Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

باپ اور بھائی کی موجودگی میں ماموں نے نکاح کر دیا تو نکاح ہوا یا نہیں؟

باپ اور بھائی کی موجودگی میں ماموں نے نکاح کر دیا تو نکاح ہوا یا نہیں؟
Reference 1154 September 18, 2025 10,261 views
اصل سوالباپ اور بھائی کی موجودگی میں ماموں نے نکاح کر دیا تو نکاح ہوا یا نہیں؟

باپ اور بھائی کی موجودگی میں ماموں نے نکاح کر دیا تو نکاح ہوا یا نہیں؟

سوال : ماموں نے اپنی نابالغ بھانجی کا نکاح اپنی اجازت سے کر دیا حالانکہ اس وقت باپ اور بھائی بھی موجود تھے جس وقت لڑکی بالغ ہوئی تو اس وقت لڑکی نے کہا کہ میں اس شوہر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی اور لڑکی نے عدالت منصفی میں ایک دعوی بھی دائر کیا جس میں لڑکی نے یہ بتلایا کہ میرا نکاح نابالغی میں ہوا تھا اور اب میں بالغ ہوگئی ہوں اور مجھے اختیار ہے کہ میں اپنا نکاح فسخ کر دوں اور عدالت منصفی نے لڑکی کا نکاح فسخ کر دیا اس صورت میں لڑکی اپنا دوسرا نکاح کر سکتی ہے یا نہیں؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــ صورت مسؤلہ میں نابالغ بھانجی کا نکاح باپ کی اجازت کے بغیر اگر ماموں نے غیر کفو سے کیا یا مہر میں فاحش کمی کے ساتھ کیا تو نکاح باطل ہوا. درمختار مع الشامی جلد اول صفحہ 305 میں ہے ‘‘ ان کان المزوج غیرھما ای غیر الاب وابیہ لا یصح النکاح من غیر کفؤ او بغبن فاحش اصلا ” اور اگر باپ کی اجازت کے بغیر صرف ماموں نے کفو کے ساتھ مہر مثل کے بدلے کیا تو نکاح فضولی ہوا اس صورت میں باپ کی اجازت پر موقوف تھا اگر اس نے نکاح کی خبر سن کر رد کر دیا اور کہا کہ میں اس نکاح کو جائز نہیں ٹھہراتا یا رد کرتا ہوں یا میں راضی نہیں ہوں یا ان کے مثل اور کوئی لفظ کہا تو رد ہو گیا. اس صورت میں لڑکی طلاق حاصل کیے بغیر دوسرا نکاح کر سکتی ہے. اور اگر باپ نے اس نکاح کی اجازت پہلے دے دی تھی یا ماموں نے کفؤ سے مہر مثل کے ساتھ نکاح کیا تو باپ نے صراحۃ اجازت دے دی مثلاً کہا کہ بہتر ہوا یا میں نے پسند کیا یا مجھے منظور ہے یا ان کے مثل اور کوئی کلمہ کہا. یا بعد نکاح باپ نے دلالۃ اجازت دے دی مثلا اس نے شوہر کی جانب سے لڑکی کے لیے عیدی کپڑا وغیرہ قبول کیا یا باپ نے اسی قسم کا اور کوئی کام کیا جس سے رضامندی سمجھی جائے تو نکاح لازم ہو گیا. در مختار میں ہے ” لو زوج الابعد حال قیام الاقرب توقف علی اجازتہ ” ان تمام صورتوں میں لڑکی شوہر سے طلاق حاصل کیے بغیر دوسرا نکاح ہرگز نہیں کر سکتی کہ کفؤ سے مہر مثل کے ساتھ کیا ہوا ماموں کا نکاح باپ کی اجازت پر موقوف تھا جب اس نے نافذ کر دیا لازم ہوگیا بشرطیکہ باپ معروف بسوء الاختیار نہ ہو. لہذا اس صورت میں لڑکی کو کو بعد بلوغ اختیار فسخ نہ رہا اور جب اختیار فسخ نہ رہا تو بالغ ہوتے ہی لڑکی کا یہ کہنا کہ میں اس شوہر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی فضول ہے. اور موجودہ زمانے کے نام نہاد عدالت منصفی سے نکاح فسخ کرانا بہرصورت بے کار ہے یہ دارالقضاء شرعی نہیں اور نہ ہی حاکم شرع. لہذا ان کے فسخ کرنے سے نکاح ہرگز فسخ نہ ہوگا. ھکذا فی الجزء الخامس من الفتاویٰ الرضویہ. واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 677

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.