Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

بینک سے قرض لینے پر جو زائد رقم دینا پڑتی ہے وہ دینا جائز ہے ؟

بینک سے قرض لینے پر جو زائد رقم دینا پڑتی ہے وہ دینا جائز ہے ؟
Reference 1152 September 18, 2025 9,943 views
اصل سوالبینک سے قرض لینے پر جو زائد رقم دینا پڑتی ہے وہ دینا جائز ہے ؟

بینک سے قرض لینے پر جو زائد رقم دینا پڑتی ہے وہ دینا جائز ہے ؟

سوال : اسٹیٹ بینک۔ بڑودہ بینک اور دوسرے بینک میں جو پیسہ جمع کرنے سے سود ملتا ہے وہ لینا جائز ہے یا نہیں؟ اور بینک سے قرض لینے کی صورت میں بینک کو جو زائد رقم دینی پڑتی ہے وہ دینا جائز ہے یا نہیں ؟ تفصلی جواب عنایت فرمائیں الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــ جو بینک کہ مسلمانوں کا ہے یا مسلم اور غیر مسلم کا مشترکہ ہے اس میں پیسہ جمع کرنے کے بعد جو نفع ملتا ہے وہ شرعاً سود ہے حرام ہے۔ اور جو بینک کہ خالص کافروں کا ہے اس کا نفع لینا جائز ہے کہ وہ از روۓ شرع سود نہیں ۔ اور بینک سے قرض لے کر اسے زائد رقم دینا ممنوع ہے اگرچہ وہ بینک خالص کافروں کا ہو ۔ ردالمحتار جلد چہارم صفحہ ١٨٨ میں ہے “ان مرادھم من حل الربا والقمار ما اذا حصلت الزیادۃ للمسلم اھ وھوا سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب ۔ کتبـــــــــــــہ: مفتی جلال الدین احمد الامجدی

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.