Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #99
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
13.9K Views
کان میں بالقصد پانی یا تیل ڈالنے سے روزہ فاسد ہوجائے گا
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
کان میں بالقصد پانی یا تیل ڈالنے سے روزہ فاسد ہوجائے گا
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
کان میں بالقصد پانی یا تیل ڈالنے سے روزہ فاسد ہوجائے گا
السلام علیکم ورحمة الله وبركاته حضور مفتی صاحب قبلہ کی بارگاہ میں عرض ہے کہ بہار شریعت میں مذکور ہے “بحالت روزہ کان میں تیل ڈالا یا تیل چلا گیا تو روزہ جاتا رہا اور پانی کان میں چلا گیا یا ڈالا تو نہیں ۔(بہار شریعت حصہ پنجم بحوالہ عالمگیری) اور فتاوی رضویہ میں یوں بیان ہے “کان میں بالقصد پانی کا ادخال اصح الاقوال پر مفسد صوم ہے.” (فتاویٰ رضویہ مترجم جلد ١٠) بہار شریعت کی عبارت سے یہ ظاہر کہ پانی کا ادخال مفسد صوم نہیں جبکہ فتاوی رضویہ کی عبارت سے یہ مفہوم کہ یہ عمل مفسد صوم ہے ۔ دونوں عبارتوں میں تطبیق کی صورت بیان فرما کر عند اللہ ماجور ہوں. جزاكم الله خيراً ۔ المستفتی: اشفاق احمد علیمی دار العلوم غوث اعظم، پور بندر، گجرات. 27/04/2021الجواب
صدر الشریعہ بدر الطریقہ علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ نے جو یہ تحریر فرمایا: “پانی کان میں چلا گیا یا ڈالا تو روزہ نہیں ٹوٹا” اور امامِ اہلِ سنت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز نے جو یہ تحریر فرمایا: “کان میں بالقصد پانی کا ادخال اصح الاقوال پر مفسد صوم ہے ۔ ان دونوں میں تطبیق خود ارشادِ اعلی حضرت علیہ الرحمہ “اصح الاقوال”سے مستفاد ہے ۔ یعنی: کان میں پانی ڈالنے سے روزہ نہ ٹوٹنا یہ بھی مذہب حنفی میں ایک صحیح اور قوی قول ہے ۔ لیکن اصح الاقوال یہ ہے کہ کان میں پانی ڈالنے سےروزہ ٹوٹ جائے گا ۔ فقہِ حنفی کے طالبِ علم پر مخفی نہیں ہے کہ فقہی ذخائر میں ایسے متعدد مسائل ہیں جن میں تصحیح وترجیح میں اختلاف ہوتا ہے ایسے مواقع پر امام فقیہ النفس قاضی خان یا امام احمد رضا خان علیہما الرحمة والرضوان جیسے کسی عبقری فقیہ کی رہنمائی درکار ہوتی ہے ۔ پھر ان میں بعض مواقع ایسےبھی ہوتے ہیں جہاں مقلد کو دونوں مصحح قولوں میں سے کسی ایک پر بھی عمل کی گنجائش ہوتی ہے ۔ جس کی مثالیں فتاوی رضویہ میں موجود ہیں۔ (١) عورت کو اختیار ہے کہ نماز میں پشتِ قدم اور تلوے چھپاکر نماز پڑھے یا ظاہر کرکے پڑھے۔ امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں :تنبیہ اول:
