Back to All Fatwas
الجواب: صلاة التسبیح ایک نفل نماز ہے اور نماز تراویح ، نمازِ استسقاء اور نماز کسوف (سورج گہن کی نماز)کے علاوہ نفل نماز کی جماعت “تداعی” کے ساتھ مکروہ ہے۔ “تداعی” کا مطلب یہ ہے کہ تین سے زیادہ مقتدی ہوں۔ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “جمعہ و عیدین میں جماعت شرط ہے اور تراویح میں سُنت کفایہ کہ محلہ کے سب لوگوں نے ترک کی تو سب نے بُرا کیا اور کچھ لوگوں نے قائم کر لی تو باقیوں کے سر سے جماعت ساقط ہوگئی اور رمضان کے وتر میں مستحب ہے، نوافل اور علاوہ رمضان کے وتر میں اگر تداعی کے طور پر ہو تو مکروہ ہے۔ تداعی کے یہ معنی ہیں کہ تین سے زیادہ مقتدی ہوں ۔ سورج گہن میں جماعت سنت ہے اور چاند گہن میں تداعی کے ساتھ مکروہ”
Verified Jurist
Ref #100
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
4.2K Views
کیاصلاة التسبیح جماعت کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں؟ مفتی محمد نظام الدین قادری
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
کیاصلاة التسبیح جماعت کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں؟ مفتی محمد نظام الدین قادری
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
کیاصلاة التسبیح جماعت کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں؟از مفتی محمد نظام الدین قادری دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علماےدین مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ صلاۃ التسبیح جماعت کے ساتھ پڑھنا یا پڑھانا درست ہے یا نہیں اگر ہے تو جماعت کاطریقہ کیا ہوگا ؟ المستفتی: محمدرضاعلیمی ببھنان
الجواب: صلاة التسبیح ایک نفل نماز ہے اور نماز تراویح ، نمازِ استسقاء اور نماز کسوف (سورج گہن کی نماز)کے علاوہ نفل نماز کی جماعت “تداعی” کے ساتھ مکروہ ہے۔ “تداعی” کا مطلب یہ ہے کہ تین سے زیادہ مقتدی ہوں۔ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “جمعہ و عیدین میں جماعت شرط ہے اور تراویح میں سُنت کفایہ کہ محلہ کے سب لوگوں نے ترک کی تو سب نے بُرا کیا اور کچھ لوگوں نے قائم کر لی تو باقیوں کے سر سے جماعت ساقط ہوگئی اور رمضان کے وتر میں مستحب ہے، نوافل اور علاوہ رمضان کے وتر میں اگر تداعی کے طور پر ہو تو مکروہ ہے۔ تداعی کے یہ معنی ہیں کہ تین سے زیادہ مقتدی ہوں ۔ سورج گہن میں جماعت سنت ہے اور چاند گہن میں تداعی کے ساتھ مکروہ”
(بہار شریعت حصہ ٣ ص ۵٨٢ )
اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “تراویح وکسوف واستسقاء کے سوا جماعت نوافل میں ہمارے ائمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کامذہب معلوم ومشہور اور عامہ کتب مذہب میں مذکور ومسطور ہے کہ بلاتداعی مضائقہ نہیں اور تداعی کے ساتھ مکروہ ۔ تداعی ایک دوسرے کوبلاناجمع کرنا اور اسے کثرتِ جماعت لازم عادی ہے اور اس کی تحدید امام نسفی وغیرہ نے کافی میں یوں فرمائی کہ امام کے ساتھ ایک دوشخص تک بالاتفاق بلاکراہت جائز ، اور تین میں اختلاف، اور چارمقتدی ہوں تو بالاتفاق مکروہ”(فتاوی رضویہ ج٣ ص ۴٦۴)
صلاة التسبیح کی نماز اگر “تداعی” کے بغیرجماعت سے پڑھی جائے تو اس کی جماعت کا طریقہ وہی ہوگا جو دیگر نمازوں کی جماعت کا طریقہ ہے ۔ یہاں یہ ملحوظ رہے کہ اگر عوام چار سے زیادہ مقتدیوں کے ساتھ جماعت کریں تو شرعی مصلحت یہی ہے کہ انھیں منع نہ کیا جائے ۔ امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “نفل غیرتراویح میں امام کے سوا تین آدمیوں تک تواجازت ہے ہی، چار کی نسبت کتب فقہیہ میں کراہت لکھتے ہیں، یعنی کراہت تنزیہ، جس کا حاصل خلاف اولٰی ہے، نہ کہ گناہ حرام ، کما بیناہ فی فتاوٰنا۔مگرمسئلہ مختلف فیہ ہے اور بہت اکابرِ دین سے جماعتِ نوافل بالتداعی ثابت ہے اور عوام فعلِ خیر سے منع نہ کئے جائیں گے، علمائے امت وحکمائے ملت نے ایسی ممانعت سے منع فرمایا ہے،درمختارمیں ہے:اما العوام فلایمنعون من تکبیر والتنفل اصلا لقلۃ رغبتھم فی الخیرات بحر”(فتاوی رضویہ ج ٣ص ۴٧٩)
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ کتبہ:محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔بستی۔ یوپی۔ ٢٩/رمضان المبارک ١۴۴٢//١٢/مئی ٢٠٢١ءنماز فجر اور عصر کے بعد سجدہ تلاوت کا حکم
نماز عصر کے بعد قضا پڑھنے کا حکم / عصر کے بعد نفل
Kutubahu & Verified by:
