ہے تو اس دن پیداٸش کی خوشی ہی کیوں مناٸی جاتی ہے</h3> سوال: جب حضور ﷺ کی پیداٸش اور وفات دونوں کی تاریخ ایک ہی ہے تو اس دن پیداٸش کی خوشی ہی کیوں مناٸی جاتی ہے . وفات کا غم کیوں نہیں منایا جاتا؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــ</strong> </span> شریعت مطہرہ میں صرف تین دن سوگ یا اظہار غم کی اجازت ہے اس سے زیادہ کی نہیں ۔ چنانچہ ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں: <span style="color: #ff0000;"><strong>سمعت رسول اللہ ﷺ یقول لا یحل لامراة تومن باللہ و الیوم الاٰخر ان تحد علی میت فوق ثلث ا لا علی زوج فانھا تحد علیہ اربعة اشھر و عشرا (بخاری شریف ج١ ص١٧١)</strong></span> یعنی میں نے رسول اللہ ﷺ سے فرماتے ہوۓ سنا ہے : کہ جو عورت اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو، اس کے لیے یہ حلال نہیں کہ میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے ۔ مگر جس کا شوہر فوت ہوجاۓ وہ اس پر چار ماہ اور دس دن سوگ کرے ۔ حدیث پاک کی روشنی میں یہ بات سورج کی طرح روشن ہے کہ آج وفات شریف کی سوگ منانا بے معنی ہے ۔ اور ولادت شریف پر خوشی کا اظہار اس وجہ سے ہے کہ آپ ﷺ خدا کی سب سے عظیم نعمت ہیں ۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو شکران نعمت کا حکم دیا ۔ چنانچہ قرآن کریم میں ہے<span style="color: #ff0000;"><strong>: وَ اَمَّا بِنِعۡمَةِ رَبِّکَ فَحَدِّثۡ ﴿الضحیٰ۱۱﴾</strong></span> اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔ اب جو رسول پاک ﷺ کو خدا کی نعمت نہیں مانتے وہ حضور ﷺ کی پیداٸش میں خوشی نہ مناۓ ۔ الحمد للہ اہلسنت و الجماعت، حضور ﷺ کو صرف خدا کی نعمت ہی نہیں مانتے بلکہ یہ بھی مانتے ہیں کہ دنیا کی تمام نعمتیں اسی ایک نعمت کا صدقہ ہے اسی لیے ہم حضور اقدس ﷺ کی پیداٸش پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں ۔ و ھذا من فضل ربی۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــــہ : مفتی محفوظ عالم رضوی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...