ملاحظہ حلیہ وغنیہ و بحر و ردالمحتار وغیرہا سے ظاہر کہ قدمِ حرہ میں ہمارے علما رضی اﷲتعالی عنہم کو اختلاف شدید مع اختلاف تصحیح ہے ۔ بعض کے نزدیک مطلقا عورت ہے ۔ امام اقطع نے شرح قدوری اور امام قاضی خان نے اپنے فتاوی میں اس کی تصحیح اور حلیہ میں بدلیل احادیث اسی کی ترجیح کی، امام اسبیجابی و امام مرغینانی نے اسی کو اختیار فرمایا۔ بعض کے نزدیک اصلا عورت نہیں ۔ امام برہان الدین نے ہدایہ اور امام قاضی خان نے شرح جامع صغیر اور امام نسفی نے کافی میں اسی کی تصحیح فرمائی، اسی کو محیط میں اختیار کیا اور درمختار میں معتمد اور مراقی الفلاح میں اصح الروایتین کہا، کنز وغیرہ اکثر متون کتاب الصلوۃ میں اسی طرف ناظر ہیں۔بعض کے نزدیک بیرون نماز عورت ہیں نماز میں نہیں ، یعنی اجنبی کو انکا دیکھنا حرام مگر نماز میں کھل جانا مفسد نہیں، اختیار شرح مختار میں اسی کی تصحیح فرمائی۔ پھر کلام خلاصہ وغیرہا سے مستفاد کہ یہ اختلافات صرف تلووں میں ہیں پشتِ قدم بالاتفاق عورت نہیں ، مگر کلامِ علامہ قاسم و حلیہ وغنیہ وغیرہا سے ظاہر کہ وہ بھی مختلف فیہ ہے اور شک نہیں کہ بعض احادیث اس کے عورت ہونے کی طرف ناظر، کما یظہر بمراجعۃ الحلیۃ وغیرہا ۔ تو اگر زیادتِ احتیاط کی طرف نظر جائے تو نہ صرف تلووں بلکہ ٹخنوں کے نیچے سے ناخن پا تک سارے پاؤں کو عورت سمجھا جائے ، یوں بھی شمار اعضا تیس۳۰ ہی رہے گا اور اگر آسانی پر عمل کریں تو سارے پاؤں عورت سے خارج ہوکر اعضاء اٹھائیس ۲۸ ہی رہیں ۔ آدمی ان معاملات میں مختار ہے جس قول پر چاہے (فتاوی رضویہ ج ٣ص٧ ) (٢) رمضان المبارک میں وتر کی نماز باجماعت پڑھنے یا تنہا پڑھنے کی افضلیت میں اختلافِ تصحیح ہے۔اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیزتحریر فرماتے ہیں: “وتررمضان المبارک میں ہمارے علمائے کرام قدست اسرارہم کواختلاف ہے کہ مسجد میں جماعت سے پڑھناافضل ہے یامثل نماز گھرمیں تنہا، دونوں قول باقوت ہیں اور دونوں طرف تصحیح وترجیح، اول کو یہ مزیت کہ اب عامہ مسلمین کا اس پر عمل ہے اور حدیث سے بھی اس کی تائید نکلتی ہے، ثانی کو یہ فضیلت کہ وہ ظاہرالروایۃ ہے” (فتاوی رضویہ ج٣ ص۴۵۴) پھر فقہی نصوص وافادات ذکر کرنے کے بعد آخر میں تحریر فرماتے ہیں: ” بالجملہ اس مسئلہ میں اپنے وقت وحالت اور اپنی قوم وجماعت کی موافقت سے جسے انسب جانے اس پرعمل کااختیاررکھتاہے” (فتاوی رضویہ ج ٣ص ۴۵٣) اور بعض مواقع پر فقہی جزئیات وفروع اور ان کے دلائل وبراہین پر عمیق نظر رکھنے والے کسی ایک قولِ مصحح کو اختیار کرتے ہیں، زیر نظر مسئلہ(یعنی کان میں بالقصد پانی ڈالنے) میں امام احمد رضا قدس سرہ العزیز کی تحقیق کے مطابق ایک ایسی چیز کا روزہ دار کے جوف میں پورے طور پر استقرار متحقق ہے جس کو شرع نے “مفطر” (روزہ توڑنے والا) مانا ہے، کیوں کہ بالقصد کان میں پانی ڈالنا ممکن الاحتراز ہے۔