<strong><span style="font-size: 18pt;">کیاصلاة التسبیح جماعت کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں؟از مفتی محمد نظام الدین قادری دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی</span></strong> <span style="font-size: 14pt;">السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ </span> <span style="font-size: 14pt;">کیا فرماتے ہیں علماےدین مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ</span> <span style="font-size: 14pt;">صلاۃ التسبیح جماعت کے ساتھ پڑھنا یا پڑھانا درست ہے یا نہیں اگر ہے تو جماعت کاطریقہ کیا ہوگا ؟</span> <span style="font-size: 14pt;">المستفتی: محمدرضاعلیمی ببھنان</span> <hr /> <span style="font-size: 14pt;">الجواب: </span> <span style="font-size: 14pt;">صلاة التسبیح ایک نفل نماز ہے اور نماز تراویح ، نمازِ استسقاء اور نماز کسوف (سورج گہن کی نماز)کے علاوہ نفل نماز کی جماعت "تداعی" کے ساتھ مکروہ ہے۔ "تداعی" کا مطلب یہ ہے کہ تین سے زیادہ مقتدی ہوں۔ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:</span> <span style="font-size: 14pt;">"جمعہ و عیدین میں جماعت شرط ہے اور تراویح میں سُنت کفایہ کہ محلہ کے سب لوگوں نے ترک کی تو سب نے بُرا کیا اور کچھ لوگوں نے قائم کر لی تو باقیوں کے سر سے جماعت ساقط ہوگئی اور رمضان کے وتر میں مستحب ہے، نوافل اور علاوہ رمضان کے وتر میں اگر تداعی کے طور پر ہو تو مکروہ ہے۔ تداعی کے یہ معنی ہیں کہ تین سے زیادہ مقتدی ہوں ۔ سورج گہن میں جماعت سنت ہے اور چاند گہن میں تداعی کے ساتھ مکروہ" </span> <h4 style="text-align: left;"><span style="font-size: 14pt;">(بہار شریعت حصہ ٣ ص ۵٨٢ )</span></h4> <span style="font-size: 14pt;">اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں:</span> <span style="font-size: 14pt;">"تراویح وکسوف واستسقاء کے سوا جماعت نوافل میں ہمارے ائمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کامذہب معلوم ومشہور اور عامہ کتب مذہب میں مذکور ومسطور ہے کہ بلاتداعی مضائقہ نہیں اور تداعی کے ساتھ مکروہ ۔ </span> <span style="font-size: 14pt;">تداعی ایک دوسرے کوبلاناجمع کرنا اور اسے کثرتِ جماعت لازم عادی ہے اور اس کی تحدید امام نسفی وغیرہ نے کافی میں یوں فرمائی کہ امام کے ساتھ ایک دوشخص تک بالاتفاق بلاکراہت جائز ، اور تین میں اختلاف، اور چارمقتدی ہوں تو بالاتفاق مکروہ" </span> <h4 style="text-align: left;"><span style="font-size: 14pt;">(فتاوی رضویہ ج٣ ص ۴٦۴)</span></h4> <span style="font-size: 14pt;">صلاة التسبیح کی نماز اگر "تداعی" کے بغیرجماعت سے پڑھی جائے تو اس کی جماعت کا طریقہ وہی ہوگا جو دیگر نمازوں کی جماعت کا طریقہ ہے ۔</span> <span style="font-size: 14pt;">یہاں یہ ملحوظ رہے کہ اگر عوام چار سے زیادہ مقتدیوں کے ساتھ جماعت کریں تو شرعی مصلحت یہی ہے کہ انھیں منع نہ کیا جائے ۔ </span> <span style="font-size: 14pt;">امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں:</span> <span style="font-size: 14pt;">"نفل غیرتراویح میں امام کے سوا تین آدمیوں تک تواجازت ہے ہی، چار کی نسبت کتب فقہیہ میں کراہت لکھتے ہیں، یعنی کراہت تنزیہ، جس کا حاصل خلاف اولٰی ہے، نہ کہ گناہ حرام ، کما بیناہ فی فتاوٰنا۔مگرمسئلہ مختلف فیہ ہے اور بہت اکابرِ دین سے جماعتِ نوافل بالتداعی ثابت ہے اور عوام فعلِ خیر سے منع نہ کئے جائیں گے، علمائے امت وحکمائے ملت نے ایسی ممانعت سے منع فرمایا ہے،درمختارمیں ہے:اما العوام فلایمنعون من تکبیر والتنفل اصلا لقلۃ رغبتھم فی الخیرات بحر" </span> <h4 style="text-align: left;"><span style="font-size: 14pt;">(فتاوی رضویہ ج ٣ص ۴٧٩)</span></h4> <span style="font-size: 14pt;">واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔</span> <span style="font-size: 14pt;">کتبہ:محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔بستی۔ یوپی۔</span> <span style="font-size: 14pt;">٢٩/رمضان المبارک ١۴۴٢//١٢/مئی ٢٠٢١ء</span> <!--more--> <hr /> <h2 class="entry-title"><a href="https://urdu.masailworld.com/?p=271" rel="bookmark">نماز فجر اور عصر کے بعد سجدہ تلاوت کا حکم</a></h2> <h2 class="entry-title"><a href="https://urdu.masailworld.com/?p=261" rel="bookmark">نماز عصر کے بعد قضا پڑھنے کا حکم / عصر کے بعد نفل</a></h2>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...