Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

قومیائے ہوئے بینک سے ملنے والی زائد رقم کا حکم ؟

قومیائے ہوئے بینک سے ملنے والی زائد رقم کا حکم ؟
Reference 1150 September 18, 2025 9,731 views
اصل سوالقومیائے ہوئے بینک سے ملنے والی زائد رقم کا حکم ؟

قومیائے ہوئے بینک سے ملنے والی زائد رقم کا حکم ؟

سوال :انڈیا گورنمنٹ نے بینک کو قومیا لیا ہے۔ حفاظت کے لیے بکر نے اپنا روپیہ جمع کردیا ۔پانچ سال کے بعد جب بکر نے جائیداد خریدنے کے واسطے اپنا روپیہ نکالا تو اصل رقم کے ساتھ نفع کا بھی روپیہ ملا ۔ یہ روپیہ بکر کے لئے جائز ہے یا ناجائز ؟زید کا کہنا ہے کہ کہ قومیائے ہوئے بینک سے اصل رقم کے ساتھ جو زائد روپیہ ملا ہے اور جائز نہیں ہے کیونکہ بینک خالص ہندو مہاجن کے نہیں ہیں۔ اس کے مالک ہندو، مسلم,سکھ، عیسائی سبھی ہیں۔ یہ رقم سود ہوجاتی ہے بکر اسے کیا کرے ؟ شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ عین نوازش ہوگی۔ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ قومیائے ہوئے بینک کے مالک مسلمان بھی ہیں یہ صرف کہنے کے لئے ہے حقیقت میں اس کے مالک صرف یہاں کے کافر ہیں جو حربی ہیں اور مسلمان و حربی کے درمیان شرعاً سود نہیں کما فی الحدیث۔ لہذا ایسے بینک کا نفع مسلمان کیلئے جائز ہے۔ بکر اسے لے کر کسی بھی جائز کام میں خرچ کر سکتا ہے ۔ وھو سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب کتبـــــــــــــــــــــــــــــہ: مفتی  جلال الدین احمد الامجدی

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.