اس لیے کان میں پانی ڈالنے سے روزہ ٹوٹنے کا حکم ہوگا ۔ ہاں! شریعت طاہرہ سہلہ روزہ دار کے جوف میں ایسی چیز جانے کو “مفطر” نہیں قرار دیتی جس سے کسی روزہ دار کو بچنا ناممکن ہو ،جیسے ہوا۔ یوں ہی آسان شریعت اس چیز کے جوف میں بلا قصد چلے جانے کو بھی مفطر نہیں قرار دیتی جس سے ہر شخص کو کسی نہ کسی طور پر واسطہ پڑتا ہے،مثلاً: گرد وغبار، دھواں، مکھی وغیرہ کا حلق میں چلا جانا۔(اور اسی صورت سے کان میں پانی کا جانا بھی ہے)کیوں کہ اس صورت میں اگر فسادِ روزہ کا حکم ہو تو تکلیفِ مالا یطاق لازم آئے جو شرعاً مدفوع ہے ۔ امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “اب ہم اُن اشیاء کو جو خارج سے جوفِ صائم میں داخل ہوں نظر کریں تو انحائے مختلفہ کو پاتے ہیں ان میں بعض وُہ ہیں جن سے کسی وقت صائم کو احتراز ممکن نہیں، جیسے ہوا، بعض وُہ جن سے احیاناًتلبس ہر شخص کو ضرور ۔ اور ان سے تحرّزِ کلی نامقدور ، جیسے دخولِ غبار ودخان کہ کسی نہ کسی طرح انسان کو ان سے قرب کی حاجت ضروری ہے اور وُہ اپنی حدِّ ذات میں ممکن الاحترازنہیں، آدمی کو کلام سے چارہ نہیں، اور کلام نہ بھی کرے تو بے تنفس کیونکر گزرے، اور ہو اکہ ان کی حامل ہوتی ہے اورتمام فضامیں بھری اور متحرک رہتی ، جابجالیے پھرتی ہے، آدمی مُنہ بند بھی رکھے تو یہ ناک کی راہ سے داخل ہوسکتے ہیں اور بعض وُہ جن سے ہمیشہ تحر ز کرسکتا ہے اگر چہ نادراً بعض اشخاص کو بعض حالات ایسے پیش آئیں کہ تلبس پر مجبور کریں، جیسے طعام و شراب ، اور انہیں میں دخان وغبار کا بالقصد ادخال کہ یہ تو اپنا فعل ہے، انسان اس میں مجبور محض نہیں، شرع مطہر نے کہ حکیم ورحیم ہے جس طرح قسم اوّل کو مفطرات سے خارج فرمایا کہ اگر اسے ملحوظ رکھیں تو صوم ممتنع اور تکلیف روزہ تکلیف بالمحال ٹہیرے ۔ اسی طرح قسمِ ثانی کو مطلقا شمارِ مفطرات میں نہ رکھا اگر مفطر مانیں تو دو حال سے خالی نہیں، یا تو حکمِ فطر ہمیشہ ثابت رکھیں تو وہی تکلیف مالایطاق ہوتی ہے یا وقتِ ضرورت باوصف حصولِ مفطر روزہ باقی جانیں تو بقائے شے مع انتفائے حقیقت یا اجتماعِ ذات ومنافی ذات لازم آئے اور یہ باطل ہے، ہم ابھی کہہ آئے ہیں کہ دربارہ حقائق ضرورت کارگر نہیں ہوتی”(فتاوی رضویہ ج۴ ص۵٩٠۔ مزید تفصیل کے لیے رسالہ مبارکہ” الاعلام بحال البخور فی الصیام” کا امعانِ نظر سے مطالعہ کرنا چاہیے) لیکن یہاں یہ بھی واضح رہے کہ صدر الشریعہ بدر الطریقہ علیہ الرحمہ نےعالم گیری کے حوالے سے پانی کان میں ڈالنے کوجو روزہ فاسد نہ کرنے والا تحریر فرمایا ہے وہ بھی مذہب کا ایک قوی قول ہے ۔ چناں چہ عالم گیری کے علاوہ صاحب در مختار نے بھی کان میں پانی ڈالنے کو قول مختار کے مطابق روزہ فاسد نہ کرنے والا تحریر فرمایا ہے اور ایک فقہی فرع سے اس کو موید بھی کیا ہے۔اور علامہ شامی علیہ الرحمہ نے اسی کو متعدد فقہاء(صاحب ہدایہ، صاحب تبیین الحقائق،صاحب محیط اور صاحب ولوالجیہ) کا قول ِمختار قرار دیا ہے۔ تحریر فرماتے ہیں : (او دخل الماء فی اذنہ وان کان بفعلہ) اختارہ فی الہدایة والتبیین، وصححہ فی المحیط،وفی الولوالجیةانہ المختار۔ وفصل فی الخانیة بانہ ان دخل لایفسد، وان ادخلہ یفسد فی الصحیح؛ لانہ وصل الی الجوف بفعلہ فلا یعتبر فیہ صلاح البدن”(رد المحتار ج٣ص٣٦٧) حاصل یہ ہے کہ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ نے جو تحریر فرمایا وہ بھی ایک قوی اور معتمد اور بعض فقہاء کا قول مختار ہے لیکن اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی تحقیق کے مطابق کان میں بالقصد پانی ڈالنے سے فسادِ روزہ کا حکم دیا جائے گا۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔کتبہ:محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔بستی۔ یوپی ۔
٢٩/رمضان المبارک ١۴۴٢/ ١٢/مئی ٢٠٢١ءمالداروں کو صدقہ فطر کی ادائیگی میں اپنی حیثیت کا لحاظ رکھنا مناسب ہے مفتی محمد نظام الدین قادری
کیا ترکہ کے مکان کی مرمت کا خرچ تمام وارثوں کے ذمہ ہے؟ مفتی محمد نظام الدین قادری
Kutubahu & Verified by:
<h2>کان میں بالقصد پانی یا تیل ڈالنے سے روزہ فاسد ہوجائے گا</h2> السلام علیکم ورحمة الله وبركاته حضور مفتی صاحب قبلہ کی بارگاہ میں عرض ہے کہ بہار شریعت میں مذکور ہے "بحالت روزہ کان میں تیل ڈالا یا تیل چلا گیا تو روزہ جاتا رہا اور پانی کان میں چلا گیا یا ڈالا تو نہیں ۔(بہار شریعت حصہ پنجم بحوالہ عالمگیری) اور فتاوی رضویہ میں یوں بیان ہے "کان میں بالقصد پانی کا ادخال اصح الاقوال پر مفسد صوم ہے." (فتاویٰ رضویہ مترجم جلد ١٠) بہار شریعت کی عبارت سے یہ ظاہر کہ پانی کا ادخال مفسد صوم نہیں جبکہ فتاوی رضویہ کی عبارت سے یہ مفہوم کہ یہ عمل مفسد صوم ہے ۔ دونوں عبارتوں میں تطبیق کی صورت بیان فرما کر عند اللہ ماجور ہوں. جزاكم الله خيراً ۔ المستفتی: اشفاق احمد علیمی دار العلوم غوث اعظم، پور بندر، گجرات. 27/04/2021 <h4><span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب</strong></span></h4> صدر الشریعہ بدر الطریقہ علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ نے جو یہ تحریر فرمایا: "پانی کان میں چلا گیا یا ڈالا تو روزہ نہیں ٹوٹا" اور امامِ اہلِ سنت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز نے جو یہ تحریر فرمایا: "کان میں بالقصد پانی کا ادخال اصح الاقوال پر مفسد صوم ہے ۔ ان دونوں میں تطبیق خود ارشادِ اعلی حضرت علیہ الرحمہ "اصح الاقوال"سے مستفاد ہے ۔ یعنی: کان میں پانی ڈالنے سے روزہ نہ ٹوٹنا یہ بھی مذہب حنفی میں ایک صحیح اور قوی قول ہے ۔ لیکن اصح الاقوال یہ ہے کہ کان میں پانی ڈالنے سےروزہ ٹوٹ جائے گا ۔ فقہِ حنفی کے طالبِ علم پر مخفی نہیں ہے کہ فقہی ذخائر میں ایسے متعدد مسائل ہیں جن میں تصحیح وترجیح میں اختلاف ہوتا ہے ایسے مواقع پر امام فقیہ النفس قاضی خان یا امام احمد رضا خان علیہما الرحمة والرضوان جیسے کسی عبقری فقیہ کی رہنمائی درکار ہوتی ہے ۔ پھر ان میں بعض مواقع ایسےبھی ہوتے ہیں جہاں مقلد کو دونوں مصحح قولوں میں سے کسی ایک پر بھی عمل کی گنجائش ہوتی ہے ۔ جس کی مثالیں فتاوی رضویہ میں موجود ہیں۔ (١) عورت کو اختیار ہے کہ نماز میں پشتِ قدم اور تلوے چھپاکر نماز پڑھے یا ظاہر کرکے پڑھے۔ امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں : <h3>تنبیہ اول:</h3> ملاحظہ حلیہ وغنیہ و بحر و ردالمحتار وغیرہا سے ظاہر کہ قدمِ حرہ میں ہمارے علما رضی اﷲتعالی عنہم کو اختلاف شدید مع اختلاف تصحیح ہے ۔ بعض کے نزدیک مطلقا عورت ہے ۔ امام اقطع نے شرح قدوری اور امام قاضی خان نے اپنے فتاوی میں اس کی تصحیح اور حلیہ میں بدلیل احادیث اسی کی ترجیح کی، امام اسبیجابی و امام مرغینانی نے اسی کو اختیار فرمایا۔ بعض کے نزدیک اصلا عورت نہیں ۔ امام برہان الدین نے ہدایہ اور امام قاضی خان نے شرح جامع صغیر اور امام نسفی نے کافی میں اسی کی تصحیح فرمائی، اسی کو محیط میں اختیار کیا اور درمختار میں معتمد اور مراقی الفلاح میں اصح الروایتین کہا، کنز وغیرہ اکثر متون کتاب الصلوۃ میں اسی طرف ناظر ہیں۔بعض کے نزدیک بیرون نماز عورت ہیں نماز میں نہیں ، یعنی اجنبی کو انکا دیکھنا حرام مگر نماز میں کھل جانا مفسد نہیں، اختیار شرح مختار میں اسی کی تصحیح فرمائی۔ پھر کلام خلاصہ وغیرہا سے مستفاد کہ یہ اختلافات صرف تلووں میں ہیں پشتِ قدم بالاتفاق عورت نہیں ، مگر کلامِ علامہ قاسم و حلیہ وغنیہ وغیرہا سے ظاہر کہ وہ بھی مختلف فیہ ہے اور شک نہیں کہ بعض احادیث اس کے عورت ہونے کی طرف ناظر، کما یظہر بمراجعۃ الحلیۃ وغیرہا ۔ تو اگر زیادتِ احتیاط کی طرف نظر جائے تو نہ صرف تلووں بلکہ ٹخنوں کے نیچے سے ناخن پا تک سارے پاؤں کو عورت سمجھا جائے ، یوں بھی شمار اعضا تیس۳۰ ہی رہے گا اور اگر آسانی پر عمل کریں تو سارے پاؤں عورت سے خارج ہوکر اعضاء اٹھائیس ۲۸ ہی رہیں ۔ آدمی ان معاملات میں مختار ہے جس قول پر چاہے (فتاوی رضویہ ج ٣ص٧ ) (٢) رمضان المبارک میں وتر کی نماز باجماعت پڑھنے یا تنہا پڑھنے کی افضلیت میں اختلافِ تصحیح ہے۔اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیزتحریر فرماتے ہیں: "وتررمضان المبارک میں ہمارے علمائے کرام قدست اسرارہم کواختلاف ہے کہ مسجد میں جماعت سے پڑھناافضل ہے یامثل نماز گھرمیں تنہا، دونوں قول باقوت ہیں اور دونوں طرف تصحیح وترجیح، اول کو یہ مزیت کہ اب عامہ مسلمین کا اس پر عمل ہے اور حدیث سے بھی اس کی تائید نکلتی ہے، ثانی کو یہ فضیلت کہ وہ ظاہرالروایۃ ہے" (فتاوی رضویہ ج٣ ص۴۵۴) پھر فقہی نصوص وافادات ذکر کرنے کے بعد آخر میں تحریر فرماتے ہیں: " بالجملہ اس مسئلہ میں اپنے وقت وحالت اور اپنی قوم وجماعت کی موافقت سے جسے انسب جانے اس پرعمل کااختیاررکھتاہے" (فتاوی رضویہ ج ٣ص ۴۵٣) اور بعض مواقع پر فقہی جزئیات وفروع اور ان کے دلائل وبراہین پر عمیق نظر رکھنے والے کسی ایک قولِ مصحح کو اختیار کرتے ہیں، زیر نظر مسئلہ(یعنی کان میں بالقصد پانی ڈالنے) میں امام احمد رضا قدس سرہ العزیز کی تحقیق کے مطابق ایک ایسی چیز کا روزہ دار کے جوف میں پورے طور پر استقرار متحقق ہے جس کو شرع نے "مفطر" (روزہ توڑنے والا) مانا ہے، کیوں کہ بالقصد کان میں پانی ڈالنا ممکن الاحتراز ہے۔اس لیے کان میں پانی ڈالنے سے روزہ ٹوٹنے کا حکم ہوگا ۔ ہاں! شریعت طاہرہ سہلہ روزہ دار کے جوف میں ایسی چیز جانے کو "مفطر" نہیں قرار دیتی جس سے کسی روزہ دار کو بچنا ناممکن ہو ،جیسے ہوا۔ یوں ہی آسان شریعت اس چیز کے جوف میں بلا قصد چلے جانے کو بھی مفطر نہیں قرار دیتی جس سے ہر شخص کو کسی نہ کسی طور پر واسطہ پڑتا ہے،مثلاً: گرد وغبار، دھواں، مکھی وغیرہ کا حلق میں چلا جانا۔(اور اسی صورت سے کان میں پانی کا جانا بھی ہے)کیوں کہ اس صورت میں اگر فسادِ روزہ کا حکم ہو تو تکلیفِ مالا یطاق لازم آئے جو شرعاً مدفوع ہے ۔ امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: "اب ہم اُن اشیاء کو جو خارج سے جوفِ صائم میں داخل ہوں نظر کریں تو انحائے مختلفہ کو پاتے ہیں ان میں بعض وُہ ہیں جن سے کسی وقت صائم کو احتراز ممکن نہیں، جیسے ہوا، بعض وُہ جن سے احیاناًتلبس ہر شخص کو ضرور ۔ اور ان سے تحرّزِ کلی نامقدور ، جیسے دخولِ غبار ودخان کہ کسی نہ کسی طرح انسان کو ان سے قرب کی حاجت ضروری ہے اور وُہ اپنی حدِّ ذات میں ممکن الاحترازنہیں، آدمی کو کلام سے چارہ نہیں، اور کلام نہ بھی کرے تو بے تنفس کیونکر گزرے، اور ہو اکہ ان کی حامل ہوتی ہے اورتمام فضامیں بھری اور متحرک رہتی ، جابجالیے پھرتی ہے، آدمی مُنہ بند بھی رکھے تو یہ ناک کی راہ سے داخل ہوسکتے ہیں اور بعض وُہ جن سے ہمیشہ تحر ز کرسکتا ہے اگر چہ نادراً بعض اشخاص کو بعض حالات ایسے پیش آئیں کہ تلبس پر مجبور کریں، جیسے طعام و شراب ، اور انہیں میں دخان وغبار کا بالقصد ادخال کہ یہ تو اپنا فعل ہے، انسان اس میں مجبور محض نہیں، شرع مطہر نے کہ حکیم ورحیم ہے جس طرح قسم اوّل کو مفطرات سے خارج فرمایا کہ اگر اسے ملحوظ رکھیں تو صوم ممتنع اور تکلیف روزہ تکلیف بالمحال ٹہیرے ۔ اسی طرح قسمِ ثانی کو مطلقا شمارِ مفطرات میں نہ رکھا اگر مفطر مانیں تو دو حال سے خالی نہیں، یا تو حکمِ فطر ہمیشہ ثابت رکھیں تو وہی تکلیف مالایطاق ہوتی ہے یا وقتِ ضرورت باوصف حصولِ مفطر روزہ باقی جانیں تو بقائے شے مع انتفائے حقیقت یا اجتماعِ ذات ومنافی ذات لازم آئے اور یہ باطل ہے، ہم ابھی کہہ آئے ہیں کہ دربارہ حقائق ضرورت کارگر نہیں ہوتی"(فتاوی رضویہ ج۴ ص۵٩٠۔ مزید تفصیل کے لیے رسالہ مبارکہ" الاعلام بحال البخور فی الصیام" کا امعانِ نظر سے مطالعہ کرنا چاہیے) لیکن یہاں یہ بھی واضح رہے کہ صدر الشریعہ بدر الطریقہ علیہ الرحمہ نےعالم گیری کے حوالے سے پانی کان میں ڈالنے کوجو روزہ فاسد نہ کرنے والا تحریر فرمایا ہے وہ بھی مذہب کا ایک قوی قول ہے ۔ چناں چہ عالم گیری کے علاوہ صاحب در مختار نے بھی کان میں پانی ڈالنے کو قول مختار کے مطابق روزہ فاسد نہ کرنے والا تحریر فرمایا ہے اور ایک فقہی فرع سے اس کو موید بھی کیا ہے۔اور علامہ شامی علیہ الرحمہ نے اسی کو متعدد فقہاء(صاحب ہدایہ، صاحب تبیین الحقائق،صاحب محیط اور صاحب ولوالجیہ) کا قول ِمختار قرار دیا ہے۔ تحریر فرماتے ہیں : (او دخل الماء فی اذنہ وان کان بفعلہ) اختارہ فی الہدایة والتبیین، وصححہ فی المحیط،وفی الولوالجیةانہ المختار۔ وفصل فی الخانیة بانہ ان دخل لایفسد، وان ادخلہ یفسد فی الصحیح؛ لانہ وصل الی الجوف بفعلہ فلا یعتبر فیہ صلاح البدن"(رد المحتار ج٣ص٣٦٧) حاصل یہ ہے کہ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ نے جو تحریر فرمایا وہ بھی ایک قوی اور معتمد اور بعض فقہاء کا قول مختار ہے لیکن اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی تحقیق کے مطابق کان میں بالقصد پانی ڈالنے سے فسادِ روزہ کا حکم دیا جائے گا۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ <h4><span style="color: #ff0000;"><strong>کتبہ:محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔بستی۔ یوپی ۔</strong></span></h4> ٢٩/رمضان المبارک ١۴۴٢/ ١٢/مئی ٢٠٢١ء <!--more--> <h2 class="entry-title"><a href="https://urdu.masailworld.com/?p=372" rel="bookmark">مالداروں کو صدقہ فطر کی ادائیگی میں اپنی حیثیت کا لحاظ رکھنا مناسب ہے مفتی محمد نظام الدین قادری</a></h2> <h2 class="entry-title"><a href="https://urdu.masailworld.com/?p=365" rel="bookmark">کیا ترکہ کے مکان کی مرمت کا خرچ تمام وارثوں کے ذمہ ہے؟ مفتی محمد نظام الدین قادری</a></h2>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...